تقدیر انسانی
Al-Risala, September 2010, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 95 کا نام التین ہے۔ پوری سورت کا ترجمہ یہ ہے۔ گواہ ہے تین، اور گواہ ہے زیتون، اور گواہ ہے طورِ سینین، اور گواہ ہے بلدِ امین ۔ ہم نے یقیناً پیدا کیا انسان کو احسن تقویم پھر ہم نے اُس کو ڈال دیا اسفل درجے میں، سوا اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیا، اُن کے لیے ہے غیر منقطع اجر۔ پھر (اے انسان) کیا چیز تجھ کو تکذیب پر آمادہ کرتی ہے۔ کیا اللہ احکم الحاکمین نہیں ۔
اس سورہ میں تین، زیتون، اور بلدِ امین سے مراد مقاماتِ پیغمبر ہیں، یعنی وہ مقامات جہاں خدا کے پیغمبر آئے اور انسان کو اللہ کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے آگاہ کیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کو دوسرے تمام عطیات کے ساتھ یہ عطیہ دیا گیا کہ انسان کو عمل کی پوری آزادی دی گئی ۔ اس کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ چاہے تو خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق ، صراطِ مستقیم پر چلے، اور چاہے تو اس سے انحراف کرے ۔ آزادی کے نتیجے میں دو صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے اور وہ صراطِ مستقیم کو چھوڑ کر خود ساختہ راہوں پر چلنے لگے۔ اور اس طرح وہ عملاً اسفل ترین درجے میں پہنچ جائے۔
دوسرے انسان وہ ہیں جو خدا کے بتائے ہوئے تخلیقی پلان پر یقین کریں جس کو ایمان کہا گیا ہے، اور اس کے مطابق، عملاً اپنی زندگی گزاریں جس کو عمل صالح کہا گیا ہے۔
اللہ کا احکم الحاکمین ہونا یہ تقاضا کرتا ہے کہ دونوں کا یکساں انجام نہ ہو۔ اس لیے آخرت کی دنیا میں ایک گروہ کے حصے میں ابدی ناکامی آئے گی، اور دوسرے گروہ کے حصے میں ابدی کامیابی۔ معاملہ خدا کے اُس تخلیقی نقشہ کے مطابق ہوگا جس کا اعلان بار بار پیغمبروں کے ذریعے کیا گیا ہے۔