دوسرا مرحلہ
Al-Risala, September 2010, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت کا دوسرا مرحلہ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام (وفات: 1985 ق م) سے شروع ہوتا ہے۔ وہ قدیم عراق کے شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ اللہ کی ہدایت کے مطابق، ان کے ذریعے ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا۔ وہ منصوبہ تھا، ایسی نسل تیار کرنا جو ماحول کی کنڈیشننگ سے پاک ہو۔ کے لیے انھوں نے عرب کے صحرا میں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسایا۔ ماحول میں تقریباً ڈھائی ہزار سال تک توالد و تناسل کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ نسل تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ اسی نسل میں پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب 570 عیسوی میں اس واقعے کا اشارہ قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: كنتم خير أمة أخرجت للناس (آل عمران: 110)
ایک مستشرق پروفیسر ڈی ایس مارگولی تھ (وفات: 1940) نے اس اسماعیلی نسل کو ہیروز کی نسل (a nation of heroes) کہا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بنواسماعیل کے درمیان کام کر کے ان کو تیار کیا اور ان کے ذریعے ایک بڑی ٹیم بنائی۔ یہی وہ ٹیم ہے جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اس ٹیم نے ساتویں صدی عیسوی میں اگلے دور معرفت کا آغاز کیا۔ اصحابِ رسول نے غیر معمولی قربانیوں کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔
اس انقلاب کو ایک لفظ میں، دورِ شرک کا خاتمہ اور دورِ توحید کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے نہ صرف عرب میں، بلکہ عرب کے باہر دنیا کے دو بڑے ایمپائر، ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کا خاتمہ کیا جو انسانی فکر کی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ انھوں نے فطرت (nature) کو معبودیت کے مقام سے ہٹایا اور اکتشافِ فطرت کا دروازہ کھولا، جس کے نتیجے میں آخر کار جدید سائنسی دور ظہور میں آیا۔
اصحابِ رسول کا دوسرا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے وحی الہیٰ (قرآن) کو ایک محفوظ کلام کی حیثیت دے دی جو کہ اس سے پہلے کبھی کسی آسمانی کتاب کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔ امتِ محمدی کا یہ ایک اہم کارنامہ ہے کہ اس نے ایک ہزار سال تک قرآن کو مستند ترین انداز میں محفوظ رکھا اور اس کو انیسویں صدی عیسوی تک پہنچا دیا۔ انیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہو گیا اور یہ ممکن ہو گیا کہ قرآن کے نسخے کامل صحت کے ساتھ بڑی تعداد میں چھاپ کر ساری دنیا میں پھیلا دئیے جائیں۔ اب اشاعتِ قرآن کا یہ کام اتنے بڑے پیمانے پر ہو چکا ہے کہ اُس میں اب نہ ضیاع کا اندیشہ ہے اور نہ کسی قسم کی تبدیلی کا اندیشہ۔