فتوٰی اور فتوٰی ایکٹوزم
Al-Risala, August 2010, pp. 22–24
By Maulana Wahiduddin Khan
فتوٰی کے لفظی معنی ہیں— رائے (opinion)— ایک شخص اپنے کسی ذاتی مسئلے کے بارے میں ایک عالم سے اس کی رائے پوچھے اور وہ عالم اپنے علم کے مطابق ، اس مسئلے کے بارے میں شرعی رائے دے، تو اسی کا نام فتوٰی ہے۔ اسلام کے دورِ اول میں اسی قسم کے فتوے کا رواج تھا۔ زمانے میں فتوٰی کی جو توسیع (extention) ہوئی ہے، وہ ایک قسم کی بدعت ہے۔
فتوٰی، اسلام میں قضاء کی طرح ، کوئی انسٹی ٹیوشن (institution) نہیں، وہ کسی مسئلے میں صرف ایک عالم کی رائے کا اظہار ہے۔ کوئی انسان اگر کسی دوسرے شخص یا کسی دوسری جماعت کے بارے میں فتوٰی پوچھے، تو یہ فتوٰی کا غلط استعمال ہوگا۔ اس قسم کے استفتاء کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ برائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اصلاحی فتوٰی ، اسلام میں کوئی چیز نہیں۔ اسلام میں اصلاح کا طریقہ نصیحت اور تبلیغ ہے، نہ کہ فتوٰی جاری کرنا۔
آج کل یہ حال ہے کہ مسلم معاشرے میں کسی خرابی کے حوالے سے فتوے جاری کیے جاتے یہ فتوٰی نہیں ہے، بلکہ فتوٰی ایکٹوزم (Fatwa Activism) ہے۔ اب چوں کہ میڈیا کا زمانہ ہے، اس قسم کے فتوے میڈیا میں جگہ پا کر اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ فتوٰی ایکٹوزم کا نقصان تو ضرور ہے، لیکن اُس کا کوئی مثبت فائدہ نہیں۔
صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے میں فتوٰی پوچھنے والے اور مفتی دونوں مصلح کا کردار ادا کریں۔ وہ غلطی میں مبتلا لوگوں کے لیے دعا کریں، وہ ہمدردی کے ساتھ ان کو نصیحت کریں، وہ اُن سے مل کر معلوم کریں کہ ان کی سوچ کیا ہے، ان کا ذہن کہاں اٹکا ہوا ہے اور پھر ان سے اس طرح کلام کریں جس سے ان کا ذہن ایڈرلیس ہو، ان کے اندر نئی سوچ جاگے، وہ اپنی زندگی کو بدلیں اور اپنی اصلاح کریں۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے اسلام میں تبلیغ و نصیحت کا طریقہ ہے، نہ کہ فتوٰی جاری کرنے کا طریقہ۔
قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایسے کام کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں جس کام کو انھوں نے کیا ہی نہیں (آل عمران : 188)۔ قرآن کی یہ آیت موجودہ زمانے کے فتویٰ پوچھنے والے اور فتویٰ دینے والے دونوں طرح کے لوگوں پر صادق آتی ہے۔ یہ لوگ کسی دوسرے کی برائی کو بتا کر اُس کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہیں۔
یہ عین وہی روش ہے جس کا ذکر قرآن کی مذکورہ آیت میں کیا گیا ہے، یعنی وہ فتویٰ جاری کر کے اصلاح کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں، حالاں کہ اصلاح کا کریڈٹ صرف اُس انسان کے لیے مقدر ہے جو ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ نصیحت کا فریضہ انجام دے۔
فتویٰ ایکٹوزم کی سب سے زیادہ ناپسندیدہ صورت وہ ہے جس کو تکفیر کہا جاتا ہے، امام نووی (وفات: 1277ء) نے لکھا ہے کہ: واعلم أن مذهب أهل الحق أنه لا يكفر أحد من أهل القبلة (صحیح مسلم بشرح النووی، جلد 1، صفحہ 150)
یعنی علما حق کا یہ مسلک ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تکفیر کا طریقہ سرے سے اختیار نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہو سکتا جو کعبہ کے سوا کسی اور چیز کو اپنا قبلہ عبادت بنا لے۔
اسلام کی تاریخ میں تین دور کو ’’قرون مشهود لها بالخير‘‘ کہا گیا ہے، یعنی— دورِ رسالت ، دورِ صحابہ، دورِ تابعین ۔ یہ تین دورِ اسلام میں ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان تینوں دور میں فتویٰ ایکٹوزم یا تکفیر کا طریقہ کبھی اختیار نہیں کیا گیا۔ بلاشبہ اسلام کے ماڈل سے انحراف کے ہم معنی ہے۔
اسلام کے دورِ اول میں سارا زور نصیحت و تبلیغ پر دیا جاتا تھا، کیوں کہ مطلوب نتیجہ صرف نصیحت و تبلیغ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ فتویٰ جاری کرنے سے۔ کسی شخص یا اجتماعی بگاڑ کو لے کر اس کے خلاف فتویٰ دینا، اُس وقت شروع ہوا جب کہ مسلمانوں میں دعوت و تبلیغ کا ذہن ختم لوگ برائی کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کو کافی سمجھنے لگے۔ یہ طریقہ بلاشبہ قابلِ ترک ہے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ یہ طریقہ صرف منفی نتیجہ پیدا کر رہا ہے، اور جو طریقہ منفی نتیجہ پیدا کرے، وہ بلاشبہ اس قابل ہے کہ اس کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے۔
نصیحت اور تذکیر (admonition) کے اس طریقے کو آج کل کی زبان میں ایجوکیشنل ایکٹوزم (educational activism) کہا جا سکتا ہے، یعنی تعلیم اور تربیت کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کرنا، لوگوں کے ذہن کو بدلنے کی کوشش کرنا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اصلاحِ معاشرہ کے بارے میں اسلام کا اصول ایجوکیشنل ایکٹوزم پر مبنی ہے نہ کہ فتویٰ ایکٹوزم پر۔ اس معاملے میں ایک رہنما مثال وہ ہے جس کا ذکر صحیح بخاری میں آیا ہے۔ کہتی ہیں کہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں قرآن کی جو آیتیں اتریں، ان میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا، تا کہ لوگوں کے دلوں میں اسلام کے بارے میں نرم گوشہ پیدا ہو اور لوگوں کے اندر ذہنی آمادگی اس طرح جب قبولیت (acceptance) کی استعداد پیدا ہوگئی تو اس کے بعد قرآن میں اترا کہ زنا چھوڑ دو، اور شراب چھوڑ دو۔ ایسا حکم اگر پہلے اترتا تو لوگ اس کی تعمیل نہ کرتے، بلکہ وہ کہتے کہ ہم تو زنا نہ چھوڑیں گے، ہم تو شراب نہ چھوڑیں گے (لا ندع الزنا أبداً، ولا ندع الخمر أبداً)۔
اس سے معلوم ہوا کہ عمومی اصلاح کا کام فتویٰ یا حکم جاری کرنے سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کام کے لیے سب سے پہلے لوگوں کے اندر قبولیت کی استعداد پیدا کی جاتی ہے، اس کے بعد ان کو حکم دیا جاتا استعداد پیدا کیے بغیر حکم دینا، کسی بھی درجے میں مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ Kahaniyan Quran Se سے کہانیان قرآن Saturday 8.30 pm, Sunday 9.30 am Monday 4.00 pm, Friday 3.00 am (Zee Salaam is available on Dish TV channel no. 786)