مہمان داری کلچر
Al-Risala, September 2010, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
دہلی میں اتوار کی صبح کو ہمارا ہفتہ وار کلاس ہوتا ہے۔ جو لوگ اس میں برابر شریک ہوتے ہیں، ان سب کا یہ کہنا ہے کہ دعوتی اور روحانی غذا کے لئے یہ کلاس بہت مفید ہے۔ مگر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص اس میں شریک نہ ہوگا۔ بعد میں جب پوچھا جائے کہ آپ اتوار کی کلاس میں کیوں نہیں آئے تو وہ کہے گا کہ گھر میں مہمان آگئے تھے۔
یہ مہمان داری کلچر ہے۔ اور آج کل ہر گھر میں اس کلچر کی مثال دیکھی جاسکتی ہے۔ لوگ اس کو سنت کا نام دیتے ہیں، مگر یہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مہمان داری بطور کلچر نہ تھی، بلکہ بطور ضرورت تھی۔
آج کل مہمانوں کا آنا جانا، ان کے کھانے پینے کی دھوم مچانا ایک رواج بنا ہوا ہے۔ میں اس قسم کا رواج ہرگز نہیں تھا۔ قدیم زمانہ میں مہمان کا مطلب صرف یہ تھا کہ اگر اتفاقاً کوئی مہمان اپنی ضرورت کے تحت آجاۓ تو سادہ طور پر اس کو اپنے یہاں ٹھرایا جاۓ۔ کھانے پینے کا کوئی اہتمام نہ کیا جاۓ، یہاں تک کہ مہمان اپنی ضرورت پورا کرنے کے بعد واپس اپنے مقام پر چلا جاۓ۔ آج کل یہ حال ہے کہ مہمان بطور کلچر رواج کے آتے ہیں۔ گھر والے ان کے کھانے پینے کی دھوم کرتے ہیں۔ پھر مہمان اور گھر والے بیٹھ کر دیر دیر تک ادھر اُدھر کی باتیں کرتے ہیں۔ مہمان داری نہیں ہے بلکہ شیطان داری ہے۔ کیوں کہ اس طرح کی مہمان داری میں دل کھول کر فضول خرچی کی جاتی ہے، اور فضول خرچی کو قرآن میں ایک شیطانی کام کہا گیا ہے(27:17)۔
مہمان داری کو اگر فطری دائرہ میں رکھا جائے تو مہمان داری کلچر اپنے آپ ختم ہو جاۓ۔ والوں کو انتہائی سادہ کھانا کھلایا جائے ۔ ان کے لئے گھومنے پھرنے کا پروگرام نہ بنایا جائے ۔ بیٹھ کر گھنٹوں تفریحی باتیں نہ کی جائیں، وغیرہ۔ اگر ایسا کیا جاۓ تو کوئی مہمانی کرنے کے لئے آپ کے یہاں نہیں آۓ گا۔ کسی کو منع کئے بغیر مہمان داری کا کلچر اپنے آپ ختم ہو جاۓ گا۔
حقیقت یہ ہے کہ مہمان داری کلچر اپنے نتیجے کے اعتبار سے قاتل کلچر ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں علم اور دین کا چرچا ہو، جنت اور جہنم کی باتیں ہوں ، خدا کو زیادہ سے زیادہ یاد لیکن مہمان داری کلچر نے ہمارے گھروں سے ان چیزوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔ سنت کے نام پر سنت کا قتل ہے۔
موجودہ مہمان داری کلچر کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ ہمارے گھر روحانیت کے بجائے مادیت کا کارخانہ بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے گھروں میں شیطانی ماحول ہے، نہ کہ ملکوتی ماحول۔ گھروں میں خدا کا چرچا نہیں۔ ہمارے گھروں میں جنت اور جہنم کا تذکرہ نہیں۔ میں قرآن اور حدیث کی خوشبو نہیں۔ ہر گھر بظاہر بھٹڑ بھاڑ کا گھر ہے، لیکن روحانی اعتبار سے ہر گھر ایک سونا قبرستان بنا ہوا ہے۔
مومن کا گھر وہ گھر ہے جہاں داخل ہونے کے بعد فرشتوں کی صحبت ملے، جہاں ایمان میں اضافے کا سامان ہو، جس کے اندر جینا ایمان میں ترقی کا سبب بنتا ہو۔ جہاں خدا اور رسول کی گونج سنائی دیتی ہو۔ ایسا ہی گھر دینی گھر ہے۔ جو گھر ایسا نہ ہو، وہ ایک شیطان خانہ ہے، نہ کہ ایمان خانہ۔
کہانیاں قرآن سے Kahaniyan Quran Se Saturday 8.30 pm, Sunday 9.30 am Monday 4.00 pm, Friday 3.00 am (Zee Salaam is available on Dish TV and DTH, channel no. 786)
الرساله مشن سے وابستہ تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ اپناہی میل اور ٹیلی فون نمبر روانہ فرمائیں۔ ای میل یا فون نمبر کی تبدیلی کی صورت میں اس کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔ مطلوبہ تفصیل ایس ایم ایس (SMS) کے ذریعہ بھی روانہ کی مکمل ایڈریس کے بجائے خریداری نمبر کے ساتھ اپنے نام اور مقام (ضلع اور صوبہ) کی تعیین ضروری ہے: