No victors, only survivors
Al-Risala, January 2010, pp. 3–15
By Maulana Wahiduddin Khan
ہٹلر کے اندر بے پناہ حد تک قوت ارادہ (will power) موجود تھی۔ میرا اندازہ ہے کہ ہٹلر اگر زندہ رہتا تو شاید وہ امن کے لیے کوئی بڑا کام کرتا۔ مگر اس کو ڈر تھا کہ الائڈ پاورس (Allied Powers) کی طرف سے اُس پر جنگی مجرم کی حیثیت سے مقدمہ چلایا جائے گا اور اس کو پھانسی دے دی جائے گی۔ اِسی اندیشے کی بنا پر اس نے ایک بنکر میں 30 اپریل 1945 کو خودکشی کر لی۔ پولینڈ کی یہ کانفرنس تین دن کے لیے تھی۔ اِس کا انعقاد ایک مسیحی تنظیم کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو (Community of Saint Egidio) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اِس تنظیم کا مقصد یہ ہے کہ مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان امن اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا جائے۔
سینٹ ایجی ڈیو (Saint Egidio) یونان کے ایک قدیم مسیحی راہب تھے۔ وہ 650ء میں پیدا ہوئے اور 710ء میں ان کی وفات ہوئی۔ اْنھیں کے نام پر یہ تنظیم قائم کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے
70 ملکوں میں ان کے 70 ہزار ممبران موجود ہیں۔ یہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک تنظیم ہے۔ مسٹر آندریہ ریکارڈی (Andrea Riccardi) اس تنظیم کے بانی ہیں۔ عالمی اداروں کی طرف سے کمیونٹی کو مختلف قسم کے انعامات دئے گئے ۔ مثلاً یونیسکو کی طرف سے 1999 میں اس کو پیس پرائز (Peace Prize) ملا، اور 2002 میں اس کو نوبل پیس پرائز (Noble Peace Prize) دیا گیا۔ جس زمانے میں مجھے پولینڈ کا سفر کرنا تھا، اُس زمانے میں سوائن فلو (swine flu) کی خبریں بہت زیادہ آرہی تھیں ۔ اِس بنا پر مجھے سفر کرنے میں تردد تھا۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا فیصلہ کیا جائے۔ اس بارے میں میرے ایک ساتھی نے استخارہ کیا۔ اس کے بعد ان کو رات میں ایک خواب آیا۔
یہ خواب خودان کے قلم سے میری ڈائری میں اس طرح موجود ہے :
” 10 اگست 2009 کی رات کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ راقم الحروف اور مولا نا وحید الدین خاں صاحب ایک جگہ فرش پر قعدہ کی حالت میں بیٹھے ہوئے اس دوران دو عامل مولانا کے پاس آتے ہیں۔ مولانا اُن سے کہتے ہیں کہ آپ لوگ جو چاہیں پڑھ کر میرے اوپر پھونکیں ، ان شاء اللہ مجھ پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں ہوگا۔ چناں چہ دونوں عامل کافی دیر تک پڑھ کر مولانا کے اوپر پھونکتے رہے ، مگر مولانا کے اوپر اس کا کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔ کافی دیر کے بعد مذکورہ عامل جب پھونک کر فارغ ہوئے تو میں نے دیکھا کہ مولانا کے چہرے پر شکر کے گہرے آثار نمایاں تھے۔ مولانا کہہ رہے تھے کہ یہ سب خدا کی رحمت ہے کہ مجھ پر ان لوگوں کے عمل کا کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔ آخر میں اُن عاملوں نے کہا کہ ہم لوگوں نے ایسی ایسی چیزیں پڑھ کر پھونکی تھیں کہ آدمی کا بدن چھلنی ہو جائے ، مگر تعجب ہے کہ مولانا کے اوپر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ یہ فجر سے پہلے کا وقت تھا۔ “ (محمد ذکوان ندوی)
ہر بار سفر کے موقع پر میرا معمول رہا ہے کہ میں سفر کے موقع پر یہ دعا کرتا ہوں : اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل والمال (أبو داؤد، كتاب الجهاد ) مگر پولینڈ کے سفر میں میری زبان سے ایک نئی دعا نکلی۔ میں نے ایک پوائنٹ آف ریفرنس کو لے کر دعا کی۔ آف سینٹ ایجی ڈیو کے ایک ممبر ہیں۔ اُن کا نام ڈاکٹر لونارڈو (Leonardo Palombi) ہے۔ کمیونٹی کے پچھلے سالوں کے ایک پروگرام میں ان کا ٹیلی فون آیا تو میں نے کہا کہ میں صرف ایک شرط پر آ سکتا ہوں ، اور وہ ہے ۔ ائر پورٹ سے ائر پورٹ تک آپ کی موجودگی: Your availibility from airport to airport انھوں نے اس کا وعدہ کیا۔ چناں چہ جب میں رومانیہ کے ائر پورٹ پر اترا تو وہ برابر میرے ساتھ رہے ، یہاں تک کہ واپسی میں ائر پورٹ تک وہ ہمیں پہنچانے آئے۔
موجودہ سفر میں میرے اوپر عجز کا احساس غالب تھا۔ اس احساس کے تحت میری زبان سے دعا نکلی کہ یا اللہ، تو اس سفر میں دہلی سے دہلی تک (from Delhi to Delhi) میرا ساتھی بن جا۔ یہ سفر میں صرف تیرے لئے کر رہا ہوں، تو ہی اس سفر میں میرا مددگار بن سکتا ہے۔
عجیب بات ہے کہ یہ دعا کامل طور پر قبول ہوئی۔ پورے سفر میں اس کا مشاہدہ ہوتا رہا۔ یہ پورا سفر اتنا آسان بن گیا کہ واپسی کے بعد میرے ساتھیوں نے کہا کہ یہ سفر ہمارے لیے گویا ایک خواب جیسا سفر (dream journey) تھا۔ ہم ابھی دہلی میں تھے کہ اس کے آثار دکھائی دینے ہمارے قافلے میں چار افراد شامل تھے— راقم الحروف، مسٹر رِجت ملہوترا، سعدیہ خان، مولانامحمد ذکوان ندوی۔ نئی دہلی میں پولینڈ کے سفارت خانے نے نہایت آسانی سے ہم کو ویزا دے دیا اور ہم سے ویزا کی فیس نہیں لی جس کی مجموعی رقم 16 ہزار روپے تھی۔
4 ستمبر 2009 کی شام کو دہلی سے پولینڈ کے لیے روانگی ہوئی۔ آج کے اخباروں میں سب سے زیادہ نمایاں خبر یہ تھی کہ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کا انتقال وہ ایک ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے تھے۔ ان کا ہیلی کاپٹر بارش کے طوفان میں پھنس گیا اور ایک پہاڑی سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔
راج شیکھر ریڈی کی موت کے بعد لوگوں کے تاثرات اس قسم کے الفاظ میں سامنے آئے— ایک کریسمیٹک لیڈر (charismatic leader) چلا گیا، ایک کامیاب چیف منسٹر چلا گیا، ایک مقبول عام لیڈر چلا گیا، وغیرہ۔ میں نے حیدرآباد کے حبیب بھائی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آندھرا پردیش کے مسلمانوں کو یہ کہنا چاہیے کہ ایک مدعو چلا گیا۔ آندھرا پردیش کے مسلمانوں کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ اپنے اس لیڈر تک خدا کا پیغام پہنچائیں، لیکن وہ اپنی اس ذمے داری کو ادا نہ کر سکے اور جانے والا ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ اس کوتاہی کی پچاس فی صد ذمے داری اگرا جانے والے لیڈر پر ہے تو پچاس فی صد ذمے داری وہاں کے رہنے والے مسلمانوں پر ہے۔
4 ستمبر 2009 کی رات کو 10 بجے ہم لوگ ایک قافلے کی صورت میں ائر پورٹ کے لیے
راستے میں حسب معمول کاروں کی بھیڑ نظر آئی۔ میں نے سوچا کہ ہمارے ملک میں سڑکیں تو چوڑی نہیں کی گئیں، البتہ موٹر کار بنانے والی کمپنیوں نے تنگ سڑکوں پر کاروں کی بھر مار اب اُس میں مزید اضافہ یہ ہوا ہے کہ ایک بڑی کمپنی نے سستی کار بنائی ہے جس کا نام نینو (Nano) ہے۔ نینو کے آنے کے بعد سڑکوں پر کاروں کی بھیڑ اتنی زیادہ بڑھ جائے گی کہ انڈیا کے شہروں میں سفر کرنا ہی مشکل ہو جائے گا۔ کوئی کار بنانے والی کمپنی اگر کار بنانے کے بجائے جدید قسم کی بائیسکل بناتی تو یہ غالباً قوم کی زیادہ بڑی خدمت ہوتی۔
جب ہم لوگ ائیر پورٹ کے سامنے پہنچے تو وہاں بہت زیادہ بھیڑ دکھائی دی۔ ہمارے ساتھ دو گاڑیاں تھیں ۔ اپنی عادت کے مطابق، میں نے کہا کہ اس بھیڑ میں کہاں گاڑی کھڑی کریں گے اور کس طرح کتابوں کے یہ کارٹن اندر لے جائیں گے۔ یہ سوچ کر میں پریشان ہو رہا تھا۔ ساتھی مسٹر جت ملہوتر ا بالکل مطمئن تھے۔ انھوں نے اطمینان کے ساتھ کہا: Maulana, it is angel's problem. اور واقعہً ایسا ہی ہوا۔ تمام مراحل اتنی آسانی سے طے ہو گئے، جیسے کہ ہمارے بدلے فرشتے سارا کام کر رہے ہوں۔
ہمارے ساتھ قرآن کا انگریزی ترجمہ دس کارٹن میں موجود تھا۔ دہلی کے اندرا گاندھی انٹر نیشنل ائر پورٹ پر جب اس کو چیک ان (check in) کیا جا رہا تھا تو بکنگ آفس پر بیٹھی ہوئی خاتون نے اس کو وزن کرنے کے بعد کہا کہ اس کا وزن پندرہ کلو ز زیادہ ہے۔ خاتون نے پہلے کہا کہ یہ پندرہ کلو زیادہ ہے، اس کو آپ کم کیجئے۔ ہمارے ساتھی سوچنے لگے کہ کس طرح اس کو کم کیا جائے ۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد خاتون نے دوبارہ خود ہی کہا کہ کوئی بات نہیں، جانے دیجئے ۔ چناں چہ ہمارے ساتھیوں نے کتابوں کے پیکٹ کو چیک ان کر دیا۔
عجیب بات یہ ہے کہ عین اُسی وقت ایک اور مسافر آیا۔ اس کا سامان بھی زیادہ تھا۔ کی خاتون نے اس کا سامان صرف اُس وقت چیک ان کیا جب کہ اُس نے کچھ سامان نکال کر اُس کا
وزن کم کیا۔ اس طرح کے واقعات پورے سفر میں پیش آتے رہے جن کا ذکر ان شاء اللہ اس سفرنامے کے دوسرے مقامات پر آئے گا۔
ہمارے ساتھیوں کے بیگ میں دعوتی لٹریچر موجود تھا۔ چناں چہ انہوں نے ایئر پورٹ ہی سے اُسے لوگوں کو دینا شروع کر دیا۔ ایئر پورٹ کے عملہ کی ایک خاتون کو ریلیٹی آف لائف‘ کی ایک کاپی بھیڑ کی وجہ سے خاتون نے عجلت کے ساتھ پمفلٹ لے کر رکھ لیا۔ ہم لوگ پمفلٹ دے کر امیگریشن کاؤنٹر کی طرف بڑھ گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم نے دیکھا کہ وہ خاتون تیزی کے ساتھ چلتی ہوئی ہماری طرف آ رہی ہے۔ اس نے قریب آ کر کہا کہ ۔ آپ کے اس خوب صورت پمفلٹ کے لیے آپ لوگوں کا بہت بہت شکریہ :
Thank you very much for this beautiful pamphlet!
”تھینک یو‘‘ کہنا جدید کلچر کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کوئی آدمی اگر تھینک یو نہ کہے تو جدید معیار کے مطابق، اُس کو پس ماندہ شخص کہا جائے گا۔ اگر آپ کسی کو ایک ایسی کتاب دیں جو اس کے اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب سے تعلق رکھتی ہو تو جدید مذہب کے مطابق ، اُس آدمی کا فرض ہے کہ وہ آپ کو تھینک یو کہے، خواہ وہ اس سے اتفاق رکھتا ہو یا اختلاف۔ یہ ایک نیا دعوتی امکان ہے جو موجودہ زمانے میں ساری دنیا میں پیدا ہوا ہے۔
ایئر پورٹ کے رسمی مراحل سے گزرتے ہوئے ہم لوگ اندر داخل ہو گئے۔ یہاں اوپر کی منزل میں شان دار لاؤنج (lounge) موجود تھا۔ یہاں آرام دہ نشست گاہوں کے درمیان کھانے پینے کی مختلف چیزیں موجود تھیں ۔ ہم لوگ تقریباً ایک گھنٹہ یہاں بیٹھے۔
دہلی سے زیورک (Zurich) کے لیے ہماری فلائٹ رات کو ڈیڑھ بجے تھی ۔ میرے ساتھیوں نے عملہ کے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا اور پھر لاؤنج کے ایک حصے میں بیٹھ کر ہم لوگ مختلف موضوعات پر ڈسکشن کرتے رہے۔ یہاں مجھے فارسی شاعر کا ایک شعر یاد آیا۔ میں نے سوچا کہ فارسی شاعر نے جو بات اپنے زمانے کی نسبت سے کہی تھی، وہ موجودہ زمانے میں
مزید اضافے کے ساتھ ممکن ہو گئی ہے۔ فارسی کا مذکورہ شعر یہ ہے:
منعم بہ کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا کہ رفت، خیمہ زد و بارگاہ ساخت اس موقع پر لاؤنج میں بیٹھ کر جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ میں نے ریڈیو کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی لیڈر نے روزے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزہ رکھنا ایک مشکل کام ہے۔ میں نے کہا کہ مشکل (difficult) ایک اضافی لفظ ہے۔ ہر چیز مشکل بھی ہوتی ہے اور آسان بھی۔ یہ آپ کا اپنا ذہن ہے جو کسی چیز کو مشکل سمجھتا ہے اور کسی چیز کو آسان۔ لاؤنج میں ہر طرف لوگ شان دار طور پر چلتے پھرتے دکھائی دے رہے تھے۔ اس منظر کو دیکھ کر ہمارے ایک ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی نے کہا کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک خصوصی اس کی ہر چیز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پورے معنوں میں ایک جنتی وجود ہے۔ انسان کو اصلاً جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ ایسی حالت میں اگر وہ جہنمی راستے پر چلتا ہے تو یہ اس کا اپنا انتخاب (choice) ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کا اصل مقام جنت ہے۔ انسان کا اپنا چوائس ہے۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ یہ ایک عام بات ہے کہ لوگوں کو اپنے کارکنوں یا ساتھیوں سے شکایت رہتی ہے۔ ہر ادارے میں، ہر کمپنی میں، حتیٰ کہ ہر گھر میں اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ ذہن ہے۔ ہم کو جاننا چاہیے کہ اس دنیا میں ہم کو صرف اضافی اعتبار سے بہتر شخص مل سکتا ہے، نہ کہ معیاری اعتبار سے:
We can find only a relatively better person, and not an ideally better person. اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے کچھ ملے تو اس کا اعتراف کرنا بہت بڑی نیکی ہے، خواہ یہ ملنا فکری اعتبار سے ہو یا مادی اعتبار سے۔ مگر بہت کم انسان ہیں جو اعتراف کی اہمیت کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔
اس عام بے اعترافی کا سبب کیا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ ہر آدمی إنما أوتيته على علم عندي (القصص : 78) کی نفسیات میں جیتا ہے، یعنی جو کچھ آدمی کو ملتا ہے، اس کو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر خود اپنا کارنامہ سمجھ لیتا ہے، نہ کہ کسی اور سے ملا ہوا عطیہ۔ وہ دوسرے کے کنٹری بیوشن (contribution) کو بھلا دیتا ہے اور جو کچھ اس کو ملتا ہے، وہ خود اس کو اپنے کھانے میں ڈال لیتا ہے۔ دہلی ایئرپورٹ پر جب ہم لوگ آخری چیکنگ کے مقام پر پہنچے تو وہاں ایک علاحدہ کیبن بنا ہوا میرے بقیہ ساتھی تو سادہ طور پر گزر گئے، لیکن مجھ سے اُس کیبن میں جانے کے لیے کہا گیا۔ اسکریننگ (screening) کے لیے تھا۔ اس علاحدہ کیبن میں میری جانچ کی گئی۔ اس امتیازی جانچ کو میں نے ایک نارمل چیز سمجھا۔ مطالبے کے بغیر میں نے اسکریننگ کے لیے اپنا جوتا بھی اتار دیا اور پھر ٹھیک یو کہتے ہوئے باہر آ گیا۔ میرے ایک ساتھی فوراً آگے بڑھے اور اُس آدمی کو قرآن کے انگریزی ترجمہ کی ایک کاپی پیش کی جس کو اس نے خوشی کے ساتھ قبول کر لیا۔ یہی سادہ واقعہ ہے جو انڈیا کے بعض وی آئی پی (VIP) افراد کے ساتھ پیش آیا تو انڈیا میں ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا۔ یہ ہنگامہ بلا شبہ سرتا سر لغو تھا۔ اس طرح کی چیزیں ہمیشہ روٹین کے طور پر ہوتی ہیں۔ اُن کو ہمیشہ معتدل انداز میں لینا چاہیے۔
نفرت اور کشیدگی اور تشدد کے واقعات ہمیشہ اس لیے ہوتے ہیں کہ لوگ کسی سے ایک منفی بات سنتے ہیں اور اس کو ویسا ہی مان لیتے ہیں، جیسا کہ کہنے والے نے کہا تھا۔ مگر یہ ایک شدید قسم کی غلطی اس طرح کے واقعات کو جب بھی کوئی شخص بیان کرتا ہے تو وہ اصل واقعہ (actual event) کو نہیں بیان کرتا، بلکہ وہ اپنے ذاتی احساس (personal feeling) کو بیان کرتا ہے۔ لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے، اس لیے وہ نفرت اور تشدد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
سننے والا اگر ایسا کرے کہ وہ اصل واقعہ اور رپورٹ کرنے والے کے ذاتی احساس میں فرق کر کے دیکھے تو وہ منفی رد عمل کا شکار نہ ہو۔ کیوں کہ رپورٹ کرنے والا کبھی ایسا نہیں کرتا کہ وہ اپنے احساس کو الگ رکھ کر صرف اصل واقعہ کو بیان کرے۔ یہ غلطی یکساں طور پر شخصی رپورٹ میں
بھی پائی جاتی ہے اور میڈیا کی رپورٹ میں بھی۔
ایئرپورٹ کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ہم لوگ جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ انٹرنیشنل ائرویز (Swiss International Airways) کی فلائٹ نمبر 147 LX تھی۔ میں بتایا گیا ہے کہ سواری کے ذریعے سفر کرنا انسان کی ایک امتیازی صفت ہے (الإسراء : 70)۔ انسان نے پہلے حیوان کی پیٹھ پر بیٹھ کر سفر کرنا سیکھا، پھر اس نے پہیہ (wheel) ایجاد کی اور وہ پہیہ دار گاڑی پر بیٹھ کر سفر کرنے لگا، پھر اس نے کشتیاں بنائیں، تاکہ وہ دریاؤں اور سمندروں کی سطح پر سفر کر سکے، پھر اس نے موٹر کار اور ہوائی جہاز جیسی سواریاں ایجاد کیں۔
قدیم کہانیوں میں ”اڑن کھٹولہ“ کا ذکر ہوتا تھا۔ مگر اُس زمانے میں اڑن کھٹولہ محض ایک خیالی چیز تھی، اس کا کوئی واقعی وجود نہ تھا۔ امریکا کے دو انجینئر جن کو رائٹ بردرس (Wright Brothers) کہا جاتا ہے، انھوں نے لمبی کوشش کے بعد 1903 میں پہلا ہوائی جہاز بنایا۔ وہ اُس پر بیٹھ کر ہوا میں اِس طرح انھوں نے عملی طور پر ثابت کیا کہ انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ہوائی سواری کے ذریعے فضا میں پرواز کر سکے— ہوائی جہاز خدا کی نسبت سے ایک غیر معمولی معجزہ ہے، اور انسان کی نسبت سے خدا کی دی ہوئی عقل کا غیر معمولی استعمال۔
دہلی سے روانگی کے بعد ہماری اگلی منزل زیورک تھی۔ زیورک سوئٹزرلینڈ کا ایک شہر ہے۔ سے زیورک کی مسافت 6155 کلومیٹر تھی۔ دہلی سے زیورک کا سفر 8 گھنٹے میں طے ہوا۔ سفر کے دوران مختلف اخبارات دیکھے۔ نیویارک ٹائمس (5 ستمبر 2009) کے گلوبل ایڈیشن کے صفحہ 3 پر ایک خبر تھی۔ یہ خبر چین کے مغربی صوبہ سنگیا نگ (xinjiang) کے بارے میں تھی۔ اس علاقے میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں ۔ یہ لوگ زیادہ تر ترکی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ علاقے کے مسلم لیڈر عرصے سے یہ تحریک چلا رہے ہیں کہ اس کو بقیہ چین سے الگ کر کے ایک آزاد مسلم ریاست کا درجہ دیا جائے ۔
علیحدگی پسندی کی اس سیاست کو پاکستانائزیشن (Pakistanization) کہا جاتا ہے۔
قسم کی علیحدگی پسند تحریکیں مختلف ملکوں میں چل رہی ہیں۔ مثلاً برما اور فلپائن، وغیرہ۔ مگر ان تحریکوں کا نتیجہ صرف مزید تباہی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ’’پاکستانیزیشن‘‘اپنے نتیجے کے اعتبار سے ایک قسم کی سیاسی خودکشی مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ دنیا کے تقریباً تمام مسلم رہنما اس میں شریک ہیں، کچھ لوگ عملاً اس کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ لفظی طور پر اس کی حمایت کر رہے ہیں۔
جہاز کے اندر مختلف مسافروں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور لٹریچر دے دیا گیا۔ اُن میں سے ایک ڈاکٹر لوزیوز (Luzius Wasescha)تھے۔ وہ اگر چہ خدا اور مذہب کے بارے میں لبرل تھے، لیکن انھوں نے شکریہ کے ساتھ قرآن کا انگریزی ترجمہ لے لیا۔ وہ سوئزر لینڈ کے رہنے والے تھے۔ مولانا محمد ذکوان ندوی کو انھوں نے اپنا جو زٹنگ کا رڈ دیا، اُس پر یہ الفاظ درج تھے: Ambassador Permanent Repersentative of Switzerland Switzerland Deputy director general, Federal Office of Foreign Economic Affairs, Ministry of Economy, Berm. In charge of coordination of WTO affairs in Switzerland, negotiations between Switzerland and the European Union, and coordination of Swiss governmental information policy in the field of biotechnology. Head of the Swiss Delegation in several WTO forums, and the conference of the European Energy Charta Treaty. یہ رات کا وقت تھا۔ اس لیے زیادہ وقت سونے میں گزرا۔ یہ سفر بظاہر لمبا تھا، لیکن نیند کی وجہ سے وہ آسانی کے ساتھ طے ہو گیا۔ ہمارا جہاز 40 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہا تھا۔ اوپر ستارے جگ مگ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے اور نیچے سیاہ بادل تھے جن کے درمیان بجلی چمک رہی تھی۔ وقت ہم بادلوں کے اوپر تھے اور آسمان کے نیچے ۔
یہ منظر بڑا عجیب تھا۔ اس منظر کو دیکھ کر ہمارے ایک ساتھی نے کہا کہ ہماری زمین پر پائے جانے والے مسائل محض اضافی مسائل (relative problems)ہیں۔ یہاں صرف ایک مسئلہ ہے جس کی حیثیت حقیقی مسئلہ (real problem)کی ہے، اور وہ ہے آخرت کا مسئلہ۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسی
سب سے بڑے مسئلے کے متعلق لوگ بے خبری کا شکار ہیں۔
آٹھ گھنٹے کی مسلسل پرواز کے بعد 5 ستمبر 2009 کی صبح کو ہم لوگ مقامی ٹائم کے اعتبار سے ساڑھے چھ بجے زیورک (Zurich) ائر پورٹ پر اتر گئے۔ یہ سوئزر لینڈ کا انٹرنیشنل ائر پورٹ ہے۔ زیورک ائر پورٹ کو کلاٹین ائر پورٹ (Kaloten Airport) بھی کہا جاتا ہے۔ کلاٹین یا کیٹنن (Canton) ایک صوبہ ہے جو سوئزر لینڈ کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔ زیورک اسی صوبے کا یہاں سے دنیا کے 77 مقامات کے لیے پروازیں روانہ ہوتی ہیں۔
5 ستمبر 2009 کو ہم لوگ زیورک (سوئزر لینڈ) کے ائر پورٹ پر تھے۔ اسی دن سوئزر لینڈ کے دوسرے شہر جنیوا میں ورلڈ کلائمیٹ کانفرنس ہو رہی تھی۔ اس میں مقررین گلوبل وارمنگ اور اس کے نتیجے میں موسمی تبدیلی کے موضوع پر تقریریں کر رہے تھے اور اس کے نقصانات بتا رہے تھے۔ اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس کانفرنس پر کروڑوں روپے خرچ ہوں گے، لیکن پیشگی طور پر یہ بات معلوم ہے کہ عملاً اس کا کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ اس طرح کی کانفرنسیں پچھلے برسوں میں بار بار ہو چکی ہیں، لیکن وہ سب کی سب بے سود ثابت ہوئیں۔
اس کا سبب یہ ہے کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کا براہ راست تعلق جدید انسان کے لائف اسٹائل (life style) سے ہے۔ لائف اسٹائل میں تبدیلی کے لیے کوئی شخص تیار نہیں، اس لیے یہ مسئلہ کبھی حل ہونے والا نہیں۔ مثال کے طور پر ائیر کنڈیشنر بنانے کے کارخانے نہایت مضر گیس پیدا کرتے ہیں۔ لوگ ائر کنڈیشننگ کا طریقہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے ائر کنڈیشننگ کے کارخانے بھی بند ہونے والے نہیں۔ اس طرح کاروں کے ذریعے جو کاربن امیشن (carbon emmission) ہوتا ہے، وہ بے حد مضر ہے۔ مگر لوگ ایسا کرنے والے نہیں کہ وہ کار کو چھوڑ کر بائسکل پر سفر کرنے لگیں۔ اس لیے یہ مسئلہ بھی حل ہونے والا نہیں۔ اس معاملے میں کوئی جبر کام کر سکتا تھا، لیکن بظاہر اس معاملے میں جبر کا بھی کوئی امکان نہیں۔ زیورک ائر پورٹ پر اگلی فلائٹ لینے کے لیے میں نے ویل چیئر کا استعمال کیا۔ میری ویل چیئر
چلانے والا ایک سوئس نوجوان تھا۔ بات چیت کے درمیان معلوم ہوا کہ یہاں وہیل چر چلانے والے کو سپیشل اسسٹنٹ (special assistant) کہا جاتا ہے۔ نوجوان نے بتایا کہ وہ یونی ورسٹی میں ایم اے (اکنامکس) کا سٹوڈنٹ ہے۔ وہ اپنی معاشی ضرورت کے لیے فارغ اوقات میں وہیل چر چلاتا ہے۔ ہمارے ساتھیوں نے اس نوجوان کو اور ائر پورٹ کے عملے کے مختلف افراد کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ ان لوگوں نے تھینک یو کے ساتھ اس کو قبول کیا۔
زیورک سے دوسرا جہاز وارسا (Warsaw) کے لیے تھا۔ زیورک سوئٹزر لینڈ کا ایک شہر ہے اور وارسا پولینڈ کا ایک شہر۔ زیورک سے وارسا کا فاصلہ تقریباً ڈیڑھ ہزار کلومیٹر ہے، جو سوئس ائر ویز کی فلائٹ نمبر 1342 LX کے ذریعے دو گھنٹے میں طے ہوا۔
جہاز میں پرواز کرتے ہوئے سوئٹزر لینڈ کا ایک طائرانہ منظر دکھائی دیا۔ سوئٹزر لینڈ پہاڑوں سے گہرا ہوا ملک ہے۔ یہ پہاڑ خشک پہاڑ نہیں ہیں، بلکہ سرسبز پہاڑ ہیں۔ اس بنا پر سوئٹزر لینڈ مثالی خوب صورتی کا ملک بن گیا ہے۔ یہاں دور تک پہاڑی سلسلہ پھیلا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ پہاڑی مناظر تھے اور ہم اس کے اوپر تیز رفتار جہاز کے ذریعے پرواز کر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ جہاز اپنی اصل کے اعتبار سے صرف مادہ (matter) ہے، لیکن یہ مادہ انسان کے لیے متحرک ہوگیا ہے۔ انسانی تاریخ کے ابتدائی زمانے میں حیوان متحرک ہو کر سواری کا کام دیتے تھے۔ اب مادہ متحرک ہو کر زیادہ بہتر طور پر انسان کے لیے سواری کا کام کر رہا ہے۔ یہ واقعہ اتنا عجیب ہے کہ انسان اگر اس کو حقیقی طور پر محسوس کرے تو وہ چاہے گا کہ میں ساری عمر خدا کے آگے سجدہ شکر میں پڑا رہوں۔ 5 ستمبر 2009 کی صبح کو 9 بجے ہم لوگ وارسا (Warsaw) پہنچے۔ یہاں ہم کو اگلا جہاز لینے کے لیے تقریباً چار گھنٹے ٹھہرنا تھا۔ میں اور میرے ساتھی جہاز سے اتر کر وارسا ائر پورٹ کے لاؤنج میں پہنچے۔ اُس وقت یہاں ہلکی بارش ہو رہی تھی ۔ لاؤنج میں ہر طرح کا کھانے پینے کی اشیاء بھی وافر مقدار میں موجود تھیں۔ ہم لوگوں نے یہاں چار گھنٹے کا یہاں ہمارے ساتھیوں نے ائر پورٹ اور لاؤنج کے عملہ کو قرآن کا انگریزی
ان لوگوں نے شکریہ کے ساتھ اس کو لیا اور اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ یہاں ائیرپورٹ پر ایک واقعہ پیش آیا۔ ہمارے ایک ساتھی نے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے چند نوجوانوں کو انگریزی میں چھپا ہوا دعوتی پمفلٹ (The Road to Paradise) دیا۔ انھوں نے شکریہ کے ساتھ لیا۔ اس کے بعد اُن میں سے ایک نوجوان نے پمفلٹ کے ٹائٹل کو دیکھتے ہوئے کہا: