Al-Risala · September 2010

Whatever happened, happened for good.

Al-Risala, September 2010, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر عورت اور مرد کی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے، کوئی ایسا تجربہ گزرتا ہے جو ہمارے لیے غیر مطلوب تھا۔ ایک طرف یہ تجربہ ہوتا ہے اور دوسری طرف ہم کو یہ محسوس ہوا ہے کہ اس صورتِ حال کو بدلنا بظاہر ہمارے بس میں نہیں۔

یہی وہ ناخوش گوار صورتِ حال ہے جو لوگوں کے اندر منفی سوچ پیدا کرتی ہے اور لوگوں کو ٹینشن یا اسٹریس میں مبتلا کردیتی ہے۔

مذکورہ قول اس مسئلے کا سادہ حل ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ جو کچھ ہوا، وہ محکم قانونِ فطرت کے اور جو واقعہ وسیع تر قانونِ فطرت کے تحت پیش آئے، وہ یقیناً مجموعی خیر کے لیے ہوا ہے، اور جو چیز مجموعی خیر کے تحت ہو، ہمارا انفرادی خیر بھی بہرحال اس میں شامل ہوگا۔ ”جو ہوا وہی خیر تھا“ کا مطلب یہ ہے کہ جو ہوا، وہی ممکنہ طور پر بہتر تھا۔ اسباب و علل کی اس دنیا میں اس کے سوا کسی اور چیز کا امکان ہی نہ تھا۔ یہی حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر ہے۔ یہ واحد نقطۂ نظر ہے جو کسی عورت یا مرد کو ٹینشن سے بچا سکتا ہے۔ یہی واحد نقطۂ نظر کسی عورت یا مرد کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ موجودہ دنیا میں پرسکون ذہن (peaceful mind) کے ساتھ رہ سکے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی دوسرا فارمولا یا تو قابلِ عمل نہیں یا وہ صرف ایک وقتی قسم کا نفسیاتی ریلیف (temporary relief) دیتا ہے، نہ کہ اصل مسئلے کا کوئی واقعی حل۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹینشن ایک فکری مسئلہ ہے اور فکری سطح کی تدبیر کے ذریعے ہی اس کو حل کیا جاسکتا ہے۔

Printed page