شہادت علی الناس، متبادل نظام
Al-Risala, September 2010, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں دو جگہ یہ بات آئی ہے کہ اہل ایمان شہداء علی الناس (البقرہ: 143، الحج: شہادت علی الناس سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دوسرے مقامات پر انذار وتبشیر کہا گیا ہے، یعنی اللہ کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے انسان کو باخبر کرنا، انسان کو معرفت رب سے آشنا کرنا، انسان کے اندر مواخذۂ آخرت کی فکر پیدا کرنا، انسان کے اندر اس احساسِ ذمے داری کو جگانا کہ وہ اس دنیا میں اپنے آپ کو خدا کے سامنے جواب دہ سمجھے اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔ شہادت علی الناس کی تحریک کامل طور پر ایک غیر سیاسی تحریک ہے۔ سیاست اور اقتدار سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ تصور ایک بے بنیاد تصور ہے کہ اسلام ایک متبادل نظام (alternative order) ہے، اور دعوت اور شہادت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو دنیا کے سامنے ایک متبادل نظام کے طور پر پیش کیا جائے۔ اس فکر کی کوئی بنیاد قرآن اور حدیث میں موجود نہیں۔ یہ تمام تر مضاہاۃ (التوبہ: 30) کا ایک معاملہ ہے، یعنی اسلام کو اغیار کی پسندیدہ اصطلاح میں بیان کرنا۔ موجودہ زمانے میں کچھ سیکولر مفکرین نے معاشی نظام اور سیاسی نظام کی اصطلاحوں میں کلام کرنا شروع کیا، اس سے متاثر ہو کر مسلم رہنما بھی اسی قسم کی بولی بولنے لگے۔ وہ اسلام کو ایسی اصطلاحوں میں بیان کرنے لگے جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسلام کوئی متبادل نظام نہیں۔ البتہ یہ کہنا درست ہوگا کہ اسلام ایک متبادل فکر یا متبادل آئیڈیالوجی (alternative ideology) ہے، یعنی وہ شرک کے مقابلے میں توحید کا نظریہ پیش کرتا ہے، وہ الحاد کے مقابلے میں ایمان کا نظریہ پیش کرتا ہے، وہ آزادی کے مقابلے میں محاسبہ کا نظریہ پیش کرتا ہے، وہ خواہش پرستی کے مقابلے میں جواب دہی کا نظریہ پیش کرتا ہے، وہ ناشکری کے مقابلے میں شکر گزاری کا نظریہ پیش کرتا ہے، وہ خود رخ زندگی (Self-oriented life) کے مقابلے میں خدا رخ زندگی (God-oriented life) کا نظریہ پیش کرتا ہے۔