دعوتی شعور کا فقدان
Al-Risala, August 2010, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
امتِ مسلمہ کا اصل فریضہ شہادت ، یعنی دعوت الی اللہ ہے، مگر موجودہ زمانے کے تمام مسلح علماء اور مسلم رہنما اس باب میں انحراف کا شکار ہو گئے ۔ یہ انحراف اب اس درجہ کو پہنچا ہے کہ امتِ محمدی نے اپنی اصل حیثیت ہی کھودی ہے۔ اب پوری امت عام قوموں کی طرح ایک قوم بن گئی ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں ایک دعوتی جماعت ۔ ذیل میں اس معاملے کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ شیخ محمد عبدہ کی مثال سید جمال الدین افغانی (وفات : 1897ء) کا زمانہ یورپی نو آبادیات (colonialism) کا زمانہ تھا، اُن کے زمانے میں برطانیہ اور فرانس کی فوجیں مسلم ملکوں میں داخل ہوگئیں اور وہاں اپنا تہذیبی اور سیاسی غلبہ قائم کر لیا۔
سید جمال الدین افغانی غیر معمولی صلاحیت کے آدمی تھے، وہ عربی کے علاوہ کئی عالمی زبانیں جانتے تھے۔ ان کو 59 سال کی عمر ملی، انھوں نے اپنی پوری زندگی برطانوی استعمار کے خلاف سیاسی لڑائی میں گزار دی ۔
مصر اور عالم عرب میں ان کو کوئی اعلیٰ صلاحیت کے ساتھی ملے، ان میں سے ایک ممتاز نام شیخ محمد عبدہ (وفات: 1905) کا ہے۔ وہ ایک بڑے عرب عالم تھے۔ انھوں نے فرنچ زبان بھی سیکھی یورپی استعمار (colonialism) کے زمانے میں وہ بھی استعمار کے خلاف سیاسی لڑائی میں شامل ہو گئے ۔ وہ سید جمال الدین افغانی کے ممتاز شاگردوں میں سے تھے۔
انیسویں صدی کے آخر میں سید جمال الدین افغانی اور مفتی محمد عبدہ سفر کر کے پیرس (Paris) گئے ، وہاں سے انھوں نے ایک عربی جریدہ العروة الوثقی (The Firmest Bond) جاری کیا۔ یہ جریدہ صرف 18 شماروں کے بعد بند ہو گیا۔
پیرس کے زمانہ قیام (1884ء) میں سید جمال الدین افغانی اور شیخ محمد عبدہ کے درمیان
اختلاف پیدا ہو گیا ۔ شیخ محمد عبدہ کا خیال تھا کہ ہم لمبی مدت سے استعمار کے خلاف سیاسی لڑائی میں مصروف ہیں ، لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا ، اب ہم کو یہ سیاسی کام چھوڑ کر کوئی نتیجہ خیز تعمیری کام کرنا سید جمال الدین افغانی اس نقطۂ نظر سے اتفاق نہ کر سکے ، اس کے بعد شیخ محمد بن عبدہ نے سید جمال الدین افغانی کا ساتھ چھوڑ دیا۔
وہ 1899 ء میں مصر واپس آ گئے ۔ انھوں نے مصر میں قاہرہ کے قریب ایک بڑی جگہ حاصل کی اور جمعية إحيَاء العلوم العربية لنشر المخطوطات کے نام سے وہاں 1900ء میں ایک ادارہ قائم کیا ، مگر وہ زیادہ مدت تک اس ادارہ کی خدمت نہ کر سکے ۔ 56 سال کی عمر میں 1905 میں قاہرہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔
سید جمال الدین افغانی اور شیخ محمد عبدہ دونوں نہایت اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے ، لیکن ان کی صلاحیتیں صحیح سمت میں استعمال ہونے سے رہ گئیں۔ اس واقعہ کا جو پہلو زیادہ عبرت ناک ہے ، وہ یہ ہے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو دعوت الی اللہ کے کام میں استعمال نہ کر سکے۔ مغربی قومیں ان کے لئے مدعو گروہ کا درجہ رکھتی تھیں ۔ ان کا فرض تھا کہ وہ ان قوموں کو اللہ کے دین کی طرف بلائیں ، لیکن انھوں نے ان قوموں کو صرف جنگ و جہاد کا موضوع سمجھا ، نہ کہ دعوت الی اللہ کا موضوع ۔ ان قوموں کو مدعو کے بجائے دشمن کا درجہ دے دیا۔
شیخ محمد عبدہ کے لئے پیرس سے واپسی ایک نیا موڑ بن سکتی تھی ، لیکن مغربی قوموں سے سیاسی لڑائی چھیڑنے کے بعد دوسرا کام جو انھیں نظر آیا ، وہ صرف اپنی قوم کی اصلاح تھی ، نہ کہ مدعو گروہ کو اللہ کا پیغام پہنچانا ۔ یہی وہ غلطی ہے جس میں موجودہ زمانے کے تمام مسلم علماء اور مسلم رہنما مبتلا ہوئے ۔