جنوبی ہند کا سفر
Al-Risala, October 2010, pp. 51–29
By Maulana Wahiduddin Khan
جنوبی ہند میں ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے جو جامعہ دارالسلام، عمر آباد (تمل ناڈو) کے نام سے وہ ابتدائی طور پر 1924 میں قائم ہوا اور اب وہ ایک بڑا تعلیمی مرکز بن چکا ہے۔ کے چند بڑے اسلامی مدارس میں سے ایک ہے۔ اس ادارے کی دعوت پر جنوبی ہند کا سفر ہوا۔ 7 جون 2010 کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی، اور 11 جون 2010 کی شام کو دوبارہ دہلی کے لیے اس سفر میں مولانا محمد ذکوان ندوی میرے ساتھ تھے۔
اس سفر کے لیے ہمارا آررویشنگ جیٹ ایروویز سے تھا۔ دہلی کا ائر پورٹ دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے۔ نیا ائر پورٹ ترقی یافتہ ملکوں کے معیار پر بنا ہے۔ ائر پورٹ پر بدستور لوگوں کی بھیڑ نظر آئی۔ لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ لوگوں نے اس کو بڑے شوق سے لیا۔ زمانے کے نئے مظاہر میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ اسلام کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ میڈیا میں بار بار اسلام کی نسبت سے کچھ نہ کچھ خبریں آتی رہتی ہیں۔ اس سے لوگوں کے اندر تجسس (curiosity) پیدا وہ اسلام کے بارہ میں مزید جاننا چاہتے ہیں۔
ائر پورٹ کے اندر لوگ تیزی سے ادھر اُدھر چل رہے تھے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل تھا اور وہ کان پر موبائل رکھے ہوئے اپنے عزیزوں اور رشتے داروں سے بات کر رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ ہر ایک، انسان سے باخبر ہے، لیکن کوئی بھی خدا سے باخبر نہیں۔ وہ خدا جس نے اُس کو پیدا کیا، وہ خدا جس نے دنیا میں ایسے اسباب رکھے جن کے ذریعے موبائل اور ہوائی جہاز جیسی چیزیں بنانا ممکن ہوا۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو مخلوق سے باخبر ہیں، لیکن اُنھیں خالق (Creator) کی کوئی خبر نہیں۔ 7 جون 2010 کو ہمیں جس فلائٹ (Jet Airways Konnect-9W2255) سے مدراس (چینئی) کے لیے روانہ ہونا تھا، اس کا مقرر وقت صبح ساڑھے دس بجے تھا۔ مگر جہاز ایک گھنٹہ لیٹ ہو کر روانہ ہوا۔ اگلے دن کے اخبار سے معلوم ہوا کہ اس کا سبب یہ تھا کہ انڈین پرائم منسٹر من موہن سنگھ
اسی صبح دہلی سے سری نگر (کشمیر) جانے والے تھے۔ اس بنا پر 50 فلائٹس دیر سے روانہ ہوئیں اور دہلی آنے والی فلائٹس کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دہلی اترنے کے بجائے جے پور (راجستھان) چلی جائیں۔ اوقات میں اس تبدیلی کی بنا پر ہزاروں مسافروں نیز ایئر پورٹ کے عملہ کو سخت پریشانی ہوئی۔ پیشگی اطلاع کے بغیر کیا گیا۔ ہندوستان ٹائمنر (8 جون 2010) کی رپورٹ کے مطابق، ایئر پورٹ کے ایک آفیسر نے کہا کہ ان تبدیلیوں کے بارے میں ہم کو پیشگی طور پر کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی: دہلی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اسی قسم کا واقعہ 26 مئی 2010 کو ہوا تھا، جب کہ موجودہ انڈین صدر جمہوریہ مسز پرتبھا پاٹل کو اسپیشل جہاز سے چین کے سفر پر روانہ ہونا تھا۔ سیاسی عہدے داروں کی طرف سے اس قسم کی بد نظمی کے واقعات بار بار ہوتے رہتے ہیں۔ اُن کو دیکھ کر مجھے یہ حدیثِ رسول یاد آتی ہے: إذا وُسِّد الأمر إلى غير أهله فانتظروا الساعة (صحيح البخاري، كتاب العلم) یعنی جب نا اہل لوگ عہدے دار بنائے جانے لگیں، تو قیامت کا انتظار کرو۔ پرواز کے دوران جیٹ ایئر کی فلائٹ میگزین (Jet Wings) کا شمارہ جون 2010 دیکھا۔ اس شمارے میں زیادہ تراشتہار ات تھے۔ ایک مضمون کا عنوان یہ تھا:
اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ ویتنام جنگ (Vietnam War) کے بعد امریکا میں مایوسی کا ایک دور آیا۔ بہت سے نوجوان ہیپی (Hippie) بن گئے۔ اُنھیں میں سے شکاگو کا ایک امریکی نوجوان رچرڈ سلاون (Richard Slavin) تھا۔ ویتنام جنگ (1960-1973) کے بعد وہ روحانیت کی تلاش میں امریکا سے نکلا۔ مختلف ملکوں کا سفر کرتے ہوئے وہ انڈیا پہنچا۔ یہاں اس نے بہت سے سوامی لوگوں سے ملاقات کی۔ وہ بھکتی یوگا سے متاثر ہوا۔ اُس نے غاروں اور جنگلوں میں دھیان گیان کیا۔
اس نے اپنا نام بدل کر رادھاناتھ سوامی (Radhanath Swami) رکھالیا۔ اس نے اپنے تجربات پر مشتمل انگریزی زبان میں ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے:
The Journey Home-Autobiography of an American Swami تبصرہ نگار (Maria De Luca) کے مطابق، اُس کو وہ سکون نہ مل سکا جس کی تلاش میں وہ امریکا سے نکلا تھا۔ چناں چہ آج کل مذکورہ نوجوان کمیونٹی سروس میں مشغول ہے۔ تبصرہ نگار نے لکھا ہے یہ کتاب گویا کہ مصنف کے ذاتی کنفیوژن کی ایک دیانت دارانہ یادداشت ہے: The book is an honest memoir of his personal confusion اس قسم کے ہزاروں لوگ ہیں جنھوں نے آشرام میں یا پہاڑوں اور جنگلوں میں میڈیٹیشن (meditation) کے ذریعے ذہنی سکون حاصل کرنا چاہا، مگر اُن کو ذہنی سکون نہیں ملا۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی سکون کا راز میڈیٹیشن نہیں ہے، بلکہ مثبت فکر کی بنیاد پر ذہن کی تشکیل نو (re-engineering) مگر ار باب خانقاہ اور ارباب آشرام دونوں ہی اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔ دہلی ایئر پورٹ سے جہاز روانہ ہوا تو فضا میں کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ پھر جب وہ اوپر اٹھ کر 35 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچاتو کالے بادل جہاز کے نیچے جاچکے تھے اور فضا میں ہر طرف روشن سورج چمک رہا تھا۔ یہ گویا اس بات کا ایک تمثیلی مظاہرہ تھا کہ اگر انسان مادی اندھیروں سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے تو وہ دیکھے گا کہ ہر طرف سچائی کی روشنی پھیلی ہوئی ہے۔
جہاز کے مسافروں میں کئی لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ اس کو اس شوق سے لیا جیسے کہ وہ پہلے سے اُس کے منتظر تھے۔ ان میں سے دو لوگوں کے نام یہ ہیں: Dr. A K Shukla, Dept. of Chemistry, SPM Govt College, Dr. MS Mittri (German) Director Multinational Company, Chennai دہلی سے مدراس کی دوری ایک ہزار سات سو کلومیٹر (1,700 km) ہے۔ یہ سفر تقریباً ڈھائی گھنٹے میں طے ہوا۔ مدراس ایئر پورٹ پر اترتے ہوئے میرے ساتھی نے چاہا کہ وہ قرآن کا
ترجمہ جہاز کے کیپٹن (M Laurens) کو دیں۔ وہ کیبن کے پاس پہنچے تو سب سے پہلے کوپائلٹ (co-pilot) سے ملاقات ہوئی۔ ان کا نام مسٹر شجاع الدین تھا۔ ہمارے ساتھی نے انگریزی ترجمہ کی دو کاپی ان کو دی اور کہا کہ ایک کاپی آپ اپنے پاس رکھیں اور ایک کاپی پائلٹ کو دے دیجئے۔ تعجب کے ساتھ کہا کہ: وہ تو کرسچن (مسیحی) ہیں۔ مختصر گفتگو کے بعد وہ راضی ہوئے کہ قرآن کا یہ نسخہ وہ جہاز کے کیپٹن مسٹر لارینس تک پہنچادیں گے۔
یہی موجودہ زمانے میں تقریباً تمام مسلمانوں کی سوچ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن ان کی اپنی اگر قرآن، غیر مسلموں کو دیا گیا تو وہ اس کی بے حرمتی کریں گے۔ " بے حرمتی" کے اس تصور کا نتیجہ ہے کہ پرنٹنگ پریس کے پورے دور میں قرآن عملاً صرف مسلمانوں کی کتاب بنا رہا، وہ غیر مسلموں تک بہت کم پہنچ سکا۔
ائیر پورٹ کے عملہ میں مدراس کے ایک صاحب انجینئر محمد آزاد جہاز سے اترتے ہی مل گئے۔ انھوں نے سہولت ائیر پورٹ کی تمام کارروائی مکمل کر دی۔ ہم لوگ ائیر پورٹ سے باہر نکلے تو وہاں جامعہ دارالسلام کی طرف سے مولانا فیاض الدین عمری اور مولانا سید اقبال احمد عمری اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے۔ مدراس سے جامعہ دارالسلام 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ سفر بذریعہ کار طے ہوا۔ روڈ بہت اچھی تھی۔ یہ وہی روڈ ہے جس کو نیشنل ہائی وے (نمبر 46) کہا جاتا ہے۔ ہائی وے کو ایک مسلم بلڈر نے بنایا ہے۔
ہماری کار کے ڈرائیور مسٹر مورتی (44 سال) تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ 30 سال سے ڈرائیونگ کا کام کر رہے ہیں، مگر اُن کے ساتھ کبھی روڈ ایکسیڈنٹ کا معاملہ پیش نہیں آیا۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ ڈرائیونگ کے لیے ان کا سادہ فارمولا یہ ہے۔ پہلے سیفٹی پھر اسپیڈ۔ یہ فارمولا صرف کامیاب ڈرائیونگ کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس فارمولے کی یکساں اہمیت کامیاب قیادت کے لیے بھی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم قائدین نے مسلم ملت کو ہر جگہ صرف تباہی سے دوچار کیا ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ وہ مذکورہ ڈرائیور کی طرح قیادت کا کامیاب فارمولا دریافت نہ کر سکے۔
راستے میں ہم لوگ عصر کی نماز پڑھنے کے لئے میل وشارم (Melvisharam) میں کچھ دیر کے لئے ٹھہرے ۔ میل وشارم، ضلع ویلور (Vellore) کا ایک خوب صورت ٹاؤن ہے۔ یہ مدراس سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں مسلم تاجروں نے کئی اچھے کالج اور ہاسپٹل قائم کئے ہیں۔ انھیں اداروں میں سے ایک عربی مدرسہ مفتاح العلوم ہے۔ وہ 1976 میں قائم کیا گیا۔ یہاں حفظ کے علاوہ، عالمیت تک درسِ نظامی کی تعلیم ہوتی ہے۔ طلبہ کی تعداد تقریباً 500 ہے۔ مفتی ریاض احمد قاسمی اس کے مہتمم ہیں۔ یہاں کے وسیع مہمان خانے میں اساتذہ کی ایک نشست ہوئی۔ اس موقع پر میں نے جو گفتگو کی، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
ہندوستان میں پچھلی صدیوں میں افغانستان اور ایران وغیرہ کے راستے سے مسلم سلاطین ان سلاطین نے صرف اپنی سلطنتیں قائم کیں اور سیاسی فتوحات کی تاریخ بنائی۔ یہاں حقیقی معنوں میں کوئی دینی کام انجام نہیں دیا۔ اب ان کی یادگار صرف قلعے اور مقبرے ہیں، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہندوستان میں حقیقی معنوں میں مثبت دینی کام اُن لوگوں نے انجام دیا جن کو علماء اور صوفیا کہا جاتا ہے۔ علماء نے مدرسے قائم کر کے دینی علم کو زندہ رکھا۔ صوفیا نے خانقاہوں کے ذریعے دعوت اور روحانیت اور اخلاقیات کا عمل انجام دیا۔
مدرسہ اور خانقاہ کا طریقہ دوسرے الفاظ میں، غیر سیاسی دائرے میں جدوجہد کا طریقہ ہے۔ تبلیغی جماعت ایک اعتبار سے اسی طریقِ عمل کا ایک تسلسل ہے۔ انڈیا کی اس انفرادی صفت کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ موجودہ زمانے میں یہاں ملٹنسی (militancy) نہیں پھیلی، جیسا کہ اکثر مسلم ملکوں میں ہوا مثلاً پاکستان، افغانستان، ایران، وغیرہ۔ میل وشارم میں عصر کی نماز پڑھنے کے بعد ہم لوگ آگے کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں ہمارے ساتھیوں نے اساتذہ اور طلبہ کو دعوتی لٹریچر دیا۔ یہ پورا سفر فطرت کے ماحول میں ہوا۔ کشادہ سڑک کے دونوں طرف سر سبز درختوں کے مناظر تھے۔ یہ عام طور پر ناریل کے درخت تھے۔ درختوں کے پیچھے پہاڑی سلسلے نظر آ رہے تھے۔ ہلکی بارش نے موسم کو نہایت خوشگوار بنا دیا تھا۔ سڑک کے کنارے کہیں کہیں خوب صورت گاؤں نظر آتے تھے۔
سفر کے دوران ہمارے ساتھی برابر موبائل کے ذریعے باہر کی دنیا سے ربط قائم کئے ہوئے ایک طرف دہلی کے لوگوں سے، اور دوسری طرف عمر آباد کے لوگوں سے ۔ دہلی سے عمر آباد تک ہمارے ساتھیوں کو پتہ تھا کہ اس وقت ہم کہاں ہیں ۔ یہ سفر کا ایک نیا تصور ہے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ شکایتوں میں جیتے ہیں، وہ بظاہر انسان کے شاکی ہوتے ہیں، لیکن حقیقتاً وہ خداوند ذوالجلال کی ناشکری کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اگر وہ سوچیں تو اس طرح کا سفر قدیم زمانے میں کسی بادشاہ کے لیے بھی ممکن نہیں تھا۔ ہم لوگ دہلی میں کار سے روانہ ہوئے ۔ بعد ہم ہوائی جہاز کے ذریعے مدراس پہنچے۔ اس کے بعد ہم دوبارہ کار کے ذریعے جامعہ دارالسلام جارہے یہ سفر اس طرح طے ہو رہا ہے کہ ہم لوگ ایک طرف اپنے دہلی کے ساتھیوں سے اور دوسری طرف جامعہ دارالسلام کے لوگوں سے پوری طرح مربوط ہیں۔ قدیم زمانے میں اس قسم کا سفر کسی بادشاہ کے لیے بھی ممکن نہ تھا۔ ایسی حالت میں ہم کو پر شکر میں جینا چاہیے، نہ کہ ناشکری میں۔ مدراس سے 180 کلومیٹر کا سفر طے کرکے ہم لوگ 7 جون 2010 کی شام کو مغرب کے بعد جامعہ دارالسلام پہنچے۔ یہاں ہمارا قیام جامعہ کی لائبریری (مکتبہ عمر) کی جدید عمارت میں تھا۔ وسیع دو منزلہ عمارت ہے۔ اس میں کتب خانہ، ریڈنگ روم، لیکچر ہال اور کچھ کمرے بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا قیام اسی مکتبہ کے ایک کمرے میں تھا۔
عمر آباد میں کا کا فیملی کا ایک کافی بڑا فارم ہاؤس ہے۔ معلوم ہوا کہ جامعہ کے ذمے داران میرے قیام کا انتظام اسی فارم ہاؤس میں کر رہے تھے۔ لیکن کا کا انیس احمد عمری نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح میں طلبا اور اساتذہ سے دور ہو جاؤں گا اور زیادہ ملاقاتیں اور انٹرایکشن نہ ہوسکے گا۔ چناں چہ کا کا انیس احمد عمری کی مداخلت سے، میرے لیے لائبریری کی مذکورہ عمارت میں قیام کا انتظام کیا گیا۔ یہ میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ اس طرح میرے لیے ممکن ہو گیا کہ جامعہ میں قیام کے دوران وہاں کے مواقع کو میں پوری طرح استعمال کرسکوں۔
ہم لوگ مغرب کی نماز سے فارغ ہوئے تھے کہ جامعہ کے ذمے داران اور اساتذہ ملاقات
کے لیے آگئے مولانا کا کا سعید احمد عمری (معتمد عمومی جامعہ)، مولانا کا کا انیس احمد عمری، مولانا ڈاکٹر عبد اللہ جوله، مولانا ابو البیان حماد عمری، وغیرہ۔ ان حضرات سے کافی دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں ۔ ان کے ذریعے جامعہ دار السلام کے بارے میں کئی معلومات حاصل ہوئیں۔ میں نے کہا کہ جامعہ دار السلام کے بانی کا کا عمر (وفات : 1928) واقعی معنوں میں ایک صاحب بصیرت انسان (man of vision) تھے۔ وہ اگرچہ ایک تاجر تھے، لیکن انھوں نے جدید دور کے لیے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اس کے مطابق ، جامعہ دار السلام کی بنیاد رکھی، جو اب اپنی وسعت اور اہمیت کے اعتبار سے ایک دینی یونی ورسٹی کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔
گفتگو کے دوران مولانا کا کا سعید احمد عمری نے جو باتیں بتائیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ اس علاقے میں کوئی ہندو مسلم مسئلہ نہیں ۔ یہاں دونوں فرقوں کے لوگ باہم بھائی کی طرح رہتے فرقہ وارانہ فسادات جیسی کوئی چیز یہاں کبھی پیش نہیں آئی۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے بارے میں اردو اخبارات کے متعصبانہ بیان کو میں درست نہیں سمجھتا۔ کیوں کہ آزادی کے بعد ہمارے
علاقے میں 18 بڑے مسلم کالج قائم کئے گئے ہیں جن کو حکومت کا گرانٹ حاصل ہے۔ یہ تمام مسلم کالج نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ملت کی تعمیر کا کام موثر طور پر صرف اُس وقت ہوسکتا ہے جب کہ اُس کو سیاست سے الگ رکھ کر کیا جائے۔ مولانا نامنا کا سعید احمد عمری نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مولانا مناظر احسن گیلانی (وفات: 1956) نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ کالجوں میں تعلیم پانے والے مسلم طلباکے لیے شہروں میں مسلم ہاسٹل بنائے جائیں۔ یہاں ان کی رہائش کا انتظام ہو اور اسی کے ساتھ ان کی دینی تربیت کی جائے۔ شمالی ہند میں سیاسی ذہن کی بنا پر اس قسم کا کوئی ہاسٹل نہ بن سکا، مگر جنوبی ہند کے مسلمانوں میں چوں کہ سیاسی ذہن نہیں تھا بلکہ تعمیری ذہن تھا، اس لیے انھوں نے جنوبی ہند میں اس طرح کے مسلم ہاسٹل بنائے ۔ مثلاً حیدر آباد میں اور بنگلور کا ہاسٹل زیادہ بڑا ہے اور اس کا نام یہ ہے۔ بنگلور مسلم سنٹرل ہاسٹل۔ اس مجلس میں جو باتیں ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ مسلم دنیا میں عام طور پر یہ مشہور ہے کہ امریکا اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ عرب لوگ کہتے ہیں کہ : أمريكا عدو الإسلام رقم واحد۔ میں نے کہا کہ میں 13 بار امریکا گیا ہوں، اور اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا نہ پرو مسلم (pro-Muslim) ہے، اور نہ اینٹی مسلم وہ صرف پروامریکا (pro-America) ہے۔ امریکا میں بلا امتیاز ہر ایک کو پوری آزادی حاصل ہے۔ چناں چہ مسلمان اس آزادی کو استعمال کرتے ہوئے وہاں بڑے بڑے اسلامی کام کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں 57 مسلم ملک ہیں۔ مگر یہ کہنا غالباً درست ہوگا کہ اس وقت اسلام کی خدمت کے جتنے مواقع امریکا میں ہیں، وہ غالباً کسی مسلم ملک میں بھی نہیں۔ کا سعید احمد عمری نے اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر کہا کہ میں آپ کی اس بات سے پوری طرح اتفاق رکھتا ہوں۔ مجلس میں گفتگو کے دوران ایک صاحب نے کہا امریکا کی ترقی کا راز یہ ہے کہ دنیا کے اعلیٰ ذہن رکھنے والے افراد کو امریکا خرید لیتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ خرید وفروخت کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ
مواقع (opportunities) کی فراہمی کی بات ہے۔ امریکا نے یہ کیا کہ اُس نے وہاں ہر قسم کے اعلیٰ مواقع فراہم کر دیے_ اظہارِ خیال کی مکمل آزادی، مطالعے کے لیے بہترین لائبریریاں، لیاقت کا بلا امتیاز اعتراف، ترقی کے مواقع کو ہر ایک کے لیے یکساں طور پر کھولنا، وغیرہ۔ اِس بنا پر تمام دنیا کے ذہین لوگ وہاں پہنچ گئے_ 7 جون 2010 کو عشاء کی نماز جامعہ دارالسلام کی قدیم مسجد (1344/1925 ھ) میں ادا کی گئی_ نماز کے بعد مسجد میں یہاں کے کئی اساتذہ سے ملاقات ہوئی_ ان میں سے ایک جامعہ کے شیخ التفسیر مولانا سید عبد الكبير عمری صاحب تھے_ ان کی پیدائش 1923 میں ہوئی_ انھوں نے جامعہ دارالسلام میں تعلیم پائی، پھر وہ یہیں استاد کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں_ معمر ہونے کے باوجود وہ ابھی تک پوری طرح صحت مند ہیں_ نماز کے بعد ہم لوگوں کو کا کا سعید احمد عمری کے گھر لے جایا گیا جو عمر آباد میں مسجد کے بالکل قریب واقع ہے۔ یہاں شام کا کھانا کھایا گیا۔ کھانے کی میز پر تقریباً 10 آدمی موجود تھے۔ کے بعد یہاں دیر تک نشست ہوئی جس میں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔
مولانا کا کا سعید احمد عمری نے کہا کہ جامعہ کے اندر مسلکی تعصب اور تنگ نظری نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو آپ کا مسلک معلوم ہے۔ آپ کے مسلک سے اتفاق کی بنا پر ہی ہم نے جامعہ میں آپ کو دعوت دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجموعی اتفاق ہی کا نام اتفاق ہے۔ جزئی اختلافات تو ہر جگہ اور ہر شخص کے اندر پائے جاتے ہیں۔
مولانا فیاض الدین عمری نے کہا کہ میں اس کی تائید کروں گا کہ جامعہ کے اندر مسلکی تشدد بالکل نہیں پایا جاتا۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں نے جامعہ کے سینئر استاد ڈاکٹر عبد اللہ جوم صاحب سے بدایۃ المجتہد پڑھی ہے۔ مولانا اگر چہ سلفی ہیں، مگر دلیل کی موجودگی میں انھوں نے ہمیشہ ائمہ کی رائے کو ترجیح دی ہے۔ اور کبھی اُن سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی رائے کا بھی اظہار فرمایا انھوں نے کہا کہ جامعہ کے ذمے داران مسلک کے اعتبار سے اگر چہ سلفی ہیں، لیکن جامعہ کی قدیم
مسجد میں وہاں کے امام ایک حنفی ہیں۔ جامعہ کے اندر لمبی مدت گزارنے کے باوجود ہم کو بہت سے اساتذہ کا مسلک معلوم نہیں۔ انھوں نے کہا کہ جامعہ کا ایک امتیاز یہ ہے کہ یہاں کے ذمے داران ہمیشہ اپنے چھوٹوں سے رائے لیتے ہیں اور ان کو آگے بڑھاتے ہیں۔
گفتگو کے دوران کا کا سعید عمری صاحب نے کہا کہ عام طور پر لوگ دوستوں کو حق تنقید دیتے ہیں، مگر وہ اجنبی آدمی کو حق تنقید نہیں دیتے ۔ اگر کوئی اجنبی آدمی ان پر تنقید کر دے تو وہ بھڑک اٹھتے ہیں۔ طریقہ درست نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دوستوں کے علاوہ، اجنبی لوگوں کو بھی حق تنقید دے۔ اجنبی آدمی کی بات کو بھی اُسی طرح سنے جس طرح وہ اپنے دوستوں کی بات کو سنتا ہے۔ کا کا سعید احمد عمری نے گفتگو کے دوران کہا کہ جامعہ دارالسلام کا نشانہ بنیادی طور پر صرف دو چیزیں ہیں ـــ دعوت، اور آخرت ـــ دعوت برائے آخرت اور آخرت برائے دعوت، یہی جامعہ کا اصل نشانہ ہے۔ اس سلسلے میں طلبہ جامعہ کے سامنے کا کا سعید احمد عمری کے ایک بصیرت افروز خطاب کا ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے: ”اس وقت ہم علما ء کرام کو اپنی دعوتی ذمے داری کو محسوس کرنے کی شدید ہم برادران وطن کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھائیں، انھیں اپنی محبت کا موضوع بنائیں، اپنی تقریبات میں انھیں مدعو کریں اور جب بھی، جہاں بھی موقع ملے، اُسے غنیمت جان کر اسلام کا پیغام ان کی خدمت میں پیش کرنے ، انھیں اسلام کا صحیح تعارف کرانے اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ بدقسمتی سے ہمارے رہنماؤں نے امت کو برادران وطن کے ساتھ نفرت کرنا ہی سکھایا ہے، اُن سے محبت کرنا نہیں سکھایا۔ برادرانِ وطن ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے جب تک ہم اُن کے ساتھ محبت سے پیش نہیں آئیں گے، ذرا سوچیئے، اُس وقت تک وہ ہماری باتوں پر کیسے توجہ دیں گے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اُنھیں ابدی جہنم سے بچانے کی فکر اور تڑپ ہمارے دل میں کیسے پیدا ہوگی‘‘۔ (ماہ نامہ راہ اعتدال، عمر آباد، جون 2010، صفحہ 51) 7 جون 2010 کی شام کا کھانا اس انداز کا تھا جس کو عام طور پر ’’پر تکلف عشائیہ‘‘ کہا جاتا بعد کو میں نے یہاں کے منتظمین سے کہا کہ میں اس قسم کے کھانے کا عادی نہیں ہوں ۔
جب تک ہوں، میں صرف جامعہ کے مطبخ (مطعم) کا کھانا کھاؤں گا، یعنی وہ کھانا جو جامعہ کے طلبا کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے کھانے کا ٹائم بھی وہی ہوگا جو جامعہ میں عام طور پر طلبا کے کھانے کا ٹائم ہوتا ہے۔ چناں چہ جب تک میں یہاں رہا، مطبخ کا کھانا کھاتا رہا۔ یہ کھانا بالکل سادہ تھا اور میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔
مولانا اسرار الحسن عمری جو یہاں ہم لوگوں کے کھانے وغیرہ کے ذمے دار تھے، انھوں نے بتایا کہ اگلے دن صبح کو مجھے جامعہ کے دفتر میں بلایا گیا۔ نائب ناظم جامعہ مولانا ظفر الحق شاکر عمری نے مجھ سے پوچھا کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کے کھانے وغیرہ کا کیا انتظام ہے۔ میں نے کہا کہ مولانا نے کہا ہے کہ میں جب تک جامعہ میں ہوں، مطبخ کا کھانا کھاؤں گا۔ میرے لیے الگ سے کوئی اہتمام نہ کیا میری بات سن کر نائب ناظم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ : Fekl مشكلة حلت (پھر تو ساری مشکل آسان ہوگئی)۔ کیوں کہ مہمانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان کے کھانے کا ہوتا ہے۔ کا کا سعید احمد عمری صاحب کے گھر سے کھانا کھا کر ہم لوگ واپس جامعہ کے کیمپس میں یہاں کئی علماء کے ساتھ میں دیر تک جامعہ کی کھلی فضا میں واک (walk) کرتا رہا۔ میں نے کہا کہ قرآن کی سورہ آل عمران میں ذکر کے بارے میں ارشاد ہوا ہے : الذین یذکرون الله قياماً وقعوداً وعلى جنوبهم (3:191) ۔ میں نے کہا کہ میں نے اپنے تجربے کے مطابق ، اس میں ایک اور ذکر کا اضافہ کیا ہے، اور وہ ہے واکنگ ذکر (walking zikr)۔ میرا معمول ہے کہ میں روزانہ واک کرتا ہوں۔ مگر میری واک صرف واک نہیں ہوتی، بلکہ وہ وانگ ذکر ہوتی ہے۔ ذکر کیا ہے ۔ ذکر دراصل تفکر کا نام ہے۔ سلف صالحین نے ذکر کا یہی مطلب بتایا ہے۔ کے طور پر ملاحظہ ہو علامہ ابن قیم (وفات: 751ھ) کی کتاب: مفتاح دار السعادة ومنشور ولاية العلم والإرادة۔ علامہ ابن قیم نے اس کتاب میں تذکر اور تفکر کو ہدایت کی اصل قرار دیا ہے (التفکر والتذكر أصل الهدی والفلاح، هما قطبا السعادة) ۔ تفکر کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مثلاً یہاں آپ جامعہ کے کیمپس میں واک کر رہے ہیں۔ یہاں چاروں طرف
سرسبز درخت کھڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ نے درخت کو دیکھا۔ آپ کو یاد آیا کہ درخت اپنے اندر ایک انوکھی صفت رکھتا ہے، وہ یہ کہ وہ ایک نمو پذیر وجود (growing entity) ہے۔ بارے میں اس طرح سوچتے ہوئے آپ کو یاد آیا کہ ایمان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ایمان بھی ایک نمو پذیر حقیقت ہے۔ حقیقی ایمان وہی ہے جس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔ اسی لیے قرآن میں کلمۂ ایمان کو درخت سے تشبیہ دی گئی ہے (14:24)۔ البتہ دونوں کے درمیان ایک فرق ہے۔ کہ درخت کی نمو پذیری قانونِ فطرت کے تحت ہوتی ہے، لیکن انسان خود اپنے ارادے کے تحت غور و فکر کرتا ہے اور اس طرح وہ خود اپنے ارادے کے تحت اپنے ایمان میں اضافہ کرتا ہے۔ واک کرنے کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ (مکتبہ عمر) پر آگئے۔ یہاں کمرے میں دوبارہ تقریباً 10 علماء اکٹھا ہو گئے۔ ان سے دیر تک دینی اور دعوتی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ اُس وقت ایک بات میں نے کہی کہ جو لوگ صرف عوام کے درمیان کام کرتے ہیں، عام طور پر ان کا ذہنی ارتقا نہیں لیکن جو لوگ خواص کے درمیان دعوتی کام کریں، ان کا مسلسل ذہنی ارتقا ہوتا رہتا ہے۔ گویا کہ عوام کے درمیان دعوتی کام یک طرفہ نوعیت کا کام ہے، یعنی ایک سننے والا ہے اور دوسرا سنانے والا۔ کے برعکس، خواص کے درمیان دعوتی کام دو طرفہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں ایک طرف مدعو کو نئی باتیں ملتی ہیں، اور دوسری طرف داعی کو ڈسکسن اور ڈائیلاگ کے دوران نئی نئی باتیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے — پہلا طریقہ اگر یک طرفہ تعلیم (unilateral learning) پر مبنی ہے، تو دوسرا طریقہ دو طرفہ تعلم (bilateral learning) پر مبنی۔
اسی طرح میں نے ایک بات یہ کہی کہ قرآن میں چار قابلِ انعام گروہوں کا ذکر آیا ہے: مع الذین أنعم الله عليهم من النبيين ، والصديقين، والشهداء، والصالحين (4:69)۔ میں نے کہا کہ میری سمجھ کے مطابق، اس آیت میں انبیاء سے مراد پیغمبر ہیں، اور صدیقیق سے مراد اصحابِ پیغمبر، اور شہداء سے مراد دعاة کا گروہ ہے۔ صالحین سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیے قرآن میں دوسری جگہ مقتصد (35:32) کا لفظ آیا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ معرفت کے تمام درجات اپنی
نوعیت کے اعتبار سے آج بھی پوری طرح کھلے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ وہ اعلیٰ درجہ بھی جس کے بارے میں حدیث میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں: عباد ليسوا بأنبياء ولا شهداء يغبطهم النبيون والشهداء لمقعدهم وقربهم من الله يوم القيامة (مسند احمد، جلد 5، صفحه 341)۔ انبیاء کے اس رشک کا سبب غالباً یہ ہوگا کہ جو درجۂ معرفت انبیاء نے فرشتہ جبرئیل کے ذریعے حاصل کیا، اُسی نوعیت کی معرفت یہ لوگ فرشتہ جبرئیل کے بغیر حاصل کرلیں گے۔ معرفت کا یہ حصول بعد کے زمانے میں اہل ایمان کے لیے سائنسی دریافتوں کے ذریعے ممکن ہو سکے گا۔ دہلی کے مقابلے میں عمر آباد کا موسم بہت خوش گوار تھا۔ دہلی میں درجۂ حرارت 41 ڈگری تھا، جب کہ یہاں کا درجۂ حرارت 31 ڈگری ہے۔ رات نہایت سکون کے ساتھ گزری۔ 8 جون 2010 کو فجر کی نماز ہم لوگوں نے جامعہ دارالسلام کے کیمپس کے اندر واقع مسجد سلطان میں پڑھی۔ یہ مسجد 1993 میں بنائی گئی۔ مسجد کافی وسیع اور سادہ تھی۔ عام روایت کے خلاف اس مسجد میں صرف ایک مینار بنایا گیا ہے۔ ایک مینار کا طریقہ مجھے پسند ہے۔ ایک مینار توحید کی علامت معلوم ہوتا ہے۔
ہم لوگ نماز سے فارغ ہو کر باہر آئے تو ہر طرف فطرت (nature) کا ماحول تھا۔ جامعہ دارالسلام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس کے اندر ہر طرف سرسبز درخت دکھائی دیتے ہیں۔ تعمیر دراصل ایک وادی (valley) میں ہوئی ہے۔ اس کے بیرونی حصے میں دور تک پہاڑ دکھائی دیتے جامعہ کے مغرب میں جو پہاڑی سلسلہ ہے، وہ وہی ہے جس کو ’’کیش گرى‘‘ کہا جاتا ہے۔ جامعہ میں قیام کے دوران ہر وقت علماء کا ساتھ ہوتا تھا۔ اس واک کے دوران بھی کئی علماء ہمارے ساتھ تھے۔ میں نے کہا کہ جامعہ کا یہ خوش منظر جائے وقوع دیکھ کر مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے بہت پہلے ماہ نامہ الرسالہ میں ایک مضمون شائع کیا تھا۔ اس کا عنوان تھا— فطرت کی آغوش میں۔ اس مضمون میں میں نے لکھا تھا کہ میری تمناؤں میں سے ایک تمنا یہ ہے کہ فطرت کے مناظر کے درمیان ایک دینی مرکز بنایا جائے ۔ یہ مرکز گویا کہ ہمارے افکار کا ایک عملی مظاہرہ ہوگا۔ خدا کی عظمت بیان کی جائے گی تو درخت اور پہاڑ اور آسمان اس کی عملی تصدیق کر رہے ہوں گے، اور چڑیاں اپنے بچے کے ساتھ اس کی ہم آواز بنی ہوئی ہوں گی ۔ اب جامعہ دارالسلام کو دیکھنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرا خواب یہاں واقع بن چکا ہے۔ کیوں کہ جامعہ کا مقصد بھی تقریباً وہی ہے جس کو میں نے نصف صدی سے بھی زیادہ مدت سے اپنا مشن بنا رکھا ہے، یعنی دعوت الی اللہ کا ہماری اس واک کے دوران دوسرے علماء جامعہ کے علاوہ، جامعہ دارالسلام کے دونوں بڑے ذمے دار بھی موجود تھے— مولانا کا کا سعید احمد عمری، اور مولانا نا کا انیس احمد عمری۔ واک کرنے کے دوران میں نے ایک بات یہ کہی کہ یہاں آ کر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جامعہ دارالسلام دوسرے مدارس کے مقابلے میں ایک استثنا (exception) کی حیثیت رکھتا اس کی کچھ منفرد خصوصیات ہیں۔ مثلاً یہاں کی مسجد میں اکثر اوقات طلبا امامت کرتے ہیں۔ ہر نماز ایک الگ طالب علم پڑھاتا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے، تاکہ طلبا کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ تعلیم کے دوران تربیت بھی حاصل کرتے رہیں۔
مارننگ واک (morning walk) کے بعد ہم لوگ لائبریری کی عمارت کے باہر کھلی فضا میں
موسم بہت خوش گوار تھا۔ یہاں مولانا کا کا سعید احمد عمری اور مولانا ریاض موسی مالاباری کے علاوہ جامعہ کے اساتذہ اور کئی دیگر علماء موجود تھے۔ دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ صاحب نے یہ سوال کیا کہ مدارس کے ذے داران اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان مدارس کے ذریعے تعلیم کا مقصد تو حاصل ہوا، لیکن افراد سازی کا مقصد بہت کم حاصل ہوسکا۔
میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی شخصیت اس کے شاکلہ (17:84) کے مطابق بنتی شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ (mindset) ہے۔ ہمارے مدارس کا معاملہ یہ ہے کہ وہاں کا پورا ماحول قدیم شاکلہ پر مبنی ہوتا ہے، جب کہ موجودہ زمانے میں حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ طلبہ کو لسانِ عصر میں مخاطب کیا جائے، ورنہ ان کا مائنڈ ایڈریس نہ ہوگا۔ یہی وہ کمی ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ تعلیم دین کے کافی پھیلاؤ کے باوجود ایسے افراد پیدا نہیں ہورہے ہیں جو جدید معیار پر اسلامی ذہن کے حامل ہوں اور جدید انسان کے سامنے مؤثر انداز میں اسلام کی نمائندگی کرسکیں۔ میں نے کہا کہ الرسالہ مشن دراصل اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے شروع کیا گیا۔ کہنا درست ہوگا کہ پوری مسلم دنیا میں یہ واحد مشن ہے جو اس فکری ضرورت کو پورا کر رہا ہے۔ میں ایک مشہور ہندوستانی عالم کی ایک کتاب چھپی۔ اس کا ٹائٹل یہ تھا: ردّۃ ولا أبا بکر لھا۔ اس معاملے کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جدید انسان کا کیس ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ ذہنی عدم اطمینان (intellectual dissatisfaction) کا کیس ہے۔ الرسالہ مشن کے تحت 1976 سے اس بنیاد پر کام شروع کیا گیا ہے اور اب اللہ کے فضل سے ہر جگہ اس کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں۔
ایک صاحب نے کہا کہ میں نے آپ کی کچھ کتابیں پڑھی ہیں۔ مگر اس میں تعقل پسندی بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ اس کی کوئی مثال دیجیے، مگر وہ کوئی مثال نہ بتا سکے۔ کہا کہ جب تک آدمی کے پاس کوئی متعین مثال نہ ہو، اُس وقت تک اس طرح کا تبصرہ کرنا آدمی کے لیے سرے سے جائز ہی نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ دو چیزوں میں فرق
ایک ہے تعقل پسندی اور دوسری چیز ہے اسلوب جدید۔ معروف معنی میں، میں ہرگز تعقل پسند نہیں ہوں، البتہ میری تحریروں میں جدید اسلوب ہوتا ہے۔ آپ جیسے لوگ دونوں میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ میں ایک تعقل پسند انسان ہوں۔ حالاں کہ مجرد تعقل پسندی ایک غیر مطلوب چیز ہے اور اسلوب جدید بلا شبہہ عین مطلوب کی حیثیت رکھتا ہے۔
میں نے کہا کہ عقل کے استعمال کی دو صورتیں ہیں— ایک یہ کہ عقل کو بذات خود صحیح اور غلط کا معیار سمجھا جائے۔ دوسرے یہ کہ نقلی (traditional) طور پر ایک ثابت شدہ بات کی مزید تائید کے لیے عقل کا استعمال کیا جائے۔ عقل کا اس طرح تائیدی استعمال خود قرآن سے ثابت ہے۔ مثال کے طور پر جدید عقل پسند انسان یہ کہتا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان ہر اعتبار سے کامل مساوات ہونا چاہیے۔ میں اس عقلی نقطۂ نظر کو نہیں مانتا۔ اس کے بجائے میں قرآن کے نقطۂ نظر کو مانتا ہوں جس میں عورت اور مرد کے درمیان فطری فرق کی بنا پر ایک مرد کے مقابلے میں دو عورتوں کی گواہی کو معتبر قرار دیا گیا ہے قرآن کے اس نقطۂ نظر کی تائید کے لیے میں نے ایک سائنسی دلیل دی ہے۔ وہ یہ کہ عورت اور مرد کے دماغ میں فطری بناوٹ کے اعتبار سے ایک نا قابل تغییر فرق پایا جاتا ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ مرد پیدائشی طور پر سنگل ٹریک مائنڈ (single track mind) کا حامل ہوتا ہے، اور اس کے مقابلے میں عورت فطری طور پر ملٹی ٹریک مائنڈ (multi track mind) رکھتی ہے۔ اس کی تفصیل آپ ماہ نامہ الرساله (اپریل 2006، صفحہ 7) میں دیکھ سکتے ہیں۔
8 جون 2010 کی صبح کو جامعہ کے گُلّیہ ہال میں ایک بڑا پروگرام ہوا۔ یہ یہاں کے زمانہ قیام کا پہلا پروگرام تھا۔ اس میں جامعہ کے شعبہ ’’تعارفِ اسلام‘‘ کے دُعاۃ، طلبا اور جامعہ کے اساتذہ شریک ہوئے ۔ اس پروگرام کو کنڈکٹ کرنے کا کام جامعہ کے ایک نو جوان استاد مولانا عبد العظیم مدنی نے انجام دیا۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا۔ اس کا عنوان یہ تھا: دعوت الی اللہ اور اس کے تقاضے یہاں میں نے دعوت الی اللہ کے موضوع پر کچھ باتیں کہیں ۔ اس کے بعد میں نے اس
پروگرام میں جو مزید باتیں کہیں، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ جامعہ سے میرا ایک فطری تعلق رہا ہے۔ دارالسلام 1924 میں قائم ہوا، اور یہی وہ سال ہے کہ میری پیدائش ہوئی۔ جامعہ سے اسی بلا اعلان تعلق کی بنا پر ایسا ہوا کہ میں نے اپنے پہلے فرزند ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کو 1957 میں تعلیم کے لیے یہاں بھیجا۔ جامعہ کے لیے میرا پہلا سفر 1977 میں ہوا۔ یہ سفر جامعہ کی دعوت پر 18-16 اپریل 1977 کو اس کی گولڈن جُبلی (المهرجان الذهبی) میں شرکت کے لیے ہوا۔ اس موقع پر میں نے ایک مقالہ پیش کیا تھا جو ماہ نامہ الرساله، جولائی 1977، میں شائع ہوا۔ اس مقالے کا عنوان یہ تھا: دعوت اسلامی کے جدید امکانات بعد کو یہ مقالہ عربی زبان میں ’’امکانات جديدة للدعوة‘‘ کے نام سے پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا گیا۔ یہ مقالہ 36 صفحات پر مشتمل تھا۔ اس کو قاہرہ سے المختار الإسلامی پبلشر نے پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا تھا۔ اب وہ مقالہ راقم الحروف کی کتاب ’’ظہورِ اسلام‘‘ میں ’’اسلامی انقلاب: تاریخ انسانی کے لیے نیا موڑ‘‘ کے عنوان سے شامل ہے (صفحہ 145)۔ اس سفر کی مختصر روداد اُسی زمانے میں ماہ نامہ الرسالہ، اگست 1977 میں چھپی تھی (صفحہ 52)۔
جامعہ دارالسلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں آغاز ہی سے دعوت کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز 1978 میں ہوا، جب کہ یہاں تخصص فی الدعوة کے تحت، دعوت کا ایک مستقل شعبہ کھلا اور اس کے لیے ایک علیحدہ عمارت بنائی گئی جو اب بھی قائم ہے۔ یہ ایک سالہ کورس ہے اور اس میں مدارسِ عربیہ سے فارغ حضرات کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ اس دعوتی شعبہ کے قیام میں مولاناریاض موسیٰ مالاباری (کیرالا) کا خاص رول ہے۔ یہاں 1997 سے ریاض موسیٰ مالاباری صاحب کی شرکت سے دعوت کا باقاعدہ کورس شروع کیا گیا۔
صبح کے اس پہلے پروگرام کے بعد دوسرا پروگرام لائبریری کے ہال میں تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا۔ یہ پروگرام جامعہ کے اساتذہ کے لیے خاص تھا۔ اس میں جامعہ کے تمام اساتذہ اساتذہ کے اس اجتماع میں گفتگو کا موضوع ’’تعلق مع اللہ‘‘ تھا۔ اس موقع پر میں
نے جو باتیں کہیں، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
میں نے کہا کہ تعلق باللہ کا مطلب ہے— ذکر اللہ، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يذكر الله على كل أحيانه (صحیح البخاری)، یعنی ہر حین (occasion) کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر اللہ کو یاد کرنا۔ میں نے کہا کہ تعلق باللہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے جو تدبر اور تفکر اور توسم کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ ذکر اللہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ذکر کثیر ورد کثیر کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ تفکر کثیر کا نام ہے۔ آخر میں سامعین کی طرف سے مختلف سوالات کئے گئے۔ ایک سوال یہ تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے آج اپنی صبح کی تقریر میں مؤثر دعوت کے لیے صبر کی اہمیت بتائی تھی اور یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک بدو مدینہ آیا اور اس نے مسجد نبوی کو گندا کر دیا۔ اُس سے درگزر کا معاملہ فرمایا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اُس بدو نے نادانی میں ایسا کیا تھا، مگر آج مسلمانوں کے خلاف اِس قسم کے واقعات عداوت کی بنیاد پر ہورہے ہیں، پھر اس سے کیسے درگزر کیا جاسکتا ہے۔ نے کہا اس سوال کا جواب صبح کے اجتماع میں قاری صاحب نے اپنی تلاوت کے ذریعہ دے دیا ہے۔ انھوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی تھی: ادفع بالتي هي أحسن، فإذا الذي بينك وبينه عداوة كأنه ولي حميم (41:34)۔ اس آیت کے مطابق ہم کو ’’عدو‘‘ کے ساتھ بھی وہی حسن سلوک کرنا ہے جو نادان کے ساتھ کیا جاتا ہے، یعنی ردعمل کا طریقہ اپنانے کے بجائے صابرانہ طریقہ اپنانا۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ مسلمانوں کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں، مسلمان تو مسلسل صبر ہی کر رہے ہیں، لیکن اُنھیں صبر کا کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے، وہ برابر ذلت و ناکامی کا شکار میں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: إنّ الله مع الصابرين ۔ یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان مطلوب صبر نہیں کر رہے ہیں۔ اگر وہ مطلوب صبر کر رہے ہوتے تو قرآن کے بیان کے مطابق، یقیناً وہ ’’ذلت و ناکامی‘‘ کا شکار نہ ہوتے۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق، صبر کرنے والوں کو اللہ کی نصرت حاصل ہوتی ہے، اور اللہ کی نصرت
کے بعد کسی کے لیے ذلت و ناکامی کا کوئی سوال نہیں۔
صبر کا مطلب کیا ہے۔ صبر کا مطلب نہ پسپائی ہے اور نہ بے عملی ہے۔ صبر دراصل یہ ہے کہ آدمی ٹکڑاؤ کو وائڈ کر کے مثبت بنیاد پر اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔ صبر یہ ہے کہ آپ اپنے دل سے نفرت کو ختم کردیں، تشدد کے مزاج کو ختم کردیں، لڑنے کے مزاج کو ختم کردیں، اشتعال سے پرہیز کریں۔ طرح کے مثبت اوصاف کو پیدا کرنے کے بعد جو تعمیری منصوبہ بنایا جائے، اسی کا نام صبر ہے۔ پروگرام کے بعد مولانا کا سا سعید احمد عمری نے کہا کہ آپ نے بے حد قیمتی باتیں بتائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ تقریر کے اختتام پر اساتذہ کو ہمارے یہاں کا چھپا ہوا لٹریچر ہال میں میز پر موجود سارا لٹریچر اسی وقت ختم ہو گیا۔ اساتذہ نے خود سے یہ لٹریچر حاصل کیا، اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔
8 جون 2010 کے مذکورہ پروگرام کے بعد میرے کمرے میں کئی لوگ ملاقات کے لیے یہ بنگلور کے رہنے والے تھے۔ ان میں ایک صاحب کا نام مسٹر رمن تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ایک اسکول میں انگلش ٹیچر ہیں۔ مسٹر رمن نے بتایا کہ مجھے خدا کی توفیق سے، آپ کی کتاب (The Reality of Life) پڑھ کر سچائی کی دریافت ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ میں ایک متلاشی میں نے اس سلسلے میں مختلف مذاہب کی کتابوں کا مطالعہ کیا، مگر میں اپنی تلاش کا جواب پانے میں ناکام رہا۔ اب آپ کی کتابوں کے مطالعے کے بعد توحید کا تصور پوری طرح مجھ پر واضح ہوگیا ہے، اور جنت کا راستہ میرے سامنے کھل گیا ہے۔
8 جون 2010 کی سہ پہر کو تین بجے سے چار بجے تک دُعاۃ کے ساتھ ’’تبادلہ خیال‘‘ کا میں نے پروگرام کے آغاز میں تقریباً 25 منٹ تک دعوت کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ دعوت کا عمل ایک اعتبار سے دو طرفہ ایکسچینج (exchange) کا عمل ہے۔ دعوت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دوسروں کے سامنے ایک بات کا اعلان کردیں، بلکہ دعوت کے دوران آپ کو خود بھی سیکھنا چاہیے۔ دعوتی عمل کا فائدہ خود داعی کو
ذہنی ارتقا کی صورت میں ملنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ مطالعہ کتب کو اپنے ڈیلی روٹین میں شامل کر لیں۔ اسی کے ساتھ آپ میں سے ہر شخص ڈائری بھی ضرور رکھے۔ گویا کہ کتاب محاسبہ ہے۔ دُعا کا ایک اور مشورہ میں نے یہ دیا کہ آپ لوگ اپنا دعوتی عمل خاص طور پر اُن لوگوں کے ساتھ کریں جن سے آپ کی علمی سطح بڑھنے والی ہو۔ دینا وہی دینا ہے جب کہ دینے کے عمل کے دوران آدمی نے خود بھی کچھ پایا ہو۔
تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں گزشتہ ایک سال سے ماہ نامہ الرسالہ اور آپ کی دیگر کتابوں کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ مطالعے کے دوران میں نے پایا کہ آپ ذہنی ارتقاء پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ میں نے کہا کہ ذہنی ارتقا اپنی حقیقت کے اعتبار سے، عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ’’ازدیادِ ایمان‘‘ کہا گیا ہے۔ ازدیادِ ایمان کو ایک پراسرار چیز سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ازدیادِ ایمان ایک معلوم چیز ہے اور اس کا تعلق انسانی دماغ سے ہے۔ وہ غور وفکر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے جس کو قرآن میں تدبر وتفکر اور توسم کہا گیا ہے۔ وہ چیز جس کو قرب الہی کہا جاتا ہے، اس کو حاصل کرنے کا ذریعہ یہی ذہنی ارتقا ہے۔ سے آدمی کو معرفت حاصل ہوتی ہے، اور معرفت انسان کو اللہ سے قریب کرنے والی ہے۔ 8 جون 2010 کو عصر کی نماز کے بعد جامعہ دارالسلام کی مسجد میں ایک خطاب رکھا گیا۔ میں جامعہ کے طلبا اور اساتذہ دونوں شریک تھے۔ اس خطاب کا موضوع تھا: معرفتِ الہی۔ میں نے کہا کہ معرفت کیا ہے۔ معرفت یہ ہے کہ انسان حالتِ غیب میں اپنے رب کو پہچانے، وہ دیکھے بغیر اس کو دیکھ لے۔ معرفت دراصل یہ ہے کہ آدمی کو خدا کی موجودگی (presence of God) کا حسیاتی تجربہ ہونے لگے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں واسجد واقترب کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اور حدیث میں اس کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں : تعبد اللہ کأنك تراه۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور معرفت کے حصول کی بھی ایک قیمت ہے، وہ قیمت بنیادی طور پر یہ ہے کہ آدمی پردہ التباس (element of doubt) کو پھاڑ کر حقیقتِ اعلیٰ کو دیکھ
پردہ التباس کو پھاڑنے میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو ہرقسم کے ڈسٹرکشن (distraction) سے بچائے ، جو اپنے آپ کو کامل یکسوئی کے ساتھ معرفت کے حصول میں لگادے۔ ڈسٹرکشن میں ہر وہ چیز شامل ہے جو آدمی کی توجہ کو مقصدِ اعلیٰ سے ہٹانے والی نہ ہو۔ اس میں ہرقسم کے منفی جذبات بھی شامل ہیں۔ مثلاً نفرت، تعصب، فخر، احساسِ برتری، اور خواہش کی پیروی، وغیرہ۔ اس سلسلے میں ایک بات میں نے یہ بتائی کہ انسان کو جو دماغ دیا گیا ہے، وہ بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے، وہ کوئی عبث چیز نہیں ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ آدمی اپنے دماغ کو آن فولڈ (unfold) کرے اور اس کو حقائق ربانی کی دریافت کے لیے استعمال کرے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کلماتِ رب (27: 31) اتنے زیادہ ہیں جن کی کوئی حد نہیں۔ کے ساتھ انسانی دماغ کے جوامکانات (potential) ہیں، وہ بھی لامحدود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک فرد کے دماغ میں جتنے پارٹیکل ہوتے ہیں، وہ پوری کائنات میں موجود پارٹیکل کے برابر ہیں۔ انسان کو یہ غیرمعمولی صلاحیت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اس کو استعمال کر کے معرفتِ اعلیٰ کو حاصل کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت میں اہل جنت کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ (شغلِ فاکه) یہ ہوگا کہ وہ لامحدود کلماتِ رب کو ابدی طور پر دریافت کرتے رہیں۔ موجودہ دنیا دراصل اس لیے ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جنت کے اس لامحدود عمل کے لیے تیار (prepare) کرے۔ جنت کی سب سے بڑی خوشی حصولِ معرفت کی خوشی ہے۔ حصولِ معرفت کا یہ سفر جنت میں ابدی طور پر جاری رہے گا۔ علاوہ، جنت میں جو مادی نعمتیں ملیں گی، وہ دراصل ضیافتِ ربانی کے طور پر ملیں گی یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: نزلاً من غفور رحیم۔
خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ حصولِ معرفت کی نسبت سے قدیم روایتی دور اور جدید سائنسی دور میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ معرفت کا اصل ذریعہ تخلیقاتِ خداوندی میں تدبر اور تفکر ہے۔ یہی علماء راسخین کا مسلک ہے۔
امام ابن تیمیہ نے بجا طور پر لکھا ہے کہ کائنات میں پھیلی ہوئی خدائی نشانیوں پر غور وفکر کرنا ہی
الکمال والجلال، فیعرفه حق معرفته۔ (دقائق التفسیر، الجامع لتفسیر ابن تیمیة، 1/49) یہ تدبر اور تفکر قدیم زمانے میں بھی مطلوب تھا، اور آج بھی اسی کے ذریعے کسی آدمی کو معرفتِ خداوندی مل سکتی ہے۔ اس اعتبار سے، قدیم دور اور جدید دور میں کوئی فرق نہیں، البتہ جدید سائنسی دور میں معلومات کے اضافے کی بنا پر تدبر کا فریم ورک (framework) بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
پروگرام ختم ہوا تو مغرب کی نماز میں تقریباً نصف گھنٹہ باقی تھا۔ ہم لوگ کچھ دیر کے لیے کلیہ بلڈنگ کے دفتر میں بیٹھ گئے۔ یہاں جامعہ کے مختلف اساتذہ اور دیگر علماء موجود تھے۔ مولانا سید اقبال احمد عمری نے کہا کہ آج کی تقریر (معرفتِ الہیٰ) میں آپ نے جنت اور کلماتِ رب کے بارے میں جو کچھ کہا، اُس سے جنت اور آخرت کی معنویت پوری طرح کھل گئی۔ میں نے کہا کہ جنت کا یہ تصور اُس سوال کا واحد جواب ہے جو تمام اہل علم کو پریشان کئے ہوئے ہے۔ تمام فلاسفہ اور مفکرین اور سائنس داں مشترک طور پر اس مسئلے سے دوچار ہیں کہ اتنی زیادہ با معنیٰ (meaningful) کائنات کا ایک بے معنیٰ انجام (meaningless end) پر ختم ہو جائے گی۔ جنت کا تصور واحد تصور ہے جو اس سوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔ لیکن جنت کے ماننے والوں نے جنت کی جو تصویر بنا رکھی ہے، اُس میں اُنھیں اپنے اِس سوال کا جواب نہیں ملتا۔
8 جون 2010 کو مغرب کی نماز کے بعد ہم لوگ اپنے کمرے میں آگئے ۔ مولاناریاض موسیٰ مالاباری سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ہمارے انگریزی ترجمہ قرآن کو سامنے رکھ کر ملیالم زبان میں اس کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ ہماری کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کا ملیالم ترجمہ شائع کر رہے ہیں۔ ان کی مادری زبان ملیالم ہے۔ انھوں نے میرے حالات اور مشن کو لے کر ایک تفصیلی انٹرویو لیا جس کو وہ ملیالم اخبار میں شائع کریں گے۔ آج شام کو مولانا کا سا سعید احمد عمری سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے تزکیہ اور روحانیت کے
مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی۔ یہ گفتگو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ بعد کو اس مجلس میں دیگر علماء کے علاوہ، مولانا فیاض الدین عمری اور مولانا سید اقبال احمد عمری، وغیرہ آگئے۔ کا کا صاحب اپنے مزاج کے اعتبار سے بہت صاف دل آدمی ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس مجلس میں مولانا فیاض الدین عمری نے مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پایا ہے کہ کا کا صاحب کا سب سے بڑا کَنْسَرن (concern) یہ ہے کہ جامعہ دارالسلام کے طلباء اور اساتذہ میں تزکیہ اور روحانیت پیدا ہو۔ یہ بات سن کر کا کا صاحب فوراً سنجیدہ ہو گئے اور انھوں نے کہا کہ آپ لوگ غلط بات کیوں کہتے ہیں۔ انھوں نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہیے کہ خود مجھے تزکیہ اور روحانیت کی ضرورت ہے۔ 8 جون 2010 کو ہم نے عشاء کی نماز عمر آباد کی مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد جامعہ کے ایک سینئر استاذ اور سابق شیخ الحدیث مولانا ظہیر الدین اثری رحمانی صاحب کے گھر پر کھانے کا پروگرام تھا۔ وہ جامعہ کیمپس کے باہر عمر آباد میں رہتے ہیں۔ وہ 1920 میں (اعظم گڑھ، یوپی) میں پیدا ہوئے اور بعد کو عمر آباد میں آکر بس گئے۔ وہ 1958 سے مستقل طور پر عمر آباد میں مقیم ہیں۔ گذشتہ 50 سال سے وہ جامعہ میں حدیث کے استاذ ہیں اور اسی کے ساتھ افتاء کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔ میں انھیں کی خصوصی دعوت اور تحریک پر میں نے جامعہ دارالسلام کا سفر کیا تھا۔ عمر آباد آنے سے پہلے میں نے یہ کہہ دیا تھا کہ میں کسی کے گھر دعوتی کھانا کھانے کے لیے نہیں جاؤں گا۔ میں صرف جامعہ میں کھانا کھاؤں گا۔ مگر بعض وجوہ سے استثنائی طور پر مولانا ظہیر الدین صاحب کے یہاں کھانے کے لیے جانا منظور کر لیا۔ اس موقع پر جامعہ کے کئی علماء بھی یہاں جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے ذکر کی وضاحت کی۔ نے کہا کہ ذکر سب سے بڑی ہستی کو یاد کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے ذاکر کے اندر اُسی عظیم ہستی کی نسبت سے کیفیات پیدا ہونی چاہئیں۔ جس ذکر میں ذاکر کے اندر ربانی کیفیات پیدا نہ ہوں، وہ ذکر ایسا ہی ہے جیسے پلاسٹک کا بنا ہوا گلاب کا پھول۔ بظاہر وہ پھول ہے، لیکن اس سے آدمی کو کوئی خوشبو نہیں ملتی۔ ایک حقیقی پھول آدمی کو اپنی خوشبو سے معطر کر دیتا ہے۔ اسی طرح حقیقی ذکر وہ ہے
جو آدمی کو اعلیٰ ربانی کیفیات سے معمور کر دے۔
9 جون 2010 کی صبح کو نمازِ فجر کے بعد کچھ دیر ہم لوگوں نے جامعہ کے کیمپس میں واک کی۔ اس کے بعد مولانا سید اقبال احمد عمری نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں کچھ دیر کے لیے ان کے گھر جاؤں اور وہاں صبح کی چائے پیوں۔ میں نے کہا کہ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ چائے پر بلاتے ہیں اور پھر پر تکلف ناشتے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اگر آپ یہ وعدہ کریں کہ آپ کے یہاں صرف چائے ہوگی اور دوسرا کوئی آئٹم نہ ہوگا، تو میں چلنے کے لیے تیار ہوں۔ انھوں نے وعدہ کیا۔ چناں چہ میں ان کے یہاں گیا اور واقعہً انھوں نے اپنے وعدے کو نبھایا۔
اس مجلس میں اور بھی کئی علماء موجود تھے—مولانا محمد ابراہیم عمری، مولانا کاکا خیل احمد عمری، یہاں جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک یہ تھی۔ میں نے کہا کہ آج کل تسبیح فاطمہ کا بہت رواج لیکن یہ لوگ تسبیح فاطمہ کو اس کی پوری شکل میں نہیں لیتے، بلکہ ادھوری شکل میں لیتے ہیں۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تسبیح اپنی صاحب زادی فاطمہ کو خادم کے بدل کے طور پر بتائی تھی۔ مگر آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ انھوں نے تسبیح فاطمہ کو اس کے پس منظر سے الگ کر لیا ہے اور وہ اس کو پراسرار فضیلت کے طور پر پڑھتے ہیں، حتیٰ کہ اس کی بنیاد پر تسبیح کا بہت بڑا کاروبار ساری مسلم دنیا میں قائم ہے۔ مزید یہ کہ پہلے وہ اپنی صاحب زادیوں کے لیے ہر قسم کی مادی سہولت فراہم کرتے ہیں اور پھر تبرک کے طور پر ان کو تسبیح اور مصلیٰ بھی دے دیتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی بعض باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ذکر کے فارم کا انکار کرتے ہیں، حالاں کہ ذکر کا فارم تو قرآن میں موجود ہے۔ میں نے کہا کہ یہ اعتراض محض غلط فہمی پر مبنی حقیقت یہ ہے کہ ذکر الفاظ کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ انسان کسی بھی چیز کا تصور کرنے کے لیے الفاظ کا محتاج ہے۔ اسی طرح ذکر کے لیے بھی الفاظ ضروری ہیں۔ میں دراصل ذکر کی موجودہ شکل کو ذکر کا تصغیری فارم سمجھتا ہوں، جس میں ذکر کو اس کی اسپرٹ سے الگ کر دیا گیا ہے۔
ذکر کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت کا مطالعہ کیجئے: إنما المؤمنون الذين
إذا ذكر الله وجلت قلوبهم (8:2)۔ قرآن کی اِس آیت کے مطابق، ذکر وہ ہے جو اگر چہ الفاظ کی صورت میں ظاہر ہو، لیکن اپنی داخلی کیفیت کے اعتبار سے وہ ایک ہلچل کی مانند ہو، جس سے ذکر کا قلب دہل اٹھے، جو اس کے دل و دماغ کے لیے ایک طوفانی تجربہ بن جائے، جو آدمی کے لیے خداوند ذو الجلال کی دریافت کے ہم معنی بن جائے۔
گفتگو کے دوران کا انیس احمد عمری سے میں نے پوچھا کہ آپ کی فیملی ایک جوائنٹ فیملی جوائنٹ فیملی میں طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ لوگ کس طرح اس مسئلے کو حل کرتے ہیں۔ کا کا انیس صاحب نے کہا کہ اس کا فارمولا ہے ــــ صبر و برداشت سے کام لینا اور دوسروں کی کمی کو نظر انداز کرنا۔ اس میں سب سے اہم رول گھر کے بڑے کا ہوتا ہے۔ گھر کا بڑا اگر دانش مندی سے کام لے تو کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوتا ــــ یہ فارمولا مجھے بہت پسند آیا۔ یہ سادہ بھی ہے اور پوری طرح قابل عمل بھی، مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔
9 جون 2010 کا پروگرام صبح 10 بجے سے شروع ہونے والا تھا۔ اِس سے پہلے کئی علماء میرے کمرے میں آ گئے۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ نے ایک مجلس میں کہا تھا کہ ذکر تجدید شعور کا نام ہے، تکرارِ لفظی کا نام ذکر نہیں، حالاں کہ احادیث میں بہت سی روایات ذکر کے سلسلے میں آئی ہیں۔ میں نے کہا کہ جو کچھ میں نے کہا تھا، اُس کا تعلق نفسِ ذکر سے نہیں ہے، بلکہ تصورِ ذکر سے ہے۔ ذکر کی اہمیت بلاشبہہ بہت زیادہ ہے، لیکن ذکر سے مراد تکرارِ معانی ہے، نہ کہ مجرد تکرارِ الفاظ۔ جب انسان اپنے خالق کو یاد کرتا ہے تو اس کے دل و دماغ میں ایک تموج پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ داخلی تموج جب الفاظ کی صورت میں ڈھل جائے تو اسی کا نام ذکر ہے۔ مجلس کے دوران مولانا کا کا سعید احمد عمری میرے کمرے میں آئے۔ اس وقت وہاں کئی اساتذہ اور دُعاۃ بیٹھے ہوئے تھے، جو اُن کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ کا کا صاحب نے ان لوگوں کو سختی کے انداز میں کھڑے ہونے سے منع کیا اور کہا کہ آپ لوگ جیسے بیٹھے ہیں، اسی طرح بیٹھے رہیں، اٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد کا کا صاحب خاموشی کے ساتھ کمرے کے ایک طرف خالی جگہ دیکھ کر
یہ منظر میں نے صرف جامعہ دارالسلام میں دیکھا۔
9 جون 2010 کو’’تزکیہ نفس‘‘ کے موضوع پر خطاب کرنا تھا۔ اس خطاب کا انتظام جامعہ کی لائبریری کے ہال میں کیا گیا تھا۔ اس خطاب میں جو باتیں میں نے کہیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ عام طور پر تزکیہ نفس کے موضوع کو ایک پر اسرار موضوع سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تزکیہ نفس کو تزکیہ قلب کے ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے۔ حالاں کہ صحیح یہ ہے کہ تزکیہ نفس سے مراد تزکیہ ذہن ہے، یعنی تزکیہ نفس کو دوسرے لفظوں میں تعمیر شخصیت کہا جا سکتا ہے، یعنی روح انسانی کی تطہیر (purification of soul)۔ تزکیہ نفس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنا بے رحمانہ محاسبہ کرے اور اپنی شخصیت کو تمام منفی اور نامطلوب عناصر سے پاک کر کے اپنے آپ کو ربانی انسان بنائے۔ تزکیہ نفس کوئی وقتی عمل نہیں، وہ تاحیات جاری رہنے والا ایک مسلسل عمل ہے۔
تزکیہ نفس کا کوئی تعلق مروجہ مراقبہ (meditation) سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق تمام تر تفکر اور تدبر سے ہے۔ علامہ ابن تیمیہ (وفات: 728ھ) نے بجاطور پر لکھا ہے کہ تزکیہ نفس کا ذریعہ تذکر اور تفکر ہے: أن التذكر والتفكر سبب التزكى۔ فإنه إذا تذكر خاف ورجا، فتزكي (دقائق التفسير للإمام ابن تيمية، 5/92)
تزکیہ نفس دراصل یہ ہے کہ محاسبہ (introspection) کے ذریعے اپنی کنڈیشنگ کو توڑا جائے اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشنگ (de-conditioning) کی جائے ۔ دراصل ڈی کنڈیشنگ ہی تزکیہ نفس کا پہلا دروازہ ہے۔ ہر آدمی کا کیس کنڈیشنگ کا کیس ہے۔ جب تک اس کنڈیشنگ کو توڑا نہ جائے، کسی شخص کے اندر تزکیہ نفس کا عمل (process) شروع نہیں ہو سکتا۔
میں نے کہا کہ لوگ تزکیہ کا معروف کورس پورا کرتے ہیں، لیکن ان کے اندر مطلوب تزکیہ پیدا اس کا سبب یہ ہے کہ تزکیہ کے نام پر لوگ ورد اور تسبیح اور وظیفہ اور نفلی اعمال کرتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ ان اعمال کے اندر کراماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں جو پر اسرار طور پر ان کا تزکیہ کر دیں گے، حالاں کہ اس طرح کے شکلی اعمال کا براہ راست تعلق تزکیہ نفس سے نہیں ہے۔
ایک شعوری عمل کا نتیجہ ہے، نہ کہ صرف کسی فارم کی ظاہری ادائیگی کا نتیجہ۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا سوال و جواب تھا۔ جو سوالات کئے گئے، ان میں سے ایک سوال تھا کہ آپ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ تزکیہ نفس کا تعلق کسی ظاہری فارم سے نہیں ہے، بلکہ تزکیہ ایک شعوری عمل کا نام ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔ میں نے کہا کہ اس سوال کا جواب ایک صحابی کے عمل سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت ابو الدرداء انصاری کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ ام الدرداء سے پوچھا گیا کہ ابو الدرداء کا خاص عبادتی عمل کیا تھا۔ انھوں نے جواب دیا: التفکر والاعتبار یعنی سوچنا اور چیزوں سے عبرت پکڑنا۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے اپنے بارے میں کہا کہ میں ایک صوفی ہوں، حالاں کہ تصوف، اسلام میں ایک مبتدعانہ اضافہ ہے۔ میں نے کہا کہ میں صوفی کا لفظ مروجۂ معنی میں استعمال صوفی سے میری مراد وہی ہے جس کے لیے قرآن میں رہبانیت (79: 3) کا لفظ آیا رہبانیت کی اہمیت خود قرآن سے ثابت ہے، اور جہاں تک موجودہ تصوف کا تعلق ہے، وہ اسی رہبانیت کی ایک بگڑی ہوئی صورت ہے۔ تصوف کے بارے میں میرے نقطۂ نظر کو جاننے کے لیے آپ میری کتاب’’فکرِ اسلامی‘‘(صفحہ 128) کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
9 جون 2010 کو اگلا پروگرام دعاة سے’’تبادلہ خیال‘‘کا تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا جو تین بجے سے چار بجے تک جاری رہا۔ یہ پروگرام سوال و جواب کی صورت میں تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ اسلام کا ایک حصہ وہ ہے جس کا تعلق عقیدے سے ہے۔ مثلاً توحید اور آخرت، وغیرہ۔ اسی طرح کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا تعلق نظام سے ہے۔ مثلاً دیوانی اور فوج داری کے قوانین اور تعزیرات، وغیرہ۔ ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ ہم اسلام کی دعوت کا آغاز اسلام کے کس حصے سے کریں۔ میں نے کہا کہ اس سوال کا جواب سیرتِ نبوی میں موجود ہے۔ آپ نے مکہ میں نبوت کا آغاز کیا تو آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ لوگوں کے پاس جاتے اور ان سے کہتے: أیہا الناس قولوا لا إلٰہ إلا اللہ، تفلحوا۔ اسی طرح قرآن کے جو حصے مکی دور میں نازل ہوئے تھے، آپ ان کو پڑھ کر لوگوں
چناں چہ سیرت کی کتابوں میں آپ کے بارے میں یہ آتا ہے کہ آپ لوگوں سے مل کر اُن کو اسلام کی دعوت پیش کرتے اور ان کے سامنے قرآن کے کچھ حصے پڑھ کر سناتے (عرض علیهم الإسلام، وتلا علیهم القرآن)۔
ایک سوال یہ تھا کہ اسلام میں سیاسی اقتدار کی حیثیت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار ایک ثانوی (secondary) چیز (أخرى) کی حیثیت رکھتا ہے (13:61)۔ اسلام میں سیاسی اقتدار کو مطلوب اول کا درجہ حاصل نہیں۔
پروگرام کے بعد میں اپنے کمرے میں واپس آگیا۔ یہاں کئی علماء اکٹھا ہوگئے اور دیر تک گفتگو اس مجلس میں ایک بات میں نے یہ کہی کہ اسلام میں عقل کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ نے اس سلسلے میں حاضرین کو ایک حدیث سنائی۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ما خلق الله خلقاً أكرم عليه من العقل (المغنى عن حمل الأسفار للعراقي، رقم الحديث: 13483) یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کیں، اُن میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت کی حامل چیز عقل ہے۔ بات ہے کہ بعد کے لوگوں نے عقل کو غیر اہم قرار دے دیا اور ساری اہمیت عشق کو دے دی، یہاں تک کہ ایک معروف مسلم شاعر نے کہا: