کشتیٔ نوح کی دریافت
Al-Risala, August 2010, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت نوح ابتدائی دور کے پیغمبر ہیں۔ ان کی بعثت عراق کے علاقہ میسوپوٹامیہ (Mesopotamia) میں ہوئی۔ لمبی مدت تک دعوت و تبلیغ کے باوجود بہت کم لوگ اُن پر ایمان لائے، یہاں تک کہ ایک عظیم طوفان کے ذریعے پوری قوم کو تباہ کر دیا گیا۔ اُس وقت اللہ کے حکم سے حضرت نوح نے ایک بڑی کشتی بنائی۔ حضرت نوح نے اس کشتی میں اُس وقت کے تمام اہلِ ایمان کو بٹھایا۔ طوفان میں بہتی ہوئی یہ کشتی آخر کار مشرقی ترکی کے پہاڑ ارارات (Ararat) پر ٹھہر گئی ۔ اس کے بعد اس میں بیٹھے ہوئے تمام لوگ کشتی سے نکل کر مختلف علاقوں میں آباد ہو گئے۔ یہ واقعہ پانچ ہزار سال پہلے کا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا تھا کہ یہ کشتی محفوظ رہے گی اور بعد کے زمانے میں دریافت ہو کر لوگوں کے لیے نشانی (sign) بن جائے گی۔ قرآن کی سورہ نمبر 54 میں حضرت نوح کے تذکرہ کے بعد یہ آیت آئی ہے: ولقد تركناها آيةً فهل من مدكّر (القمر: 15) یعنی ہم نے اس (کشتی) کو نشانی کے لیے چھوڑ دیا، پھر کوئی ہے سوچنے والا۔ قرآن کی سورہ نمبر 29 میں ان الفاظ میں آئی ہے: وجعلناها آيةً للعالمين (العنكبوت: 15) یعنی پھر ہم نے اس (کشتی) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔
انیسویں صدی کے آخر میں جب ہوائی پرواز کا زمانہ آیا تو کچھ لوگوں نے ارارات پہاڑ کے اوپر پرواز کرتے ہوئے گلیشیر کے اندر چھپی ہوئی ایک کشتی کے آثار دیکھے۔ لیکن بار بار کوشش کے باوجود اس معاملے میں کچھ زیادہ معلومات حاصل نہ ہو سکیں۔
اکیسویں صدی میں جب گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں گلیشیر پگھلنے لگے تو ہوائی پرواز کے دوران معلوم ہوا کہ کوہ ارارات پر ایک پوری کشتی موجود ہے۔ اس کے بعد وہاں چین اور ترکی کے مسیحیوں کا ایک گروپ پہنچا۔ ان کے پاس جدید آلات تھے۔ چناں چہ انھوں نے کاربن ڈیٹنگ (carbon dating) کے ذریعے مذکورہ کشتی کی عمر معلوم کی۔ اب معلوم ہوا کہ یہ کشتی عین اُسی زمانے کی
ہے، جب کہ یہاں طوفانِ نوح آیا۔ اس دریافت کی رپورٹ میڈیا میں آچکی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبارٹائمس آف انڈیا (28 اپریل 2010) میں اس کی تفصیل حسب ذیل الفاظ میں شائع ہوئی ہے: قربِ قیامت کی نشانیوں میں غالباً یہ سب سے زیادہ واضح نشانی ہے۔ انسان ہزاروں سال سے لکڑی کے ذریعے کشتی بنا رہا ہے۔ قدیم زمانے کی کشتیوں میں سے اب کوئی بھی کشتی دنیا میں محفوظ نہیں، کیوں کہ لکڑی کچھ دنوں کے بعد فطری طور پر بوسیدہ ہو کر ختم ہو جاتی ہے۔ کشتیوں کی تاریخ میں حضرت نوح کی کشتی ایک استثنا (exception) ہے۔ اس استثنا کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو تھا۔ صرف اللہ کو معلوم تھا کہ یہ کشتی طوفان میں بہتی ہوئی پہاڑ کے اوپر پہنچ جائے گی، پھر فطری عمل کے تحت وہ برف کے ذخائر (گلیشیر) کے نیچے دب جائے گی اور اس طرح وہ محفوظ رہے گی۔ یہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بیسویں صدی کے آخر میں گلوبل وارمنگ کا معاملہ پیش آئے گا اور پہاڑ کے اوپر برف پگھلنا شروع ہو جائے گی، یہاں تک کہ کشتی نوح صاف دکھائی دینے لگے گی۔ اکیسویں صدی میں کشتی نوح کا سامنے آجانا اس بات کی علامت ہے کہ جس طرح پانچ ہزار سال پہلے ایک بڑے طوفان کے ذریعے اُس وقت کی آبادی ختم ہوگئی تھی، اسی طرح اب ایک اور زیادہ بڑا طوفان آنے والا ہے جس میں تمام انسان ختم ہو جائیں گے اور صرف وہ لوگ بچیں گے جن کو اللہ اپنی جنت میں آباد کرنے کے لیے منتخب کرےے۔