شرک کیا ہے
Al-Risala, September 2010, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 2 کی ایک آیت یہ ہے: ومن الناس من يتخذ من دون الله أنداداً يحبونهم كحب الله، والذين آمنوا أشد حباً لله، ولو يرى الذين ظلموا إذ يرون العذاب أن القوة لله جميعاً، وأن الله شديد العقاب (البقرة: 165) یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہئے۔ اور جو اہل ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب سے دوچار ہوں گے تو وہ سمجھ لیتے کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا کیا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی کو اللہ کا نڈ ٹھہرایا ند کے معنی مثل (equal) کے ہیں۔ اللہ کے سوا، کسی اور کو اس کا ند ٹھہرانا شرک ہے، خواہ وہ کلی معنی میں ہو یا جزئی معنی میں۔
اللہ کا ند ٹھہرانا کن پہلوؤں سے ہوتا ہے، مذکورہ آیت میں اس کے دو پہلو بیان کئے گئے ہیں— محبت، اور قوت۔ قرآن کی ایک اور آیت کے مطابق ، اس کا تیسرا پہلو خشیت (التوبة: 18) بنیادی طور پر یہی تین چیزیں ہیں جو شرک کی پہچان ہیں۔ مذکورہ تینوں معاملے میں جس نے اللہ کے سوا کسی اور کو شریک کیا، اس نے شرک کا ارتکاب کیا۔ حتیٰ کہ اگر کسی شخص نے خود اپنے آپ کو اس قسم کا درجہ دیا تو اس کا کیس بھی شرک کا کیس بن جائے گا (الجاثية: 23)۔
اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ — توحید کا مطلب ہے ہر اعتبار سے ، صرف ایک اللہ کو اپنا واحد کنسرن (sole concern) بنانا، اور شرک کا مطلب ہے— جزئی یا کلی طور پر کسی غیر اللہ کو اس کنسرن میں شریک کرنا۔
جب کوئی شخص اللہ کو اس حیثیت سے دریافت کرے کہ یہ اللہ ہے جس نے اس کو عدم سے
وجود بخشا، جس نے اس کو اعلیٰ درجے کی شخصیت عطا فرمائی، جس نے اس کو زمین جیسے نادر سیارے پر آباد کیا، جس نے اُس کے لیے لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام کیا، وغیرہ۔ اس طرح کا احساس آدمی کے اندر اللہ کے ساتھ بے پناہ تعلق پیدا کرتا ہے، وہ اللہ کو اپنا سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ یہی اللہ کے ساتھ شدید محبت کی بنیاد ہے۔
پھر جب وہ اللہ کی اس حیثیت کو دریافت کرتا ہے کہ یہ تمام چیزیں اس کا ایک طرفہ عطیہ ہیں، کسی بھی وقت اللہ اس کو چھین سکتا ہے۔ پھر یہ کہ ہر عطیہ کے ساتھ جواب دہی (accountability) جڑی ہوئی ہے۔ یہ احساس اس کو مزید اس اندیشے میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اگر میں نے ان عطیات الہی کا حق ادا نہ کیا تو اللہ کے یہاں سخت پکڑ ہوگی۔ یہ احساسات آدمی کے اندر وہ کیفیت پیدا کر دیتے ہیں جس کو قرآن میں خوف شدید (التوبہ : 18) کہا گیا ہے۔
اسی کے ساتھ آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ اس دنیا میں سارا اختیار صرف ایک اللہ کو حاصل ہے، اللہ کے سوا کسی اور کو جزئی درجے میں بھی کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اللہ ہی دینے والا اور اللہ ہی محروم کرنے والا ہے۔ یہ احساس اُس کو اپنے عجزِ کامل کی یاد دلاتا ہے۔ وہ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں پاتا کہ وہ اللہ کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرینڈر کر دے۔
اسی دریافت کا نام معرفت (realization) ہے۔ اس دریافت سے جس کے اندر وہ شخصیت بنے جب کہ ایک اللہ ہی اس کے لیے سب کچھ بن جائے، وہ اُسی کی یاد میں جئے اور یہی سوچ اس کی غالب سوچ بن جائے، ایسا انسان شریعت کی اصطلاح میں موحد ہے۔ اس کے برعکس، اللہ جس کا واحد کنسرن نہ ہو، بلکہ اس کے ساتھ وہ دوسری چیزوں کو بھی اپنا کنسرن بنائے ہوئے ہو، ایسا انسان شریعت کی اصطلاح میں شرک میں مبتلا ہے۔ موحد کی شخصیت انٹیگریٹڈ پرسنلٹی (integrated personality) ہوتی ہے، اور مشرک کی شخصیت اسپلٹ پرسنلٹی (split personality)۔
شریعت کے مطابق، اللہ انسان کی اصل غایت ہے، اور دوسری چیزیں صرف اس کی توحید اور شرک دونوں کا تعلق حقیقت سے ہے، نہ کہ صرف مظاہر سے۔