Al-Risala · September 2010

Save Pakistan to Save us All

Al-Risala, September 2010, pp. 29–31

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے اس مضمون کو پڑھا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک سطحی سوچ ہے۔ زیادہ گہرائی کے ساتھ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ آج کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کوئی’’چودھری‘‘نہیں رہا، جب کہ عالمی امن کے قیام کے لیے ایک عالمی چودھری کا ہونا ضروری ہے۔

یہ سوچ میرے ذہن میں ایک متبادل عنوان آیا جوکہ یہ تھا:

Accept the principle of bossism to save the world. قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر گھر میں ایک قوام (النساء: 34) ہونا چاہئے۔ قوام سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں باس (boss) کہا جاتا ہے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، موجودہ دنیا کا نظام قوامیت (bossism) کے اصول پر قائم کیا گیا ہے۔ گھر کا قوام، کمپنی کا قوام، سماج کا قوام، یہاں تک کہ قوموں کا قوام۔ جہاں قوام نہ ہو، وہاں نظم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس معاملے میں ہمارے لیے جو انتخاب ہے، وہ قوام (boss) اور بے قوام (no-boss) کے درمیان نہیں ہے، بلکہ قوام اور انارکی (anarchy) کے جہاں قوام نہ ہوگا، وہاں انارکی ہوگی، نہ کہ سادہ طور پر صرف بے قوامی کی حالت۔ معیار پسند (idealist) افراد یقیناً اس سے اختلاف کریں گے۔ لیکن یہ مسئلہ نظریاتی اختلاف کا نہیں ہے، بلکہ عملی امکان کا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، اس معاملے میں ہمارے لیے کوئی اور انتخاب نہیں۔ حقیقت پسندی (realism) کا تقاضا ہے کہ ہم قوامیت (bossism) کے اصول کو فطرت کے ایک قانون کے طور پر مان لیں۔ عملی اعتبار سے اس معاملے میں ہمارے لیے کوئی دوسرا انتخاب (choice) سرے سے ممکن نہیں۔

اجتماعی زندگی میں کسی کو قوام ماننے کے بھی بعض مائنس پوائنٹ ہیں، مگر یہ مائنس پوائنٹ چھوٹے شر (lesser evil) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فطرت کا یہ بھی ایک لازمی قانون ہے کہ اگر ہم چھوٹی برائی کو نہ مانیں، تو ہم کو بڑے شر (greater evil) کو ماننا پڑتا ہے۔ اس معاملے میں ہمارے لیے دانش مندی یہ ہے کہ ہم چھوٹی برائی کو مان لیں، تا کہ ہم کو بڑی برائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس اعتبار سے تاریخ کا ایک جائزہ لیجئے۔ ساتویں صدی عیسوی سے پہلے دنیا کے بڑے حصے پر رومن ایمپائر قائم تھا۔ یہ رومن ایمپائر اس وقت کا سپر پاور تھا۔ اصول عام کے مطابق، رومن ایمپائر میں کئی کمیاں تھیں، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رومن ایمپائر کے دبدبے سے دنیا میں امن کا ماحول قائم تھا۔ مورخین اس کو پیکس رومانا (Pax Romana) کہتے ہیں۔

ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی دور آیا۔ اس کے بعد دنیا کے بڑے حصے میں مسلم ایمپائر قائم اس دور میں بھی بعض کمیاں تھیں لیکن اسی کے ساتھ اس کا یہ فائدہ بھی تھا کہ اس کے دببے کے تحت، دنیا میں امن قائم ہوگیا۔ اس کو پیکس اسلامکا (Pax Islamica) کہا جاسکتا ہے۔ اس دور کا ایک علامتی واقعہ یہ ہے کہ عباسی خلافت کے زمانے میں ایک بار ایک سرحدی مقام کے لوگوں میں مرکز سے بغاو ت کا رجحان پیدا ہوا۔ اس موقع پر خلیفہ نے بغاوت کو فرو کرنے کے لیے ایک فوج بھیجنا لیکن خلیفہ کے وزیر نے کہا کہ آپ فوج نہ بھیجیں، بلکہ دھمکی کا ایک خط (warning letter) بھیج دیں، وہی بغاوت کو فرو کرنے کے لیے کافی ہو جائے گا۔ چناں چہ خلیفہ نے اس قسم کا ایک خط باغی لیڈر کے پاس بھیجا اور بغاوت ختم ہوگئی۔ اس واقعے پر ایک عرب شاعر نے یہ شعر کہا کہ۔ لوگ دشمنوں کے خلاف فوج بھیجتے ہیں، وہاں ہم صرف ایک خط بھیج دیتے ہیں: إذا ما أرسل الأمراء جيشاً إلى الأعداء، أرسلنا الكتابا اٹھارھویں صدی عیسوی کے بعد وہ دور آیا، جب کہ برطانیہ سپر پاور بن گیا۔ اتنا وسیع تھا کہ یہ کہا جانے لگا کہ اُس میں سورج نہیں ڈوبتا:

Printed page