Al-Risala · September 2010

ایک باس درکار ہے

Al-Risala, September 2010, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

قبرص کی کانفرنس (18-16 نومبر 2008) ایک عالمی امن کانفرنس تھی۔ وہاں دنیا بھر کے تعلیم یافتہ لوگ اکٹھا ہوئے اور امن کے موضوع پر پر جوش تقریریں کیں۔ ان میں کئی ایسے افراد تھے جنھوں نے امریکا کو امن کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا۔ یہ تعلیم یافتہ طبقے کی عام بولی ہے۔ مگر یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ طرزِ فکر کا نتیجہ ہے۔ اس قسم کی باتوں سے کبھی دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ قبرص کی کانفرنس سے واپسی کے جلد ہی بعد 26 نومبر 2008 کی شام کو انڈیا کی کمرشل راجدھانی ممبئی میں بم دھماکے کی خبریں گونجنے لگیں۔ ممبئی میں تین بڑی عمارتیں، تاج ہوٹل، آبراۓ ہوٹل، اور نرین مین ہاؤس آگ کی نذر ہو گئے۔ سیکڑوں لوگ یا تو مر گئے یا زخمی ہو گئے۔ اربوں ڈالر کا مالی کہا جاتا ہے کہ یہ بم دھماکہ پاکستان کے مسلم انتہا پسندوں کی طرف سے کیا گیا۔ مجھ کو جب یہ خبر معلوم ہوئی تو میں بے اختیار رو پڑا۔ میں نے کہا کہ خدایا، تیرے لوگ انسان کے دشمن بن گئے۔ اس قسم کا تشدد بلاشبہ شیطان کے کام سے بھی زیادہ برا کام ہے۔ شیطان، انسانوں کا دشمن ہے۔ شیطان صرف بہکانے کا کام کرتا ہے، اس لیے اس کی دشمنی ایک منفعل دشمنی (passive enmity) ہے، جبکہ اس قسم کا تشدد فعال دشمنی (active enmity) کی حیثیت رکھتا ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (29 نومبر 2008) کے ایڈیٹوریل پیج پر ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کے لکھنے والے مسٹر گوتم ادھکاری (Gautam Adhikari) ہیں۔ اس مضمون کا عنوان یہ ہے— پاکستان کو بچاؤ، سب کو بچانے کے لیے:

Printed page