وقت کی اہمیت
Al-Risala, August 2010, pp. 36–39
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکا میں وقت کی پابندی کی بہت زیادہ اہمیت ہے، ان کا تصور یہ ہے کہ مقررہ وقت سے پہلے پہنچنے کی کوشش کرو، تا کہ تمھارا وقت پر پہنچنا یقینی ہو جائے۔ امریکی لوگوں کا تصور یہ ہے کہ کسی میٹنگ میں جانا ہے تو تم طے شدہ وقت سے 15 منٹ پہلے پہنچنے کی کوشش کرو۔ اگر تم مقررہ وقت سے 5 منٹ پہلے پہنچے تو گویا کہ تم دس منٹ لیٹ ہو گئے:
If you are five minutes early, you are ten minutes late. زندگی میں وقت کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں، وقت کے اندر ہی کرتے وقت ختم تو کام بھی ختم ۔ چناں چہ کہا جاتا ہے کہ۔ وقت، دولت ہے: Time is money عربی زبان میں مقولہ ہے کہ: الوقت ہو الحیاة، فلا تقتلوه (وقت ہی کا نام زندگی ہے، تم اس کو ہلاک نہ کرو)۔ یہ بلا شبہ نہایت درست ہے۔
زندگی وقت سے بندھی ہوئی ہے۔ انسان کا کوئی بھی کام وقت ہی کے استعمال کی ایک صورت ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص وقت کو جتنا زیادہ استعمال کر سکے، اتنا ہی زیادہ وہ زندگی میں کامیابی حاصل کرے گا۔
وقت کی یہ اہمیت بتاتی ہے کہ وقت کے بارے میں انسان کو بے حد حساس ہونا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی جتنا زیادہ ٹائم کانسس (time-conscious) ہو، اتنا ہی زیادہ وہ باشعور انسان کہا جائے گا۔ ٹائم کانسس ہونا، با اصول انسان کی علامت ہے۔ جو آدمی ٹائم کانسس نہ ہو، وہ بلا شبہ ایک بے اصول انسان ہوگا۔ انسانیت کے اعلیٰ اقدار کی نسبت سے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ موجودہ زمانے میں گھڑی کی ایجاد نے وقت کی پابندی کو بہت زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ اسی لیے گھڑی کو ٹائم کیپر (time keeper) کہا جاتا ہے۔
دو سوالات کے جواب مطلوب ہیں۔ ایک یہ کہ ماہ نامہ الرسالہ، جون 2007 میں آپ نے اپنے ایک مضمون میں’’مسیحی ماڈل کی واپسی‘‘ کا ذکر کیا تھا۔ اس سے آپ کی مراد کیا ہے۔ کہ آپ نے اپنی تحریروں میں کئی مقامات پر اعلیٰ بصیرت اور پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کی باتیں لکھی ہیں۔ برائے کرم مثال کے ذریعے اس کو واضح فرمائیں (عبدالباسط عمری، دوحہ، قطر) 1 - قیامت سے پہلے مسیح کی آمد ثانی کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں، اُس سے مراد غالباً مسیحی ماڈل کی آمد ثانی ہے، نہ کہ جسمانی معنوں میں پیغمبر مسیح کی آمد ثانی۔ یہ مسیحی ماڈل قرآن میں بھی مذکور ہے اور انجیل میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔ یہ مسیحی ماڈل، قرآن اور انجیل دونوں کی تصریحات کے مطابق، یہ ہے کہ یک طرفہ صبر کے ذریعہ غیر سیاسی انداز میں پرامن طور پر دعوت الی اللہ کا کام کرنا۔ مسیحی ماڈل ہے اور اِس کو تاریخ میں دوبارہ واپس آنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسیحی ماڈل وہی ہے جس کو مکی ماڈل کہا جاتا ہے۔ مسیحی ماڈل کی واپسی دراصل خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی ماڈل کی واپسی ہے۔ مگر بعد کے زمانے میں پیغمبر اسلام کے حوالے سے یہ ماڈل مسلمانوں کے لیے قابل دریافت نہیں رہے گا۔ غالباً اسی لیے آپ نے اس کی واپسی کو مسیح کی واپسی سے تعبیر کیا۔ مسیحی ماڈل دراصل خود پیغمبر اسلام کی جامع زندگی کا ایک پہلو ہے، نہ کہ اس سے الگ یا اُس سے مغائر کوئی پہلو۔
حدیث اور سیرت کی کتابوں میں اور خود قرآن میں یہ مکی ماڈل واضح طور پر موجود ہے۔ لیکن بعد کو یہ ہوا کہ مسلم علماء نے بطور خود یہ سمجھ لیا کہ ہجرت کے بعد اب مکی ماڈل منسوخ ہو چکا ہے اور اب صرف مدنی ماڈل کی پیروی مسلمانوں سے مطلوب ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلم علماء نے جو کتابیں لکھیں، وہ عام طور پر اسی مفروضہ کے تحت لکھی گئیں، یہاں تک کہ شعوری یا غیر شعوری
طور پر یہ سمجھ لیا گیا کہ مدنی ماڈل ہی اب مطلوب معیاری ماڈل ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کو جس ماڈل کی پیروی کرنا ہے، وہ صرف مدنی ماڈل ہے، بالفاظ دیگر حاکمانہ ماڈل۔ روایت کے نتیجے میں اب یہ صورت حال پیدا ہو چکی ہے کہ مسلم ذہن پیغمبر اسلام کے حوالے سے اس ماڈل کو سمجھ نہیں پاتے، اس لیے اس کو مسیحی ماڈل کے حوالے سے مسلمانوں کے سامنے لایا گیا۔ کیوں کہ بعد کے زمانے میں کی ماڈل مسلمانوں کے ذہن سے اوجھل ہو گیا اور صرف مدنی ماڈل ان کے زندہ حافظے میں باقی رہا، جب کہ مسیحی ماڈل پر دوسرا مرحلہ پیش نہیں آیا۔ مسیح کے یہاں اول بھی مکی ماڈل تھا اور آخر بھی مکی ماڈل۔
2- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانہ میں حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا: لا فضل لعربی علی عجمی ولا لأحمر علی أسود (کسی عربی کو کسی عجمی کے اوپر کوئی فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت نہیں) ان الفاظ میں بظاہر مطلق مساوات کا اعلان تھا، لیکن آپ کی وفات کے بعد جب خلافت کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کو الائمۃ من قریش (مسند احمد، رقم الحديث: 12657) کی بنیاد پر حل کیا گیا۔ یہ فعل واضح طور پر آئیڈیل مساوات کے خلاف تھا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: أمرهم شورى بينهم (اہلِ ایمان کے معاملات اجتماعی مشورے سے طے ہوتے ہیں) الفاظ کے اعتبار سے بظاہر یہ ایک مطلق اصول ہے، لیکن خلیفہ اول حضرت ابو بکر نے خلیفہ ثانی حضرت عمر کے تقرر میں اس تعلیم کے خلاف عمل کیا۔ انھوں نے اپنے بعد خلیفہ ثانی کے لئے نام زدگی (nomination) کا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے رائے عامہ کے بغیر بطور خود حضرت عمر کی خلافت کا اعلان کر دیا۔ یہ واقعہ واضح طور پر مذکورہ قرآنی اصول کے خلاف تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں خلافت کے سوال پر مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف ہوا۔ انصار کا یہ کہنا تھا کہ: منا أمير ومنكم أمير (ایک امیر مہاجرین میں سے اور ایک امیر انصار میں سے)۔ بحث کے بعد آخر کار یہ طے ہوا کہ مہاجرین میں سے امیر ہوں اور انصار میں سے وزیر (نحن الأمراء وأنتم الوزراء)۔ لیکن اس پر عمل نہ ہو سکا اور حضرت عمر فاروق
نے اپنے آخری زمانے میں کہا کہ ہم نے انصار سے وعدہ کیا تھا کہ ہم خلافت کے کام میں ان کو وزیر بنائیں گے، لیکن ہم ایسا نہ کر سکے ( واللہ ما وفينا لهم كما عاهدناهم عليه - مسند البزار ، رقم الحديث: 291 )۔
اسلام کے دور اول کی تاریخ میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں ۔ یہ واقعات بظاہر یہ بتاتے ہیں کہ اسلام میں اصول اور عمل کے درمیان تضاد ہے، مگر یہ بات درست نہیں ۔ یہ فرق خود ایک اور مستقل اصول کے تحت پیش آیا اصول کا تعین ہمیشہ معیار (norm) کی روشنی میں ہوتا ہے، لیکن جب عملی بندوبست (practical settlement) کا معاملہ ہو تو اُس وقت ایک اور اصول اختیار کیا اُس وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ عملی اعتبار سے کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں۔ اصول کا تعین ایک مجرد (abstract) معاملہ ہے، اِس لئے اصول کے تعین کے وقت خالص نظری پہلو کا اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن عملی بندوبست کا تعلق سماج کی واقعی صورت حال سے ہوتا ہے۔ اِس لئے عملی بندوبست کے وقت ضروری ہوتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ موجودہ صورت حال کے مطابق کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں۔
مذکورہ مثالوں کے درمیان بظاہر جو فرق نظر آتا ہے، وہ اسی اعلیٰ بصیرت کی بنا پر ہے۔ حقیقت ہے جس کو پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کہا جاتا ہے۔ جو لوگ اصولی معیار اور پریکٹیکل وزڈم کے فرق کو نہ جانیں، وہ ذہنی اعتبار سے کنفیوژن (confusion) کا شکار ہو جائیں گے اور وہ عملی اعتبار سے ایسا اقدام کریں گے جو حالات میں مزید خرابی پیدا کرے اور نتیجے کے اعتبار سے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) بن کر رہ جائے ۔ عملی رویے کا فیصلہ ہمیشہ واقعی صورت حال کی بنا پر کیا جاتا ہے، نہ کہ مجرد اصولی معیار کی بنیاد پر۔
ماہِ رمضان کے موقع پر صومِ رمضان“ کے نام سے ایک بک لٹ تیار کیا گیا ہے۔ اس کو گڈ ورڈ بکس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔