Al-Risala · September 2010

The Sun never sets on British Empire.

Al-Risala, September 2010, pp. 31–32

By Maulana Wahiduddin Khan

بیسویں صدی عیسوی کے وسط تک برطانیہ دنیا کا قوام (international boss) بنا رہا۔ بعض کمیوں کے باوجود اس دور میں عمومی سطح پر امن قائم تھا۔ اس امن کو مورخین کے یہاں پیکس برٹانکا (Pax Britannica) کہا جاتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد ایٹمی طاقت کا دور آیا۔ اب امریکا کو دنیا میں سپر پاور کی حیثیت جغرافی اعتبار سے اگر چہ امریکا کے زیر اقتدار رقبہ بہت زیادہ بڑا رقبہ نہ تھا۔ ترقیاتی ذرائع نے امریکا کو یہ موقع دیا کہ وہ بیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں دنیا کا قوام بن یہی وہ دور ہے جب کہ 1962 میں سوویت روس نے کیوبا (Cuba) میں اپنا میزائل اڈہ بنانے کی کوشش کی۔ اُس وقت امریکا کے صدر جان ایف کینڈی (missile installation)

(وفات: 1963) نے دھمکی دی کہ اس اڈے کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اس کے فورا بعد فوجی سامانھوں سے لدے ہوئے روسی جہاز کیوبا کے ساحل کو چھوڑ کر روس واپس چلے گئے۔

اس طرح امریکی دور میں جو بدبہ قائم ہوا، اس کے تحت دنیا میں ہر جگہ امن قائم ہو گیا۔ امن کو عام طور پر پیکس امریکا نا (Pax Americana) کہا جاتا ہے۔ اب جو مسئلہ ہے، وہ یہ کہ خلیج جنگ (2003) میں امریکا کی بظاہر ناکامی نے امریکا کے سپر پاور ہونے کی حیثیت کو غیر مؤثر کر دیا اس جنگ میں امریکا کو پانچ ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ امریکا کی اقتصادی حالت نا قابل تلافی حد تک بگڑ گئی ۔ جدید دنیا کا جو مسئلہ ہے، وہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کوئی عالمی قو ام (international boss) موجود نہیں۔ اس کے نتیجے میں ہر طرف انار کی پھیلی ہوئی ہے۔ اب کوئی ایسی بڑی طاقت نہیں جو اس انار کی کو کنٹرول کر سکے۔

عالمی قو امیت (international bossism) کا یہ اصول عملاً دو طریقوں سے قائم ہوتا ہے ا ایک، یہ کہ باس اتنا طاقت ور ہو کہ وہ بزور لوگوں کو اطاعت پر مجبور کر سکے۔ پیکس برٹانیکا اس کی ایک مثال ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ماتحت قوم اتنی دانش مند ہو کہ وہ خود اپنے فیصلے سے، باس کی ماتحتی کو قبول کر لے۔ حضرت سلیمان کے مقابلے میں، قدیم یمن کی ملکہ سبا کا رویہ اس کی ایک تاریخی مالی رویوں کرتے۔ حریت پیمان کے مہاہے ہیں۔ ندیم احمد کی (27 نومبر 2008)

Printed page