Al-Risala · September 2010

نماز حقیقت کا اعتراف

Al-Risala, September 2010, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے کہا کہ آپ لوگ نماز اور عبادت کو فرض بتاتے ہیں اور اس کو اللہ کے حقوق میں شمار کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اللہ کو اس کی کیا ضرورت ہے کہ انسان اُس کی عبادت کرے۔ میں نے کہا کہ نماز دراصل حقیقت کا اعتراف ہے، وہ اللہ کی کسی ضرورت کی تکمیل نہیں۔ کسی انسان کو جب اللہ کی دریافت ہوتی ہے تو یہ اُس کے لیے ایک انوکھا تجربہ ہوتا ہے۔ حقیقت کے اعتراف کے طور پر اپنے خالق کے آگے سجدے میں گر جاتا ہے۔ اسی کی ایک منظم صورت کا نام صلاۃ یا نماز ہے۔

انسان ہر اعتبار سے اللہ کا عطیہ ہے۔ اس کا وجود اور زمین جیسا موافق سیارہ، سب کچھ اُس کو اللہ کے یک طرفہ عطیہ کے طور پر ملا ہے۔ ایک باشعور انسان جب اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے تو بے اختیارانہ طور پر وہ چاہتا ہے کہ اللہ کے سامنے وہ اس کا اظہار کرے۔ یہی اظہار جب عملی صورت اختیار کر لیتا ہے تو اسی کا نام صلاۃ یا نماز ہے۔

نماز کوئی رسمی عمل (ritual) نہیں۔ نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے، منعم کے انعام کا اعتراف جو آدمی منعم کے انعام کا اعتراف نہ کرے، اس کو انعام کے استعمال کا حق بھی نہیں۔ آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اللہ کی حمد کرے، وہ اللہ کے آگے جھکے، وہ اللہ کے آگے سجدہ کرے۔ اعمال کے مجموعے کا نام صلاۃ یا نماز ہے۔

ایک انسان کو جب اپنے منعم کی دریافت ہوتی ہے تو فطری طور پر وہ منعم کو اس کا رٹرن (return) دینا چاہتا ہے، لیکن اس کو محسوس ہوتا ہے کہ میرے پاس خالق کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ اسی احساس عجز کے کامل اظہار کا نام سجدہ ہے۔ نماز خود انسانی فطرت کی آواز کے طور پر ظاہر ہوتی ہے، وہ منعم کے مطالبے کا نتیجہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے خالق کو اعتراف کے سوا کچھ اور نہیں دے سکتا، اور نماز بلاشبہ اسی اعتراف کی اعلیٰ ترین صورت ہے۔

Printed page