ربانی معرفت: ایک مطالعہ
Al-Risala, September 2010, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیثِ قدسی ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: کنت کنزاً، فأحببتُ أن أُعرف، فخلقتُ خلقاً، فعرّفتهم بی، فعرفونی (میں ایک خزانہ تھا بغیر پہچانا ہوا، پھر میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں، پھر میں نے ایک مخلوق کو پیدا کیا، پھر اُن کو میں نے اپنی پہچان کرائی، تو انہوں نے مجھے پہچان لیا)۔ اس روایت کو تقی الدین احمد بن تیمیہ (وفات: 728ھ) اور اُن کے ہم فکر علماء نے ضعیف یا بے اصل بتایا ہے۔ لیکن کچھ دوسرے علماء کا کہنا ہے کہ اس کو معنی کے اعتبار سے بے اصل نہیں کہا علی بن محمد نور الدین الملا القاری (وفات: 1014ھ) نے لکھا ہے: معناہ صحیح مستفاد من قوله تعالى (وما خلقت الجنّ والإنس إلا ليعبدون) أى فسّره ابن عباس رضی اللہ عنہا (کشف الخفاء، 2/1011) یعنی اس روایت کا مفہوم درست ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے مستفاد ہے کہ"میں نے پیدا کیا جن اور انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے"۔ یعنی وہ میری معرفت حاصل کریں، جیسا کہ عبداللہ بن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی معرفت کسی انسان کی سب سے بڑی دریافت ہے۔ بلاشبہ معرفت کا حصول ہی کسی انسان کا سب سے بڑا گول (goal) ہے۔ اس کے سوا، کوئی بھی دوسری چیز اتنی بڑی نہیں کہ وہ انسان کا گول بن سکے۔ دوسری مطلوب چیزیں اس معرفت کے تقاضے کے طور پر پیدا ہوتی معرفت اصل ہے، اور بقیہ تمام چیزیں اسی اصل کا نتیجہ۔
معرفت کا یہ سفر انسان اول کی پیدائش کے ساتھ شروع ہوا، اور وہ ابد تک مسلسل جاری رہے اس سفر کا آغاز ہے، لیکن اس کی کوئی انتہا نہیں۔ آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ پیغمبر کا درجہ دے کر، اللہ تعالیٰ نے آدم کو معرفت کا علم بھی دے دیا۔ اس کے بعد یہ علم نسل در نسل انسانیت کے درمیان جاری رہا۔
خدا کے تمام پیغمبر اسی کام میں انسان کی رہنمائی کے لیے آئے۔ پیغمبر گویا کہ معرفت الہی کے مستند گائڈ (authentic guide) کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں
ہزاروں سال تک پیغمبر آتے رہے، مگر بہت کم افراد ایسے تھے جو پیغمبر سے ہدایت لیں یا پیغمبر کا ساتھ لوگ نہ دکھائی دینے والے خدا (unseen god) کی معرفت حاصل نہیں کر پاتے تھے، اس لیے وہ دکھائی دینے والے خدا (seen god) کو پوجتے رہے۔ انسان کی یہی کمزوری ہے جس نے قدیم زمانے میں فطرت پرستی (nature worship) کا کلچر پیدا کیا۔ یہ معرفت کا پہلا دور تھا جو حضرت آدم سے لے کر حضرت ابراہیم تک جاری رہا۔ اس قدیم دور کی طرف اشارہ قرآن کی اس آیت میں موجود ہے: ربّ إنّهنّ أضللن كثيراً (ابراهيم: 36)۔