سوال و جواب
Al-Risala, September 2010, pp. 40–42
By Maulana Wahiduddin Khan
The Quran says: ‘Does God have daughters while you have sons?’ (51: 39) So, Maulana, does this mean that women are inferior than men? If not, what does the words of the Quran quoted above, signify? Our society considers women lowly, and accordingly is unjust to women. Maulana, is it just my misconception, or does God also place women inferior to men? If it is my misconception, please clarify it for me, so that I do not sin unknowingly. I just want to know the true interpretation of these verses, and I believe that only you can help me understand it clearly. As I have said earlier, you have given me a new life by erasing the myths about women I had since my childhood. My other question lies in Chapter 2, verse 281-282 where it states that one man is equal to two women, as a witness. Is this ratio conditional according to the matter because this is the matter between two men where one is lender and another is borrower, here in this case a
آپ نے قرآن کے حوالے سے دو سوالات کیے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ نے قرآن کے جو حوالے دئے ہیں، ان حوالوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورت کا درجہ مرد کے مقابلے میں کم ہے۔ طرح ان حوالوں کا یہ مطلب بھی نہیں کہ عورت کا ایمان مرد کے ایمان کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ آپ کے ان دونوں سوالوں کی یہاں وضاحت کی جاتی ہے۔
قرآن کی سورہ الطور اور سورہ النجم میں جو بات کہی گئی ہے، وہ مشرکین کے اپنے عقیدے کی نسبت سے ہے، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کی نسبت سے۔ ان آیتوں میں ایک سادہ منطق (simple logic) کے ذریعے مشرکین کے عقیدے کی تردید کی گئی ہے۔ مشرکین اپنے تصور کے مطابق، بیٹے کی پیدائش پر خوش ہوتے تھے اور بیٹی پیدا ہونے پر افسردہ ہوجاتے تھے۔ (النّحل: 58)، پھر یہی لوگ یہ مانتے تھے کہ فرشتے، خدا کی بیٹیاں ہیں (الزخرف: 19)۔
اس کو لے کر کہا گیا کہ تم خود اپنے تصور کے مطابق، غیر سنجیدہ ثابت ہو رہے ہو۔ اس معاملے میں سنجیدہ ہوتے تو تم ایسا کبھی نہ کہتے، کیوں کہ خدا بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، پھر ایسا کیوں کر ممکن تھا کہ خالق اپنی مخلوق کے لیے تو تمھارے تصور کے مطابق، بیٹیاں اور خود اپنے لیے بیٹی کا انتخاب کرے جس کی حیثیت تمھارے نزدیک کم تر ہے۔ قرآن کی یہ آیتیں اس معاملے میں بیانِ واقعہ نہیں ہیں، بلکہ اس میں الزامی جواب کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے، یعنی
مخاطب کے اپنے ماننے ہوئے عقیدے کی بنیاد پر اس کی تردید کرنا۔
جہاں تک عورت اور مرد کے درجے کا تعلق ہے، اس کا بیان قرآن کی سورۂ آل عمران میں آیا آیت کے الفاظ یہ ہیں: بعضكم من بعض:
You are members, one of another (3:195)
2 - آپ کا دوسرا سوال عورت کی گواہی کے بارے میں ہے۔ اس کا بیان قرآن کی سورۂ البقرہ کی آیت نمبر 282 میں آیا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں عورت اور مرد کی گواہی کے درمیان جو فرق کیا گیا ہے، وہ امتیاز (discrimination) کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ وہ ایک فطری حقیقت کی بنا پر ہے۔ اصل یہ ہے کہ عورت اور مرد درجے کے اعتبار سے، پوری طرح مساوی ہیں، لیکن زندگی میں رول کے درمیان دونوں کے درمیان فرق ہے۔ اِسی مختلف رول (different role) کی بنا پر عورت اور مرد دونوں کی صلاحیتوں میں فرق رکھا گیا ہے۔
حیاتیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ عورت اور مرد کے دماغ کی بناوٹ ایک نہیں ہے، بلکہ دونوں میں فرق ہے، وہ یہ کہ عورت کا دماغ متعدد فرخی (multi focussed) دماغ ہے۔ اس کے مقابلے میں، مرد کا دماغ واحد رخی (single focussed) ہے۔ یہ فرق روز مرہ کی زندگی کے لیے بہت اہمیت رکھتا لیکن جب کوئی اتفاقی واقعہ پیش آئے تو وہاں یہ امکان رہتا ہے کہ مرد اپنی دماغی بناوٹ کے تحت مذکورہ واقعے کو پورے ارتکاز (concentration) کے ساتھ دیکھ سکے۔ اس کے مقابلے میں عورت کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذہنی بناوٹ کی بنا پر واقعے کو غیر ترکيزى انداز میں دیکھے، اس کا ذہن واقعے کے کسی جز کوریکارڈ کرے اور اس کے کسی دوسرے جز کوریکارڈ نہ کر سکے۔ اسی لیے عورت کی گواہی کی صورت میں دو عورتوں کی شرط رکھی گئی، تا کہ قرآن کے الفاظ میں، ایک عورت اگر بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا دے : أن تضل إحداهما فذكر إحداهما الأخرى:
So that if one of the two women should forget, the other can remind her. (2:282)