چوتھا مرحلہ
Al-Risala, September 2010, pp. 18–20
By Maulana Wahiduddin Khan
تہذیبِ معرفت کا چوتھا مرحلہ دراصل تیسرے مرحلے میں پیش آنے والے انقلابی پر اس کی تکمیل (culmination) ہے۔ یہ تکمیل مغربی قوموں کے ذریعے انجام پائی، جن کو قرآن میں یاجوج اور ماجوج (الأنبياء: 96) کہا گیا ہے۔ سفرِ معرفت کے تیسرے مرحلے کے ہیرو اہل ایمان (believers) معرفت کے چوتھے مرحلے کو انجام دینے کا کام غیر اہل ایمان (non-believers) سے لیا گیا۔ اس واقعے کی طرف اشارہ ایک حدیثِ رسول میں موجود ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: إنّ الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، کتاب الجهاد والسیر، باب إنّ الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر)
اس حدیثِ رسول میں ”فاجر“ سے مراد غیر اہل ایمان (non-believers) ہیں۔
یہی غیر اہل ایمان تھے جن کو قرآن اور حدیث میں یا جوج اور ما جوج کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ غیر اہل ایمان وہ مغربی قومیں ہیں جو یورپ کی نشأۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد ابھریں۔ کی نشأۃ ثانیہ کروسیڈس (Crusades) کی طویل جنگ میں مغربی قوموں کی ہار کے نتیجے میں پیدا کروسیڈس کی طویل جنگ چودھویں صدی عیسوی میں ختم ہوئی ۔ اور اسی چودھویں صدی میں مغرب کی نشأۃ ثانیہ کا آغاز ہوا۔
کروسیڈس کی طویل جنگ میں ایک طرف مسلم حکومتیں تھیں اور دوسری طرف تقریباً پورا مسیحی یورپ اس طویل جنگ میں مسیحی قوموں کو ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) ہوئی۔ شکست اُن کے لیے ایک عظیم شاک (super shock) کے ہم معنی تھی۔ اس کے بعد مغربی قوموں میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ اُنھیں اپنے عمل کا میدان مسلح کروسیڈس (armed crusades) کے بجائے، اسپرپچول کروسیڈس (spiritual crusades) کی طرف موڑ دینا چاہیے۔ یہ اسپر پچول کروسیڈس دھیرے دھیرے فطرت (nature) کی تسخیر تک پہنچ گئی۔
اس کے نتیجے میں مسیحی قوموں کو سائنس اور صنعت کے میدان میں غیر معمولی طاقت حاصل وہ دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ نہ صرف مسلم، بلکہ پوری دنیا پر چھا گئے۔ اکتشاف معرفت کے پر اس کا آغاز اہل ایمان نے کیا تھا، اس آغاز میں غیر اہل ایمان نے تائیدی رول ادا کیا اور اس کو تکمیل کے مرحلے تک پہنچادیا۔
پچھلے چند سو سالوں میں مغربی محققین اور مغربی سائنس دانوں نے جو کام انجام دیا ہے، وہ سائنس برائے سائنس کے جذبے کے تحت انجام دیا گیا ہے۔ وہ اپنے آپ میں اور براہِ راست طور پر حق کی معرفت نہیں ہے۔ اس کام کی اہمیت یہ ہے کہ انھوں نے طالبین معرفت کے لیے بنیادی معلومات (data) فراہم کر دیا ہے۔ ان معلومات کو لے کر معرفت کی ایک پوری انسائیکلو پیڈیا تیار کی جاسکتی ہے، جس کے ذریعے دینی حقائق انسان کے اپنے علمی مسلمہ کی سطح پر مدلل ہوسکیں۔ موجودہ زمانے میں جو سائنسی دریافتیں ہوئی ہیں، وہ حقیقتِ تخلیق خداوندی میں چھپے ہوئے
قوانین کی دریافتیں ہیں۔ ان دریافتوں کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اسلامی عقائد کا نظام جو پہلے وحی والہام پر مبنی سمجھا جاتا تھا، اب وہ انسان کے خود اپنے علمی مسلمہ کی بنیاد پر قائم ہوگیا ہے۔ چوتھے دور میں معرفت کا جوسفر طے ہوا، اس کے کئی پہلوتھے۔ اکتشاف فطرت کے ذریعے آفاق وانفس کی نشانیوں کی دریافت، کمیونیکیشن کے ذرائع کا ظہور میں آنا، لوگوں میں تجسس کی اسپرٹ (spirit of enquiry) کا پیدا ہونا، عالمی انٹریشن کا وہ عمل جس کو گلوبلائزیشن کہا جاتا ہے، مذہبی جبر (religious persecution) کا ختم ہونا اور ساری دنیا میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا دور شروع ہونا، تاریخی تحقیقات کے ذریعے یہ ثابت ہوجانا کہ دوسری تمام الہامی کتابیں غیر محفوظ اور غیر مستند ہوچکی ہیں، محفوظ اور مستند کتاب کی حیثیت صرف قرآن کو حاصل ہے، ساری دنیا میں مذہبی مفاہمت (religious understanding) کی فضا کا قائم ہونا، قرآن اور اسلام کا بڑے پیمانے پر نیوز (news) میں آنا، پولیٹکل ایمپائر نہ ہوتے ہوئے، زیادہ بڑے پیمانے پر فکری ایمپائر (ideological empire) کا قیام ممکن ہوجانا، وغیرہ۔