Al-Risala · August 2010

مولا نا محمود حسن دیوبندی کی مثال

Al-Risala, August 2010, pp. 15–17

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا محمودحسن (وفات: 1920ء) جن کو شیخ الہند کہا جاتا ہے ، وہ دیوبند کے اکابر علماء میں ان کے زمانے میں انڈیا میں برطانیہ کا سیاسی اقتدار قائم ہوا۔ دوسرے علماء کی طرح مولانا

محمود حسن دیوبندی برطانیہ کے خلاف سرگرم سیاسی لڑائی میں مشغول ہو گئے، یہاں تک کہ برطانی حکومت نے ان کو گرفتار کر کے مالٹا کے قلعہ میں نظر بند کر دیا۔

وہاں وہ 3 سال سے زیادہ مدت تک رہے۔ اس دوران وہ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوگئے، چناں چہ ان کو رہا کر کے انڈیا واپس بھیج دیا گیا۔ یہ واقعہ جون 1920 کا ہے۔ حسن دیوبندی مالٹا سے واپس آکر دیوبند میں مقیم ہو گئے ۔ ان کے شاگرد خاص مفتی محمد شفیع عثمانی (وفات: 1976) کا بیان ہے کہ:

” مالٹا کی قید سے واپس آنے کے بعد حضرت ایک رات بعد عشاء دار العلوم میں تشریف فرما تھے، علماء کا بڑا مجمع سامنے تھا، اس وقت فرمایا کہ ہم نے تو مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں۔ سن کر سارا مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا کہ اس استاذ العلما ء، درویش نے لمبی مدت تک علماء کو درس دینے کے بعد آخر میں جو سبق سیکھے ہیں وہ کیا ہیں۔ حضرت شیخ الہند نے فرمایا کہ— میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے، ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا، دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ اس لئے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے، بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی میں قائم کئے جائیں، بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے، اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لئے آمادہ کیا جائے، اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے“۔ (جماعت شیخ الہند اور تنظیم اسلامی، از ڈاکٹر اسرار احمد، صفحہ 346) مولانا محمود حسن دیوبندی جب مالٹا کی اسیری سے واپس آئے تو وہ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو چکے تھے۔ 1920 میں دیوبند میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت ان کی عمر 69 سال تھی۔ مولانا محمود حسن دیوبندی کا معاملہ بھی وہی تھا جو دوسرے علماء کا تھا۔ اپنے قومی اور سیاسی فکر کی بنا پر وہ بھی ثنائی طرز فکر (dichotomic thinking) میں مبتلا تھے۔ وہ صرف دو انتخاب (options)

کو جانتے تھے ؀یا انگریزوں سے سیاسی لڑائی، یا مسلم ملت کی خدمت۔

قرآن اور حدیث کے عالم ہونے کے باوجود ان کو تیسرے انتخاب کا علم نہ تھا، وہ یہ کہ انگریزوں کو ایک مدعو قوم سمجھنا، اور ان کے سامنے حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ پر امن طور پر دینِ حق کا مذکورہ دو مثالوں میں سے ایک عرب سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری عجم سے۔ بطور نمونہ ہیں۔ اسی پر موجودہ زمانے کی پوری مسلم ملت کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانے کے تمام مسلم علماء اور مسلم رہنما ایک ہی مشترک غلطی میں مبتلا ہوئے، اور وہ ہے دعوت الی اللہ کے فریضہ سے غافل ہو جانا۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں، حقیقت یہ ہے کہ امتِ محمدی، پیغمبر کی وفات کے بعد پیغمبر کے قائم مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔

امتِ محمدی کو وہی دعوتی ذمہ داری انجام دینا ہے جس کو پیغمبر نے اپنے زمانے میں انجام دیا تھا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اگر اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا نہ کرے تو اللہ کی نظر میں اس کی پیغمبرانہ حیثیت ہی غیر متحقق ہو جاتی تھی (المائدة: 67)۔ اسی طرح امتِ محمدی اپنی ذمہ داری کو ادا نہ کرے تو اس کا امتِ محمدی ہونا غیر متحقق ہو جائے گا۔

ہندی ترجمہ قرآن زیرِ نظر ترجمہ، ہندی زبان میں قرآن کا سلیس اور آسان عوام الناس کا خیال رکھتے ہوئے ہندی کے مشکل الفاظ سے اجتناب کیا گیا ہے۔

Printed page