Al-Risala · September 2010

پانچواں دور

Al-Risala, September 2010, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

معرفت کا پانچواں دور وہ ہے جب کہ پیدا شدہ انقلابی مواقع کو استعمال کرکے ایک طرف اعلیٰ درجہ معرفت حاصل کیا جائے اور دوسری طرف اللہ کا پیغام ساری دنیا میں پہنچا دیا جائے۔ قیامت سے پہلے آخری دور انسانیت میں انجام پائے گا۔ اس دور کی پیشین گوئی ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے: لا يبقى علی ظہر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الاسلام (مسند احمد، جلد 4، صفحہ (6) یعنی زمین کے اوپر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ اُس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کردے گا۔

آخری دور کا یہ واقعہ غالباً دو طریقے سے انجام پائے گا۔ ایک، یہ کہ کلمۂ اسلام یا کلام الہی (word of God) کے اندر اقتصادی مفاد (commercial interest) پیدا کیا جائے گا۔ عمومی طور پر خدا کی بات کو پھیلانے لگیں گے، حتی کہ اشاعتِ اسلام کے اس عمل میں غیر مسلم بھی شریک

ہو جائیں گے۔ موجودہ زمانے میں یہ واقعہ بالفعل پیش آرہا ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ظہور میں آنے کے بعد ساری دنیا میں مختلف صورتوں سے اسلام کے پیغام کی اشاعت ہو رہی ہے۔ بڑے بڑے پبلشر اسلام کا لٹریچر چھاپ کر پھیلا رہے ہیں، اور ٹی وی کے بڑے بڑے ادارے اسلام کے پروگرام نشر کر رہے ہیں۔ سیمیناروں اور کانفرنسوں کی صورت میں پوری دنیا میں ہر جگہ بہت بڑے پیمانے پر اسلام کا چرچا ہو رہا ہے، وغیرہ۔

کلمۂ اسلام کی اشاعت کا دوسرا ذریعہ امتِ محمدی ہے۔ امتِ محمدی کے افراد جدید معیار پر اشاعتِ اسلام کا کام انجام دیں گے۔ اس دور میں امت کا ایک منتخب گروہ خصوصی طور پر اشاعتِ اسلام کے اس عمل کی توفیق پائے گا۔ غالباً یہی وہ گروہ ہے جس کو حدیث میں ’اخوانِ رسول‘ (صحیح مسلم، کتاب الطهارۃ) کا لفظ دیا گیا ہے۔

پانچویں دور میں اعلیٰ معرفت کے حصول کی طرف قرآن میں اشارہ موجود ہے۔ قرآن کی اس آیت میں پایا جاتا ہے: سنریہم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (حم السجدة (53) یعنی آئندہ ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور نفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر بخوبی یہ امر واضح ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔ قرآن کی اس آیت میں جدید سائنس کی اُن دریانتوں کی طرف اشارہ ہے جو خاص طور پر انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں سامنے آئی ہیں۔ یہ دریافتیں فطرت میں چھپے ہوئے قوانین الہیٰ کی دریافت ہیں۔ ان دریافتوں نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ انسان کے خود اپنے علمی مسلمہ (scientific criterion) پر خدائی سچائی کو مدلل کیا جا سکے۔

Printed page