Al-Risala · January 2010

Belief in God hardwired in our brain

Al-Risala, January 2010, pp. 41–46

By Maulana Wahiduddin Khan

خبر میں بتایا گیا تھا کہ انگلینڈ کی برسٹول یونیورسٹی (Bristol University) میں ایک رسرچ ہوئی ہے جس کے نتائج ٹائمس آن لائن (Times Online) میں چھپے ہیں۔ اس رسرچ میں بتایا گیا ہے کہ — خدا کا عقیدہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہوتا ہے۔ ارتقاء کے دوران انسان کی اس طرح پروگرامنگ ہوئی ہے کہ وہ خدا پر عقیدہ رکھے، کیوں کہ اس سے اُنھیں زندہ رہنے کا زیادہ بہتر موقع ملتا ہے:

We are born believers. Human beings are programmed by evolution to believe in God, because it gives them a better chance to survival. (p. 17)

اس بیان میں عقیدہ خدا کا فطری ہونا تو رسرچ کا حصہ ہے، لیکن ارتقاء (evolution) والی بات رسرچ کرنے والوں کا اپنا اضافہ ہے — حقیقی مشاہدات میں اسی قسم کے مفروضات کے اضافے سے حیاتیاتی ارتقاء کا پورا نظریہ قائم کیا گیا ہے۔

9 ستمبر 2009 کو پولینڈ سے واپسی تھی۔ ائیرپورٹ جانے کے لیے ہمیں صبح سویرے چار بجے ہوٹل سے نکلنا تھا۔ کمیونٹی کے ایک ممبر نے کہا کہ میں آپ کو اپنی کار سے ائیرپورٹ لے جاؤں گا۔ میں اپنے مزاج کی بنا پر متردد تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ٹھیک وقت پر ہماری قیام گاہ پر نہ پہنچ سکیں، کیوں کہ وہ کسی دوسری جگہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ لیکن صبح کو جب ہم لوگ ہوٹل کے ریسپشن سے چیک آؤٹ (check-out) کر کے ہوٹل کے گیٹ پر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ مذکورہ نوجوان وہاں پیشگی طور پر اپنی گاڑی لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔ خدمت کرنے والے یہ لوگ کوئی عام لوگ نہ تھے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور اچھے عہدوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔

ہوٹل سے روانہ ہو کر ہم لوگ کریکوائر پورٹ پہنچے۔ کریکوائر پورٹ نسبتاً ایک چھوٹا ائیرپورٹ ہم لوگوں نے فجر کی نماز ائیر پورٹ پر ادا کی۔ ائیرپورٹ کی رسمی کارروائی کے بعد ہم جہاز کی یہاں ہمارے ساتھیوں نے کچھ مسافروں اور ائیرپورٹ کے عملہ کو قرآن آن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔

مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ہم لوگ جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ یہ ایک چھوٹا جہاز تھا۔ کریکو سے وارسا کا یہ سفر پولش ائرلائنز کی فلائٹ نمبر 3910 کے ذریعے ہوا۔ صرف 50 منٹ کی پرواز کے بعد ہم لوگ وارسا ائیرپورٹ پر اتر گئے۔ وارسا ائیرپورٹ پر ہم لوگ یہاں کے لاؤنج میں چلے وہاں بیٹھنے کے علاوہ کھانے پینے کا بھی انتظام تھا۔

لاؤنج کے مختلف حصوں میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے، لیکن وہاں کسی قسم کا کوئی شور نہ ہر عورت اور مرد خاموشی کے ساتھ اپنا اپنا کام کر رہے تھے۔ مغربی دنیا میں جس طرح ورک کلچر ہے، اسی طرح یہاں خاموشی کلچر ہے۔ یہ لوگ یا تو چپ رہتے ہیں، یا وہ بہت آہستہ آہستہ بات کرتے ہیں، تاکہ آس پاس کے لوگ ڈسٹرب نہ ہوں۔ یہاں بھی ہمارے ساتھیوں نے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے مختلف لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔

وارسا کے لاؤنج میں تقریباً 2 گھنٹے انتظار کرنے کے بعد ہم لوگ دوپہر کے وقت اگلے جہاز پر

یہ جہاز وارسا سے زیورک جانے والا تھا۔ وارسا سے زیورک کا جہاز کسی وجہ سے آدھ گھنٹہ لیٹ ہو گیا۔ یہ ہمارے لیے ایک سنگین مسئلہ تھا۔ کیوں کہ زیورک ائر پورٹ پر اگلے جہاز کا وقت اس طرح تھا کہ جب یہ جہاز وہاں پہنچے گا تو اُس وقت وہ جہاز زیورک سے دہلی کے لیے روانہ ہو چکا ہوگا۔ لیکن اس موقع پر ہم لوگوں کے ساتھ خدا کی خصوصی مدد ہوئی۔ زیورک پہنچنے پر معلوم ہوا کہ زیورک سے دہلی جانے والا جہاز آدھ گھنٹہ لیٹ تھا۔ اس تاخیر کی بنا پر ہم لوگوں کو زیورک ائر پورٹ پر مزید رکنا نہیں پڑا اور آسانی سے اگلا جہاز مل گیا۔ زیورک ائر پورٹ پر جب ہم کو یہ بات بتائی گئی تو ہمارے ساتھیوں نے اللہ تعالیٰ کا خصوصی شکر ادا کیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ دہلی سے چلتے ہوئے میں نے دہلی سے دہلی تک (from Delhi to Delhi) کی جو دعا کی تھی، وہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور اسی کا یہ کرشمہ ہے کہ ہمیں زیورک میں اگلا جہاز آسانی کے ساتھ مل گیا۔ زیورک ائر پورٹ کی ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہاں ہمیں ائر پورٹ کی لمبی دوری طے کر کے فوراً جہاز تک پہنچنا تھا۔ اس کے لیے مجھے یہاں ایک خصوصی وہیڈ چیر فراہم کی گئی۔ ہماری وہیڈ چیر ائر پورٹ کی ایک خاتون چلا رہی تھیں۔ وہ بہت آہستہ آہستہ چلا رہی تھیں جس کی وجہ سے میں بہت پریشان تھا اور اندرہی اندر دعا کر رہا تھا۔ اتنے میں ائر پورٹ کے عملے کا ایک مرد آگیا اور تیزی سے وہیڈ چیر کو دوڑاتے ہوئے جہاز کے دروازے تک پہنچادیا۔ ہمارے ساتھیوں نے یہاں بھی ائر پورٹ کے عملے کے لوگوں کو دعوتِ لٹریچر دیا۔

زیورک سے دہلی کا یہ سفر 8 گھنٹے کا تھا۔ اس دوران سوئس انٹرنیشنل ائر لائنز (Swiss International Air Lines) کا فلائٹ میگزین (Swiss Universe) دیکھنے کو ملا۔ میگزین دوزبانوں میں تھا—سوئس اور انگلش۔ 96 صفحے کے اس میگزین میں صرف تین موضوعات شامل تھے—فیشن، بزنس، ٹریویل۔ اس کے دو صفحے میں خریداری کے لیے عورتوں کا چوائس اور مردوں کا چوائس الگ الگ بتایا گیا تھا۔ مردوں کا چوائس (Men’s Choice) خاص طور پر تین چیزیں تھیں— (Ladies’ Choice) motorbike، bicycle، cellphone۔ اس کے برعکس، عورتوں کا چوائس

White-gold necklace, White-gold ring, Rose-gold watch — یہ بتایا گیا تھا۔ قرآن میں عورتوں کے بارے میں آیا ہے: أو من يُنَشَّأ في الحِلية (الزُّخرف: 18) یعنی عورت آرائش میں پرورش پاتی ہے۔ فلائٹ میگزین کے مذکورہ صفحے کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ قدیم عورت کی جو نفسیات تھی، وہی جدید عورت کی بھی نفسیات ہے۔

وارسا کے لاؤنج میں کچھ اخبارات مطالعے کے لیے موجود تھے۔ اُن میں سے ایک لندن کا اخبار ٹائمس (The Times) تھا۔ یہ اخبار 90 صفحات پر مشتمل تھا۔ اخبار کے صفحہ 15 کی ایک سرخی تھی— مسجد پر اسلام مخالف مظاہرہ کی صورت میں تشدد کا اندیشہ:

Violence fears as anti-Islam protest targets mosque خبر میں بتایا گیا تھا کہ کچھ شدت پسند عناصر 11 ستمبر 2001 کے واقعے کو لے کر لندن کی سنٹرل مسجد (Harrow Central Mosque) پر مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس بنا پر یہ اندیشہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے موقع پر مظاہرین اور مسلمانوں کے درمیان تصادم (clash) ہو سکتا ہے۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اس قسم کے مظاہرے کا صحیح جواب یہ ہے کہ اس کا جواب ہی نہ دیا جائے- ایسے مواقع پر یہ دراصل جوابی ردعمل ہے جو مسئلہ پیدا کرتا ہے، نہ کہ خود عمل۔ یہی وہ حکمت ہے جس کو حضرت عمر فاروق نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا ۔ أميتوا الباطل بالصّمت عنه (باطل کا خاتمہ کرو، اس کے معاملے میں چپ رہ کر)

اخبار کے صفحہ 32 پر کچھ اقوال نقل کئے گئے تھے۔ اُن میں ایک قول یہ تھا — اپنے بچوں کو دیانت کی تعلیم دینے سے پہلے، ہمیں دنیا کو دیانت دار بنانا ہوگا :

‘We must make the world honest, before we can honestly say to our children that honesty is the best policy’. George Bernard Shaw برنارڈ شا کا یہ قول ایک دل چسپ قول ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک غیر عملی دنیا کے تمام لوگوں کو دیانت دار بنانا ایک غیر عملی منصوبہ بنانا ہے۔ اس قسم کا آئیڈیل سماج اس دنیا میں کبھی نہیں بن سکتا۔ لیکن افراد کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے آپ کو بقدراِمکان دیانت دار

دوسری بات یہ کہ دیانت داری صرف عملی برتاؤ کا نام نہیں ہے ۔ دیانت داری سب سے پہلے دیانت دارانہ سوچ (honest thinking) کا نام ہے ، اور کسی فرد کے لئے دیانت دارانہ سوچ ہمیشہ اور ہر حال میں قابل عمل ہوتی ہے ۔

جہاز کے اندر جب مسافروں کے لیے کھانا آیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے پیکٹ کے اوپر یہ الفاظ درج تھے۔ کھانے کا لطف اٹھائیے : Enjoy your meal یہ بات کھانے کے پیکٹ پر پانچ زبانوں میں لکھی ہوئی تھی۔ عربی زبان میں یہ الفاظ تھے: یہ جدید مادی کلچر کا ایک نمونہ ہے۔ زندگی کا مادی نقطہ نظر (materialistic concept of life) پورا کا پورا تفریح (entertainment) کے اصول پر مبنی ہے ۔ اس کے مقابلے میں ، مومنانہ نقطہ نظر یہ ہے کہ ہر چیز میں خدا کی رحمت کو دیکھا جائے ۔ کھانے کو الحمد للہ کہہ کر کھایا جائے۔ لیکن یہ الحمد للہ صرف لسانی تلفظ نہیں ہے، بلکہ وہ شکر سے معمور قلب کا ایک گہرا اظہار ہے۔

9 ستمبر 2009 کی رات کو بارہ بجے ہم لوگ دہلی ائیر پورٹ پر اترے۔ ائیر پورٹ کی طرف سے مجھ کو وہیلی چئیر مہیا کی گئی ۔ میں اس وہیلی چئر پر بیٹھ کر چلا ، مگر تھوڑی دیر میں مجھے سخت انقباض ہونے لگا ۔ یہ وہیلی چئر ایک انڈین آدمی چلا رہا تھا۔ وہ اتنے سست انداز میں وہیلی چئر چلا رہا تھا جس کو عوامی زبان میں مارے باندھے طریقے پر چلانا کہا جاتا ہے، جب کہ اس سے پہلے وارسا اور نیویارک ائیر پورٹ پر یورپین آدمی پورے جوش وخروش کے ساتھ وہیلی چئر چلا رہا تھا۔ مجھے یہ بات سخت ناگوار ہوئی اور میں پاؤں سے چل کر ائیر پورٹ کے باہر آیا۔

دہلی ائیر پورٹ پر پہنچنے کے بعد میرے ساتھی نے مسٹر اشوک ڈرائیور کو ٹیلی فون کیا۔ انھوں نے بتایا کہ میں ائیر پورٹ کے باہر موجود ہوں۔ یہ کرشمہ موبائل ٹیلی فون کا تھا۔ موبائل کے دور سے پہلے مسافر کو یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اس کی کار یا اس کو رسیو کرنے والے لوگ ائیر پورٹ پر آئے ہوئے ہیں یا نہیں ۔ موبائل کی بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ہوائی جہاز کے لینڈ کرتے ہی یہ معلوم کر لیا جائے۔ یہ اللہ تعالی کی عجیب

اس نعمت کو بے شمار لوگ استعمال کر رہے ہیں، ریلوے اسٹیشن پر بھی اور ائرپورٹ پر بھی، لیکن میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو اس عظیم نعمت پر شکرِ خداوندی کے جذبے سے سرشار ہو رہا ہو۔ جب میں دہلی سے سفر کر کے پولینڈ گیا تھا تو وہاں بھی ائرپورٹ پر مجھ کو ریسیو کرنے والے لوگ جب میں وہاں سے دہلی آیا تو یہاں کے ائرپورٹ پر بھی ایسا ہی ہوا۔ میں نے دعا کی کہ خدایا، اِسی طرح میری زندگی کا جہاز ایک دن آخرت کے ائرپورٹ پر اترنے والا ہے۔ تو اپنے فرشتوں کو حکم دے دے کہ وہ وہاں میری مدد کے لیے موجود ہوں اور مجھے اپنے ساتھ لے کر اُس قیام گاہ تک پہنچا دیں جس کے بارے میں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جہاں نہ خوف ہو گا اور نہ حزن۔ (یہ سفر نامہ مولانا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے تیار کیا گیا) मौलाना वहीदुद्दीन खाँ ہندی ترجمہ قرآن زیر نظر ترجمہ، ہندی زبان میں قرآن کا سلیس اور آسان ترجمہ ہے۔ عوام الناس کا خیال رکھتے ہوئے ہندی کے مشکل الفاظ سے اجتناب کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ عام فہم زبان میں ہونے کی بنا پر عوام اور خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔

Printed page