Al-Risala · September 2010

معرفت مقصد انسانیت

Al-Risala, September 2010, pp. 11–15

By Maulana Wahiduddin Khan

علما نے معرفت کو واجب اول بتایا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ معرفت مقصد انسانیت ہے۔ موت سے پہلے کی زندگی آغازِ معرفت کی زندگی ہے، اور موت کے بعد کی زندگی تکمیل معرفت کی موجودہ دنیا میں ایک انسان ابتدائی دریافت کے درجے میں خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ آخرت کی دنیا میں وہ کامل دریافت کے درجے میں خدا کی معرفت حاصل کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفتِ خداوندی ایک فکری عمل (intellectual process) ہے۔ یہ فکری عمل موجودہ دنیا میں شروع ہوتا ہے اور پھر وہ ابدی طور پر آخرت کی دنیا میں جاری رہے گا۔

قرآن کی سورہ نمبر 51 میں بتایا گیا ہے کہ جن اور انس کو صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے (الذاریات: 56)۔ اس آیت میں عبادت سے مراد معرفت الہی ہے۔ آیت کی یہ تفسیر عبداللہ بن عباس اور علی بن ابی طالب کے قول پر مبنی ہے۔ یہی جن وانس کا مقصد تخلیق ہے۔ کا تقاضا تھا کہ جن وانس کو وہ صلاحیت کمال درجے میں عطا کی جائے جس کے ذریعے وہ اعلیٰ درجے میں معرفتِ خداوندی کو حاصل کر سکیں۔ چناں چہ جن وانس کو ایک طرف وہ اعلیٰ دماغی صلاحیت دی گئی جو اس عظیم مقصد کے لیے مطلوب تھی ۔ اور اسی کے ساتھ خارجی اعتبار سے ، اُن کو وہ وسائل دئے گئے جو اس مقصد کی تکمیل میں مددگار بن سکیں۔

معرفت کے لفظی معنی ہیں - ادراک (realisation) ، یعنی کسی چیز کو کامل درجے میں معرفت کو دوسرے لفظوں میں شعوری دریافت (intellectual discovery) کہہ سکتے ہیں۔ یہ دریافت کسی وقتی واقفیت کا نام نہیں ہے، یہ ایک لمبے سفر کا نام ہے۔ انسان کو جس خدا کی معرفت حاصل کرنا ہے، اس کی صفت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ اگر تمام درخت قلم بنا دئے جائیں اور تمام موجود سمندروں اور مزید سات سمندروں کو روشنائی (ink) بنا دیا جائے اور پھر خدا کے کلمات کو لکھنا شروع کیا جائے تو تمام سمندر ختم ہو جائیں گے ، لیکن خدا کے کلمات ختم نہ ہوں گے (لقمان: 27)۔

جس خدا کے کمالات اتنے زیادہ ہوں، اس کی دریافت ایک وقتی واقفیت نہیں ہوسکتی، یہ بلا شبہہ دریافت کا ایک لامتناہی سفر ہے جس کا آغاز تو متعین ہو سکتا ہے، لیکن اس کا اختتام متعین نہیں۔ خدا کی معرفت کا یہ مطلب نہیں کہ مراقبہ (meditation) کرکے تصور کی دنیا میں ذاتِ الہی کی جھلکیاں دیکھنے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح وجد (ecstasy) بھی معرفت کے ہم معنی نہیں۔ معرفت ایک اعلیٰ شعوری حالت ہے جو تخلیقاتِ الہیہ میں غوروفکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ کے مطابق، معرفت کی تعریف (definition) یہ ہے کہ ایک بندہ، رب العالمین کو اُن عظمتوں کے ساتھ دریافت کرے کہ وہی اِس کے لیے اس کی ساری محبتوں کا مرکز بن جائے (البقرۃ: 165)، اور اس کی خشیت کے جذبات تمام تر اٰسی کے ساتھ وابستہ ہو جائیں (التوبۃ: 18)۔ محبت اور خشیت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک بندہ جب تدبر اور تفکر کے ذریعے خالقِ کائنات کو اس کی صفاتِ کمال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کے دل میں بے پناہ حد تک اپنے رب کا اعتراف پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ جب وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ دینے والا خدا ہے، اُس کے سوا کوئی اور دینے والا نہیں تو اس کے دل کی گہرائیوں میں یہ اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر میں خدا کی رحمتوں سے محروم ہو جاؤں تو زمین و آسمان میں میرا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسنِ تقویم (التین: 4) کے ساتھ پیدا کیا۔ اس کو وہ تمام دماغی صلاحیت عطا کردی جس کے ذریعے وہ رب العالمین کی معرفت حاصل کر سکے۔ دوسری طرف، خارجی دنیا (nature) کے اندر معرفت کے تمام اجزا مخفی صورت میں رکھ دئےے۔ اب انسان کا یہ کام ہے کہ وہ معرفت کے ان چھپے ہوئے اجزا کو دریافت کرے اور اعلیٰ معرفت کا تجربہ کر کے اپنے اندر ربانی شخصیت(divine personality) بنائے۔

معرفت کا یہ عمل ایک مسلسل دریافت کا عمل تھا۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ ایک پوری تہذیب (civilization) وجود میں آئے، جو معرفت کے چھپے ہوئے حقائق کو انسان کے لیے کھول

آج تہذیب کے نام سے ہم جس تاریخی واقعے کو جانتے ہیں، وہ اگرچہ مادی تہذیب (material civilization) ہے، لیکن اپنی حقیقی نوعیت کے لحاظ سے یہ دراصل ربانی تہذیب (divine civilization) ہے۔ موجودہ تہذیب دراصل اُس واقعے کا ظہور ہے جس کو قرآن کی سورہ نمبر 41 میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: سنريهم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (حم السجدة: 53)

معرفت کا یہ سفر بہت پہلے جنات کی تخلیق سے شروع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات بنائی اور اس کے انتظام (management) کے لیے فرشتوں کو پیدا کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اْس مخلوق کو پیدا کیا جس کو جن کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے، جن کی تخلیق آگ سے ہوئی (الحجر: 27) جن کو آگ سے پیدا کرنے کا مطلب غالباً یہ ہے کہ جن کی سرگرمیوں کا دائرہ سیاروں کی دنیا سے لے کر ستاروں کی دنیا تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں، بعد کو انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی (الأعراف: 21)۔ اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ انسان کی سرگرمیوں کا مرکز بنیادی طور پر سیارۂ زمین (planet earth) ہوگا۔

معرفتِ خداوندی کا حصول دراصل تخلیق میں چھپے ہوئے ربانی اسرار کی دریافت پر مبنی تھا۔ یہی دریافت وہ چیز ہے جو انسان کو خالق کا کائنات کا تعارف کراتی ہے۔ اِس سے بندہ اور خدا کے درمیان وہ اعلیٰ شعوری تعلق قائم ہوتا ہے جس کو معرفت کہا گیا ہے۔ دریافت کا یہی تاریخی عمل ہے جس کو ہم نے تہذیب (civilization) کا نام دیا ہے۔

اس تہذیبِ معرفت کو وجود میں لانے کا کام سب سے پہلے جن کے سپرد کیا گیا۔ کی روایات میں آیا ہے، جن کے گروہوں نے آپس میں لڑائیاں کیں اور بہت زیادہ فساد برپا وہ تہذیب معرفت کا عمل شروع کرنے میں نا کام رہے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معزول کر دیا۔ اور ان کی جگہ انسان کو زمین پر بسایا گیا، تاکہ وہ تہذیب معرفت کو وجود میں لانے کا مطلوب عمل شروع کر سکیں۔

تہذیبِ معرفت کو عمل میں لانا مکمل طور پر علم و آگہی کا عمل ہے۔ وہ شعور کی سطح (intellectual level) پر انجام پاتا ہے۔ تمام سمندروں کو سیاہی بنانا اور تمام درختوں کو قلم بنانا، جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے، اس میں غالباً اسی کی طرف اشارہ ہے۔ انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ’’ مطالعہ اور کتابت‘‘ کے ذریعہ اس عمل کو شروع کرے۔ پیغمبروں نے انسان کو اس عمل کی طرف متوجہ کیا۔ اس کا ذکر غالباً قرآن کی اُس آیت میں موجود ہے جس میں تعلیم بالقلم کو رب کی معرفت کا ذریعہ بتایا گیا ہے (القلم: 4)۔ مگر انسانیت کا قافلہ پیغمبروں کی ہدایت پر چلنے میں ناکام رہا۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ تعالی نے ایک بڑی امت برپا کی۔ اس امت کا اولین کام یہ تھا کہ وہ تہذیبِ معرفت کے اس مطلوب عمل کو جاری کرے۔ امت کی طویل تاریخ بتاتی ہے کہ امت محمدی بہت جلد سیاسی اقتدار کے راستے پر چل پڑی۔ امت کے افراد نے مسلم ایمپائر قائم کیا، لیکن وہ ربانی تہذیب کا مطلوب ایمپائر قائم نہ کرسکے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلم صوفیا نے معرفت کے حصول کا یہ کام انجام دیا، لیکن یہ ایک غلط نہی ہے۔ صوفیا نے جو کام کیا، وہ تصوف کا کام تھا، اور تصوف اور معرفت دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ تصوف ایک مبنی بر قلب (heart-based) عمل ہے، جب کہ معرفت ایک مبنی بر ذہن (mind-based) عمل ہے۔ صوفیا کی یہ اجتہادی غلطی تھی کہ انھوں نے قلب کو معرفت کا خزانہ سمجھ لیا اور وہ قلب پر مفروضہ محنت کرتے رہے، جب کہ قلب صرف گردشِ خون کا مرکز ہے، نہ کہ معرفت کا مرکز۔

اس اجتہادی غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ صوفیا کا گروہ خدا کی شعوری معرفت کی دریافت سے محروم انھوں نے بطورِ خود جس وجد یا دیدار الٰہی کو دریافت کیا، وہ صرف ایک واہمہ تھا، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی دریافت۔ بدقسمتی سے بعد کے زمانے کے اکثر مسلم علماء بھی اسی صوفیانہ نظریے سے متاثر ہو گئے۔ وہ بھی متصوفانہ اشغال کو معرفت کا ذریعہ سمجھتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صوفیا اور علماء

دونوں حقیقی معرفت سے بے خبرہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پوری مسلم تاریخ میں غالباً کوئی عالم یا صوفی معرفت کے موضوع پر کوئی قابلِ ذکر کتاب تیار نہ کر سکا۔ جن کتابوں کو لوگ معرفت کی کتاب سمجھتے ہیں، وہ حقیقۃً تصوف کی کتابیں ہیں، نہ کہ معرفت کی کتابیں۔

معرفت کے بنیادی اصول خدا کی کتاب میں دئے گئے تھے اور اس کے تائیدی شواہد (supporting evidences) فطرت (nature) میں رکھ دئے گئے تھے۔ اب یہ انسان کا کام تھا کہ وہ فطرت کے شواہد کو دریافت کرے اور اُس کو لوگوں کے لیے ایک معلوم واقعہ بنائے ۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اہل ایمان (believers) اس کام کو انجام نہ دے سکے۔ معاملے میں یہ ہوا کہ اُن کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم نہ بن سکی جو اس کام کو انجام دیتی۔ پیغمبرِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن پھیلا اور ایک پوری امت آپ کے مشن سے وابستہ ہوگئی، لیکن یہاں بھی ایسا ہوا کہ امت محمدی بہت جلد سیاسی اقتدار میں مشغول ہوگئی۔ پہلے انھوں نے اپنا سیاسی ایمپائر بنایا اور جب یہ ایمپائر ٹوٹا تو وہ جہاد کے نام پر اُس کو دوبارہ حاصل کرنے میں لگ گئے۔ اس طرح لمبی تاریخ گزر گئی اور اہل ایمان اس ضروری کام کو انجام نہ دے سکے۔

آیاتِ معرفت کو کھولنے کے کام کے لیے اہل ایمان فرسٹ آپشن (first option) کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن جب انھوں نے یہ کام مطلوب طور پر انجام نہیں دیا تو اس کے بعد غیر اہل ایمان (non-believers) کو سیکنڈ آپشن (second option) کے طور پر منتخب کیا یہ سیکنڈ آپشن مغربی قوموں کا تھا۔ غالباً انھیں قوموں کو قرآن میں یاجوج اور ماجوج (الأنبیاء: 96) کہا گیا ہے۔ اس معاملے میں غیر اہل ایمان کو بطور سیکنڈ آپشن منتخب کرنے کا اشارہ غالباً صحیح البخاری کی ایک روایت میں ملتا ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: إنَّ اللـه ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، كتاب الجهاد والسير، باب إن الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر) یعنی بے شک، اللہ اس دین کی تائید فاجر انسان سے کرے گا۔

Printed page