مسلم پرسنل لا کا مسئلہ
Al-Risala, August 2010, pp. 28–32
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم پرسنل لا (Muslim Personal Law) کا لفظ بظاہر ایک عمومی لفظ ہے، لیکن عملاً اُس سے مراد زیادہ تر نکاح و طلاق کے قوانین ہیں۔ اسلامی شریعت کی رو سے نکاح و طلاق کے قوانین مقدس قوانین کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ ناقابلِ تغیر شرعی قوانین پر مبنی ہیں۔ میں شریعت کے جو قوانین ہیں، وہ ابدی ہیں اور ہر معاشرے اور ہر زمانے میں یکساں طور پر قابلِ انطباق ہیں۔
نکاح و طلاق کے بارے میں شرعی قوانین کی یہی خصوصی نوعیت اس بات میں مانع ہے کہ اُن کو سیکولر حکومت کے عدالتی نظام کی ماتحتی میں دے دیا جائے۔ سیکولر عدالتی نظام کی بنیاد وضعی قوانین (subject to change) (man-made laws) پر ہوتی ہے، اور وضعی قوانین ہمیشہ تبدیلی کا موضوع اُن کو کسی بھی وقت ممبران اسمبلی کی کثرتِ راۓ سے بدلا جا سکتا ہے۔ اس بنا پر مسلمانوں کے نکاح و طلاق کے مسئلے کو وضعی قوانین کے تابع کرنا اصولاً درست نہیں۔ موجودہ سیکولر دور سے پہلے اس مسئلے نے کوئی نزاکت اختیار نہیں کی تھی۔ جن ملکوں میں مسلم حکومتیں قائم تھیں، وہاں ہمیشہ قاضی کا عہدہ ہوا کرتا تھا۔ یہ قاضی مسلمانوں کے نکاح و طلاق کے مسائل کا فیصلہ شرعی قوانین کی روشنی میں دیتے تھے۔ یہ نظام اب بھی کسی حد تک مسلم ملکوں میں جاری ہے۔
آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان ہندوستان میں آئے۔ اُس وقت یہاں ہندو راجاؤں کی مسلمانوں نے ہندو راجاؤں سے درخواست کی کہ ایسا نظام بنایا جائے جس کے تحت مسلمان اپنے عائلی مسائل کا فیصلہ شرعی قانون کی روشنی میں حاصل کر سکیں۔ راجاؤں نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے مسلم قاضی کا تقرر کیا، جس کو اُس زمانے میں ’’ہنرمین‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ لفظ غالباً ’’ہنر مند‘‘ کی بدلی ہوئی شکل ہے۔
ہندوستان میں جب مسلم سلطنتیں قائم ہوئیں تو انھوں نے یہاں مسلم قاضی مقرر کئے ۔ یہ قاضی ، مسلمانوں کے عائلی مسائل کا فیصلہ شریعت کی روشنی میں دیتے تھے۔ یہ سلسلہ مغل عہد کے خاتمہ اور برٹش عہد کے آغاز تک جاری رہا۔
ہندوستان میں برٹش دورِ حکومت باقاعدہ طور پر انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں اس کے بعد دھیرے دھیرے قاضی کا عہدہ ختم ہوگیا۔ تاہم مسلم رہنماؤں کے مطالبے پر برٹش حکومت نے ایک قانون ’’محمدن لا‘‘ کے نام سے پاس کیا۔ یہ محمدن لا زیادہ تر حنفی فقہ کی روشنی میں تیار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ مسلمانوں کے عائلی مسائل کا فیصلہ محمدن لا کے تحت کیا جانے لگا۔ اس کے لیے علاحدہ قاضی نہیں ہوتے تھے، بلکہ عام ملکی عدالتیں ہی یہ کام انجام دیتی تھیں ۔
1947 میں جب ہندوستان آزاد ہوا تو یہ نظام بھی عملاً معطل ہوگیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد (وفات: 1958) حکومت ہند میں وزیرِ تعلیم تھے۔ مولانا آزاد کی کوششوں سے ، دہلی میں ایک ’’اسپیشل جج ‘‘ کا تقرر کیا گیا۔ یہ اسپیشل جج با اختیار رنج تھا اور وہ مسلمانوں کے نکاح وطلاق کے معاملات کا فیصلہ شریعت کی روشنی میں کرتا تھا۔ آزادی کے بعد پہلے اسپیشل جج کے طور پر سید عزیز شفیع کا تقرر ہوا۔ ان کی زندگی تک یہ عہدہ جاری رہا۔ لیکن 1979 میں ان کی موت کے بعد اس کا بھی خاتمہ ہوگیا۔
1947 کے بعد اس سلسلے میں مسلمانوں کے مختلف غیر سرکاری ادارے قائم ہوئے ۔ اداروں کو دارالافتاء اور دار القضاء کہا جاتا ہے۔ انھیں میں سے ایک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بھی اس کا قیام 1973 میں عمل میں آیا۔ لیکن یہ انتظامات اصل ضرورت کی نسبت سے ناکافی تھے، چناں چہ وہ مطلوب شرعی ضرورت کو پورا نہ کرسکے۔ کیوں کہ اُن میں سے کسی ادارے کا فیصلہ قانونی اعتبار سے، بائنڈنگ فیصلے کی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔
یہ مسئلہ بلاشبہ ایک نازک شرعی مسئلہ ہے۔ اُس کا حقیقی حل تلاش کرنا علماء کی ذمے داری ہے۔
احتجاج اور مطالبات کی نوعیت کی تحریکیں کسی بھی درجے میں اس مسئلے کا حل نہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک ، سیکولر ہندوستان کے پس منظر میں ، اس مسئلے کے حل کی دو ممکن صورتیں ہیں : 1 - اس مسئلے کا پہلا حل یہ ہے کہ ملک میں جامع نوعیت کا ایک دار القضاء قائم کیا جائے ۔ دار القضاء کا جزئی تجربہ ریاست بہار میں کیا گیا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دار القضاء کا تصور مکمل طور پر ایک رضا کارانہ تصور ہے۔ دار القضاء کی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ مسلمان اُس کے فیصلے کو لازماً قبول کر لیں ، خواہ وہ اُن کے موافق ہو ، یا اُن کے خلاف ۔ اس نوعیت کا دار القضاء صرف اُس وقت عملی صورت اختیار کر سکتا ہے ، جب کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں اتنی بیداری لائی جاچکی ہو کہ وہ خود اپنے اختیار سے ، دار القضاء کے فیصلے کو برضا ورغبت قبول کر لیں ۔ مگر تادم تحریر (17 مارچ 2010) مسلمانوں میں یہ مزاج پیدا نہیں ہوا ، اس لیے عملاً دار القضاء کا تصور صرف محدود طور پر قابل عمل ہوسکتا ہے ، وہ عمومی طور پر مسلمانوں کے مسئلے کا حل نہیں۔
2 - دوسری صورت یہ ہے کہ برٹش دور کی طرح ، دوبارہ مسلمانوں کے نکاح وطلاق کے مسئلے کو شرعی بنیاد پر حل کرنے کے لیے ہندوستانی پارلیامنٹ سے ایک باقاعدہ ایکٹ پاس کرایا جائے ، اور تمام ریاستی اسمبلیاں اس ایکٹ کی تصدیق کر دیں ۔ موجودہ مسئلے کا یہی مؤثر قانونی حل ہے۔ جہاں تک میرا اندازہ ہے ، ہندوستان میں یہ قانون اُسی طرح بن سکتا تھا ، جس طرح وہ برٹش دور میں بنا تھا ، مگر ہندوستان کے علماء نے اس معاملے میں غیر حقیقت پسندانہ موقف اختیار کیا ۔ انھوں نے تحفظ شریعت کے نام پر ہندوستان کے سیکولر نظام کے خلاف پُر شور احتجاجی تحریکیں شروع کر دیں ۔
یہ طریقہ صرف حالات کو بگاڑنے کا سبب بنا۔ اگر ہندوستانی علماء باقاعدہ طور پر یہ کوشش کرتے کہ ہندوستان کی پارلیامنٹ اس معاملے میں ماڈرن لا کے پیٹرن پر زیادہ بہتر ایک قانون وضع کردے ، تو یقینی طور پر یہاں اس قسم کا قانون بن سکتا تھا۔
لیکن اس قسم کی تعمیر کی کوشش نہ اُس دور میں ہوئی جب کہ ہندوستان میں مولانا ابوالکلام آزاد اور جواہر لال نہرو (وفات : 1964) جیسے اعتدال پسند لیڈر موجود تھے، نہ بعد کے زمانے میں اس رخ پر کوئی سنجیدہ کوشش انجام دی گئی۔
اس معاملے کی ایک مثال شاہ بانو کیس ہے۔ شاہ بانو کو اس کے شوہر محمد احمد نے طلاق دیا۔ کے بعد شاہ بانو اس کیس کو ملکی عدالت میں لے گئی۔ کئی سال کی عدالتی کارروائی کے بعد 1985 میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس مسٹروی چندر راچوڑ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ اس فیصلے کے تحت شاہ بانو کو یہ حق دیا گیا تھا کہ شاہ بانو کا سابق شوہر گزرارے کے طور پر اس کو 180 روپے ماہانہ ادا کرے۔ یہ فیصلہ کرمنل پروسیجر کوڈ (criminal procedure code) کی دفعہ 125 کے تحت دیا گیا تھا۔
علماء نے اس فیصلے کو "شریعت میں مداخلت‘‘ قرار دیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت اس کے خلاف ملکی پیمانے پر جلوس واحتجاج کی پرشور تحریک چلائی گئی، یہاں تک کہ علماء کے مطالبے کے تحت 1986 میں انڈیا کی پارلیامنٹ نے ایک ایکٹ پاس کیا۔ اس کا نام مسلم مطلقہ ایکٹ تھا۔ اس ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد علماء نے "یوم فتح‘‘ منایا، لیکن بہت جلد ان کو معلوم ہوا کہ یہ قانون ان کی توقعات کو پورا نہیں کرتا۔ علماء کا مطالبہ یہ تھا کہ مسلم مطلقہ خاتون کو دفعہ 125 کے مذکورہ ملکی قانون سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ اس قسم کا استثناء سرے سے ممکن ہی نہ تھا، کیوں کہ وہ واضح طور پر دستور ہند کے خلاف تھا۔ اس کے بعد علماء کو چاہیے تھا وہ اپنی نادانی کا اعلان کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ اپنے حجروں میں واپس چلے جائیں۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ بدستور مسلمانوں کے سیاسی اسٹیج پر اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یہ کام بلاشبہ ایک نازک کام ہے اور اُس کو صرف ہوش مندانہ کوشش کے ذریعے انجام دیا جاسکता ہے، لیکن مسلم علماء اور مسلم رہنماؤں نے انتہائی ناعاقبت اندیشانہ طور پر ایسی سیاسی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو صرف معاملات کو بگاڑنے والی ہے، وہ کسی بھی درجے میں اصلاح کا ذریعہ بننے والی نہیں۔
اس ناعاقبت اندیشانہ پالیسی میں سرفہرست مسلمانوں کی انتخابی پالیسی ہے۔ 1947ء کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد کے مشورے کی روشنی میں، مسلمانوں نے کانگریس کو انتخابی سپورٹ دینے کی پالیسی یہ پالیسی اصولاً درست تھی، لیکن مسلمانوں نے یہ غلطی کی کہ وہ کانگریس سے غیر حقیقت پسندانہ طور پر بہت زیادہ توقع رکھنے لگے۔ یہ تو قع عملاً پوری نہیں ہو سکتی تھی اور نہ وہ پوری ہوئی۔ اس کے بعد چھٹی دہائی میں مسلمانوں نے دوسری نادانی یہ کی کہ انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر نان کانگریس ازم (non-congressism) کی پالیسی اختیار کی۔ یہ منفی ووٹ (negative voting) کی پالیسی تھی، جو فطری طور پر مسائل میں صرف اضافے کا سبب بنی۔ 1992ء میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد مسلمانوں نے تقریباً متفقہ طور پر الیکشن کے معاملے میں اینٹی بی جے پی کی انتخابی پالیسی اختیار کی۔ یہ منفی پالیسی بھی فطری طور پر مسلمانوں کو کوئی مثبت فائدہ نہ دے سکی۔
ہندوستان ایک سیکولر جمہوری ملک ہے۔ مسلمان یہاں ایک اقلیتی گروہ کی حیثیت رکھتے ایسی حالت میں، مسلمانوں کے لیے یہاں واحد مفید طریقہ یہ ہے کہ وہ اُس پالیسی کو اختیار کریں جس کو ٹائٹ روب واک (tight-rope walk) کہا جاتا ہے، یعنی کسی کو اپنا دشمن نہ بنانا اور ہر ایک سے بقدرا مکان سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ 1947ء کے بعد مسلمان اگر اس تعمیری پالیسی کو اختیار کرتے تو یقینی طور پر یہاں اب تک وہ قانون بن چکا ہوتا جو مسلمانوں کے عائلی مسئلے کا واحد حل ہے۔
ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل پتے پر رابطہ کریں: The Spritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 65704898/99, Fax: 28236323