ایک عمومی مسئلہ
Al-Risala, September 2010, pp. 38–40
By Maulana Wahiduddin Khan
اردو شاعر اکبر الہ آبادی (وفات: 1921) کے زمانے میں حکومت برطانیہ نے ہندوستان میں انگریزی تعلیم کو رواج کیا۔ اُس زمانے کے علماء عام طور پر انگریزی تعلیم کے بارے میں منفی خیال رکھتے اکبر الہ آبادی نے اس خیال کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا:
ہم ایسی گل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں یہ سو برس پہلے کی بات ہے۔ آج یہ معاملہ صرف کچھ درسی کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ آج وہ ایک عمومی کلچر بن چکا ہے۔ آج جو لڑکیاں اور لڑکے انگریزی تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہ اسی کے ساتھ مغربی کلچر سے شدید طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ بہت سنگین صورت میں برآمد ہوا ہے۔ ان کے دل سے اپنے والدین کی عظمت نکل جاتی ہے۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ کچھ نہیں جانتے۔ اصل یہ ہے کہ ان لڑکوں اور لڑکیوں کے والدین خود تو عام طور پر انگریزی اسکولوں کے پڑھے ہوئے نہیں ہوتے، مگر وہ اپنے بچوں کو نہایت مہنگے قسم کے انگریزی اسکولوں میں پڑھاتے ہیں۔ ایک خطرناک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ بچے جب اسکولوں اور کالجوں سے تعلیم پا کر گھر لوٹتے ہیں تو ان کے اور ان کے والدین کے درمیان ایک واضح نابराबरी پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔ مثلاً بچے برٹش یا امریکن لہجے میں انگریزی بولتے ہیں، لیکن ان کے والدین یا تو انگریزی جانتے ہی نہیں، یا وہ ناقص لہجے میں انگریزی اس فرق کی بنا پر شعوری یا غیر شعوری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ بچوں کے اندر اپنے بارے میں برتری کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو زیادہ اور اپنے والدین کو کم سمجھنے لگتے ہیں۔ نتیجے میں وہ صورت حال پیدا ہوتی ہے جس کو ایک حدیث رسول میں پیشین گوئی کے طور پر اس طرح بتایا گیا ہے کہ اولاد خود اپنے آپ کو اپنے والدین کا آقا سمجھنے لگے گی (أن تلد الأمة ربتها)۔ یہ صورت حال مشرق سے لے کر مغرب تک، تمام مسلم خاندانوں میں پیدا ہو چکی ہے۔ تقاضا ہے کہ لوگ اپنے آپ پر نظر ثانی کریں اور اس مسئلے کا موثر حل دریافت کریں۔
سوال و جواب 2003 میں جب عراق اور امریکہ کے درمیان تنازع پیدا ہوا، اُس وقت آپ نے عراق کے سابق صدر صدام حسین (وفات : 2006) کے نام ایک مفصل خط لکھا تھا، جو الرسالہ، جون 2003 میں ”صدام حسین کے لیے انتخاب“ کے عنوان سے چھپا تھا۔ اس خط میں آپ نے دوسری باتوں کے علاوہ، صدام حسین کو وقتی طور پر دست برداری کا طریقہ اپنانے کی تلقین کی تھی۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا قرآن اور سیرت میں اس معاملے کی کوئی مثال موجود ہے (خطیب اسرار الحسن عمری، تمل ناڈو) قرآن کی سورہ نمبر 27 میں ملکہ سبا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ حضرت سلیمان نے ملکہ سبا سے سیاسی دست برداری کا مطالبہ کیا۔ ملکہ سبا نے اس مطالبے کو مان لیا۔ کیوں کہ مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں ذلت اور فساد کا اندیشہ (النمل : 37) تھا، جب کہ مطالبہ ماننے کی صورت میں قوم سبا کے تمام تجارتی مفادات بدستور محفوظ رہتے تھے۔ ملکہ سبا کی اس روش کو قرآن میں ایک مثبت روش کے طور پر بیان کیا گویا کہ اس روش کو قرآن کی کھلی ہوئی تائید حاصل ہے۔ اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ کسی وقت دست برداری سے اگر ایک بڑا فائدہ ملتا ہو تو اس دست برداری کو قبول کر لینا چاہئے، کیوں کہ وہ حضرت عمر کے الفاظ میں، دو شر میں سے بہتر شر (خیر الشرین) کے انتخاب کے ہم معنی ہے۔ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے اس اصول کی تصدیق ہوتی ہے۔ مثلاً آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو وہاں کے سرداروں کی طرف سے آپ کے مشن کی سخت مخالفت کی جو لوگ آپ پر ایمان لاتے، اُن کو طرح طرح ستایا جاتا۔ اُس وقت آپ نے 5 نبوی میں اہل ایمان کو مشورہ دیا کہ وہ مکہ چھوڑ کر پڑوسی ملک حبش (Abyssinia) چلے جائیں۔ چناں چہ مجموعی طور پر 119 اہل ایمان مکہ سے حبش چلے گئے۔ اُس وقت آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ مکہ ہمارا وطن ہے، اس لیے ہم یہاں رہیں گے اور ہر قیمت پر اپنے حق کی لڑائی لڑتے رہیں گے۔
ہجرتِ مدینہ بھی اِسی اصول کی ایک مثال ہے۔ مکہ کے سرداروں نے جب دار الندوہ میں یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو قتل کر دیا جائے، اُس وقت آپ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ مکہ میرا وطن ہے اور میں کسی بھی قیمت پر اپنے وطنی حق سے دست بردار ہونے والا نہیں۔ اِس اصول کی حکمت یہ ہے کہ ایک وقتی اور جُزئی دست برداری کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ملک میں امن قائم رہتا ہے اور یہ امکان باقی رہتا ہے کہ مواقع (opportunites) کو استعمال کر کے اپنی ترقی کے سفر کو جاری رکھا جائے۔
موجودہ زمانے میں عراق اور افغانستان کے مسئلے کو بہت بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں مسئلے صرف اِس لیے پیدا ہوئے کہ وہاں کے مسلم لیڈروں نے دانش مندی کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ مذکورہ اصول کے مطابق ، اگر عراق اور افغانستان میں ”خیر الشّریّن“ کے اصول کو اختیار کیا جاتا تو یہ مسئلہ بہت پہلے ختم ہو چکا ہوتا، اور عراق اور افغانستان اپنی توانائی کو تخریب کے بجائے تعمیر میں استعمال کرنے کے قابل ہو جاتے۔