Al-Risala · October 2010

عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب

Al-Risala, October 2010, pp. 29–48

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بلاشبہ ایک فکری انحراف تھا۔ اس غلطی کا سبب غالباً یہ تھا کہ بعد کے لوگوں نے عقل کو فلسفہ کی نسبت سے دیکھا۔ اگر وہ عقل کو سائنس کی نسبت سے دیکھتے تو وہ کبھی اِس غلطی میں مبتلا نہ عقل ایک فطری صلاحیت کا نام ہے جو خدا کی ایک تخلیق ہے۔ اس کے مقابلے میں، فلسفہ خود انسان کے اپنے بنائے ہوئے ایک علم کا نام ہے، جو صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔ سائنس اور فلسفہ میں یہ فرق ہے کہ فلسفہ قیاسی منطق (sylogism) پر مبنی ہے، اور سائنس مکمل طور پر قوانین فطرت پر مبنی ہے۔ سائنس میں اگر کوئی غلطی ہوتی ہے تو وہ ناقص دریافت کی بنا پر ہوتی ہے، نہ کہ خود ساختہ قیاس کی بنا پر۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن کی آیت: اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أرباباً من

دون اللہ (31:9) کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس آیت کی وضاحت ایک مشہور روایت سے عدی بن حاتم الطائی (وفات: 68ھ) پہلے نصرانی تھے۔ وہ بعد کو اسلام میں داخل وہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انھوں نے آپ کے سامنے یہ آیت پڑھی اور کہا کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے احبار و رہبان کو اپنا رب نہیں بنایا، انھوں نے کبھی اپنے احبار و رہبان کی عبادت نہیں کی (إنهم لم يعبدوهم )، آپ نے فرمایا کہ ہاں، اُن کے احبار و رہبان نے حلال کو حرام کیا اور حرام کو حلال کیا اور انھوں نے اس کو مان لیا۔ یہود و نصاریٰ کی یہی روش ان کے احبار و رہبان کی عبادت کے ہم معنی تھی (فذلك عبادتهم إياهم )۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں رب کا لفظ آیا ہے۔ یہ اس معاملے کی شناعت کو بتانے کے لیے انھوں نے جو کیا تھا، وہ یہ تھا کہ خدا اور رسول کے حوالے کے بجائے، اپنے احبار و رہبان کا حوالہ دے کر کسی چیز کو ترک کرتے یا کسی چیز کو اختیار کر لیتے۔ حدیث میں تحلیلِ حرام اور تحریمِ حلال کا لفظ بھی اسی معاملے کی شناعت کو بتانے کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کے لیے اپنے علما ء و مشائخ (احبار و رہبان ) کو مستقل بالذات مرجع (reference) سمجھ لیا۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان عین اسی روش پر قائم ہیں۔ موجودہ مسلمان عام طور پر یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ ــــ ہمارے اکابر کا طریقہ یہ ہے، ہمارے اسلاف کا اس پر عمل رہا ہے، ہمارے بزرگوں نے ایسا فرمایا ہے، وغیرہ۔ یہ طریقہ عین یہودی طریقہ ہے۔ مسلمان کے لیے صرف ایک ہی مستقل بالذات حوالہ ہے، اور وہ خدا اور رسول کا حوالہ ہے۔ اس کے سوا جو حوالے مسلمانوں میں رائج ہو گئے ہیں، وہ بلاشبہ یہودی اتباع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اکابر کا منہج، اسلاف کا منہج اور بزرگوں کا منہج، سب اسی کی مثالیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ منہج و اتباع کی حیثیت سے ہمارا سارا تعلق خدا اور رسول سے ہونا چاہیے، نہ کہ اپنے اکابر اور اپنے اسلاف سے۔

میں نے اس مجلس میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ حدیث کی کتابوں میں ایک ایسے گروہ (عصابة ) کا ذکر ہے جو ہند میں غزوہ کرے گا۔ اس گروہ کے لیے حدیث میں جہنم کے

عذاب سے نجات کی خوش خبری دی گئی ہے۔ اس حدیث میں ’’غزوہ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں: عصابة تغزوا الھند (صحیح الجامع للالبانی، رقم الحدیث: 4012)۔ یہاں غزوہ سے مراد مسلح جنگ نہیں، بلکہ پُر امن دعوتی عمل ہے۔ میرے نزدیک، اس حدیث میں ہند سے مراد غالباً جنوبی ہند ہے، کیوں کہ شمالی ہند کے برعکس، جنوبی ہند میں پر امن دعوتی عمل کے حالات پوری طرح موجود ہیں۔ پھر میں نے کہا جامعہ دار السلام کے حالات معلوم ہونے کے بعد میرا احساس ہے کہ ان شاء اللہ یہی وہ ادارہ ہے جو غالباً اس پیشین گوئی کا مصداق ہے، واللہ أعلم بالصواب۔ موجودہ زمانے میں بے شمار مسلم ادارے قائم ہوئے، لیکن میرے علم کے مطابق، جامعہ دار السلام واحد ادارہ ہے جو دعوت کے تصور کے تحت قائم کیا گیا۔ جامعہ دار السلام میں دعوت کا تصور آغاز ہی سے موجود تھا۔ 1978 میں یہاں باقاعدہ ایک مستقل ادارہ خاص دعوتی مقصد کے لئے قائم کیا گیا، جس کا نام یہ ہے: معهد مقارنة الأديان۔ مولانا ریاض موسی مالاباری غیر مسلموں کے درمیان دعوتی کام کرنا چاہتے تھے۔ اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ ہندوستان کے مختلف اداروں کا دورہ کیا۔ مگر کوئی ادارہ اس کام کے لیے تیار نہیں ہوا۔ اس کے بعد وہ 1997 میں جامعہ دار السلام آئے ۔ یہاں کے ذے داران فوراً ان کے ساتھ تعاون کرنے پر راضی ہوگئے ۔ چناں چہ جامعہ کے تعاون سے ’’ادارہ تعارف اسلام‘‘ کے تحت یہاں دعوتی کام ایک منظم شکل میں جاری ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ غالباً جامعہ دار السلام کے تحت کام کرنے والے دعاة کا گروپ ہی ان شاء اللہ وہ عصابہ ہے جس کی پیشگی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی، واللہ أعلم بالصواب۔ خود مجھ کو یہ تجربہ ہوا کہ دعوتی کام کے لیے عملی طور پر جتنا زیادہ تعاون مجھ کو اس ادارے کے تحت حاصل ہوا، اتنا زیادہ تعاون مجھے کسی بھی دوسرے ادارے سے کبھی حاصل نہیں ہوا۔ جامعہ دار السلام آتے ہی مجھ کو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ دونوں ایک دوسرے کا فطری جز تھے جو باہم مل گئے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جامعہ دار السلام 1924 میں قائم کیا گیا، اور میری پیدائش بھی عین اسی سال ہوئی۔ آخر میں میں نے کہا کہ ’’عصابہ‘‘ کی نسبت سے جو بات میں نے کہی ہے، وہ کوئی فخر یا

فضیلت یا ادّعا کی بات نہیں ہے۔ اس عصابہ کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ میں نے جو بات کہی، اس کی حیثیت صرف ایک ذمے داری کی تشخیص کی ہے۔ اس تشخیص کا تقاضا ہے کہ آپ حضرات اب مزید یقین کے ساتھ اس دعوتی غزوہ میں ہمہ تن سرگرَمِ عمل ہو جائیں۔

9 جون 2010 کے پروگرام کے بعد عصر کی نماز مسجد میں پڑھی گئی۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم لوگ جامعہ کے کلیہ ہال میں گئے۔ وہاں ایک خطاب کا پروگرام تھا۔ اس کا موضوع تھا: آخرت رخی زندگی۔ یہ ایک گھنٹے کا خطاب تھا۔ میں نے کہا کہ آخرت رخی زندگی کا فارمولا حدیث کے مطابق، یہ ہے: حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا، وزنوا أنفسكم قبل أن توزنو ا (مسند الفاروق 2/618)۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں زندگی کی دو صورتیں ہیں—ایک ہے وہ زندگی جو مبنی بر حبّ عاجلہ (20: 75) ہو، یعنی صرف آج کی بنیاد پر منصوبہ بندی۔ اور دوسری زندگی ہے مبنی بر آجلہ، یعنی حیات بعد الموت کو لے کر زندگی کا نقشہ بنانا۔ اس کے بعد میں نے رسول اور اصحاب رسول کے مختلف واقعات سنائے جو آخرت رخی زندگی کے معاملے میں عملی ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آخر میں ناظم اجتماع کی طرف سے لوگوں کو سوال و جواب کا موقع دیا گیا۔ چند منٹ تک کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ جامعہ کے اساتذہ اور دیگر علماء کے علاوہ مولانا کا سعید احمد عمری بھی اس پروگرام میں موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ خطاب اتنا زیادہ واضح اور فکر انگیز ہے کہ اس کے بعد کسی سوال کی کوئی ضرورت نہیں۔ چناں چہ یہ پروگرام سوال و جواب کے بغیر ختم ہو گیا۔ پروگرام کے بعد ہم لوگ جامعہ کے دفتر میں بیٹھ گئے اور مغرب تک وہاں غیر رسمی انداز میں گفتگو ہوتی رہی۔ اس مجلس میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ الرسالہ کے میں نے پوچھا کہ آپ نے الرسالہ کے مطالعے سے کیا پایا۔ انھوں نے کہا کہ—سادگی اور اسلام کا فطری تصور۔

میں نے کہا یہ اُس کا صرف ایک پہلو ہے۔ الرسالہ کا اصل مقصد ہے لوگوں کے اندر مثبت طرزِ فکر (positive thinking) پیدا کرنا، یعنی منفی حالات کے باوجود ہمیشہ مثبت ذہن کے تحت سوچنا۔

الرسلہ کی کوشش یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اس قسم کی ذہنی بیداری لائی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہی خلاصہ ایمان ہے۔ جنت میں وہی لوگ داخلہ پائیں گے جو اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کریں۔ قرآن کے مطابق، جنت دار السلام (10:25) ہے۔ منفی ذہن کے لوگوں کو جنت میں داخلہ ملنے والا نہیں۔

اس مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ الرسلہ میں صبر کے بارے میں بہت مضامین آتے صبر کیا ہے۔ کیا صبر کا مطلب کمپرومائز (compromise) کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں، کمپرومائز الگ چیز ہے اور صبر الگ چیز۔ کمپرومائز، مصلحت (expediency) کے تحت ہوتا ہے، جب کہ صبر حکیمانہ منصوبہ بندی کا نام ہے۔

10 جون 2010 کو صبح کی نماز کے بعد ہم لوگوں نے کچھ دیر تک جامعہ کے کیمپس میں اس کے بعد ہم لوگ کا کا حامد صاحب کی رہائش گاہ پر گئے۔ میں نے پیشگی طور پر کہہ دیا تھا کہ وہاں صرف چائے ہوگی، اس کے سوا کچھ اور نہیں۔ چناں چہ اس کے مطابق عمل کیا گیا۔ یہ ایک غیر رسمی اس میں مولانا کا کا سعید احمد عمری کے علاوہ تقریبا پندرہ علماء شریک تھے۔ اس مجلس میں تقریبا ایک گھنٹے تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان، عالم اور غیر عالم، عرب اور غیر عرب سب ایک مشترک برائی میں مبتلا ہیں اور وہ منفی سوچ (negative thinking) ہے۔

منفی سوچ ایک قاتل سوچ ہے۔ وہ آدمی کی دنیا کو بھی تباہ کرتی ہے اور آخرت کو بھی تباہ کردیتی منفی سوچ کا پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آدمی فیضانِ خداوندی (divine inspiration) سے محروم اس کے اندر وہ ربانی شخصیت نہیں بنتی جس کو قرآن میں قلبِ سلیم (26:89) کہا گیا منفی سوچ کا دوسرا عظیم تر نقصان یہ ہے کہ ایسا آدمی آخرت کی اعلیٰ جنت میں داخلے کے لیے محروم قرار پاتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں سخت محتاط رہے اور کسی بھی عذر کی بنا پر وہ ادنیٰ درجے میں منفی سوچ کا شکار نہ ہو۔ ہر دوسرا نقصان بلاشبہ منفی سوچ میں مبتلا ہونے سے کم ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ علماء سلف پر علمی تنقید تو علماء راسخین کے درمیان جاری رہی ہے، لیکن مجھے آپ کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ علماء سلف کا اعتراف نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ یہ صرف ایک غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں آپ لوگوں سے زیادہ اسلاف کا اعتراف کرتا ہوں۔ آپ لوگ تو صرف فضائل بیان کرتے ہیں۔ میں نے خاص علمی اور تاریخی اعتبار سے اسلاف کے رول کی اہمیت کو واضح کیا اصل یہ ہے کہ اس معاملے کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو کا میں بہت زیادہ اعتراف کرتا ہوں۔ یہ علوم اسلامی کی تدوین، دینی علم کا تسلسل بعد کی نسلوں میں جاری رکھنا، مصادر شریعت کو اس کی اصل صورت میں محفوظ رکھنا، وغیرہ۔ یہ سب کام بلا شبہ ہمارے اسلاف نے انجام دیا ہے۔ یہ بلاشبہ بہت بڑا اس کام کی اہمیت اس موازنہ سے سمجھی جاسکتی ہے کہ اس قسم کے علماء اور محققین دوسرے مذاہب میں پیدا نہیں ہوئے۔ چناں چہ دوسرے مذاہب اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہ سکے۔ اسلاف کا کارنامہ ہے کہ دین اسلام آج پوری طرح محفوظ حالت میں موجود ہے۔

اس معاملے کا دوسرا پہلو وہ ہے جو جدید حالات سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ جدید حالات تقریباً تین سو سال سے دنیا میں موجود ہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ اس دور کے علماء نئے حالات کو سمجھ نہ سکے۔ ہوئے حالات کے اعتبار سے مسلمانوں کو صحیح رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے غلط اقدامات کر کے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو شدید نقصان میں مبتلا کر دیا۔ مثال کے طور پر میں علماء دیوبند کے جہاد آزادی کو ایک انحراف سمجھتا ہوں، وغیرہ۔

اس مجلس میں اور بعض دوسری مجلسوں میں میں نے دیکھا کہ کاکا فیملی کے کئی افراد وہاں شریک تھے، لیکن ان کے اندر میں نے یہ انوکھی صفت پائی کہ جب کوئی سینئر شخص بولتا تھا تو فیملی کے تمام جونیئر ممبران خاموش رہ کر اس کی بات سنتے تھے۔ یہ قدیم روایت (tradition) کاکا فیملی میں اب بھی پوری طرح موجود ہے۔ کا کا حامد صاحب کے یہاں سے فارغ ہو کر ہم لوگ کمرے میں آگئے۔ یہاں صبح کا سادہ ناشتہ کیا گیا۔ یہ ناشتہ وہی تھا جو یہاں طلباء کوروزانہ دیا جاتا ہے۔ ناشتے کے وقت ہمارے ساتھ کئی علماء اور دُعاۃ موجود تھے۔ ان لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔

ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ مشن سے علماء بہت کم جڑے ہوئے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں۔ علماء اپنے روایتی ذہن کی بنا پر اب تک الرسالہ مشن سے بہت کم جڑ سکے تھے، مگر اب خدا کے فضل سے انڈیا اور انڈیا کے باہر کے مختلف مدارس اور مکاتب فکر کے سنجیدہ علماء بڑی تعداد میں الرسالہ مشن سے جڑ گئے ہیں۔ اپریل 2010 میں الرسالہ مشن کی طرف سے دہلی میں جو دعوہ میٹ (Dawah Meet) ہوئی تھی، اس میں شرکت کرنے والے صرف علماء کی تعداد تقریباً 25 میں نے کہا کہ ذاتی ملاقاتوں، ٹیلی فون اور خطوط کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ علماء کے درمیان الرسالہ اور اس کے تحت تیار کردہ لٹریچر بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ خاص طور پر علماء کے درمیان الرسالہ مشن کو متعارف کرنے میں میرے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی کا بہت بڑا رول ہے۔ ایک سنجیدہ اور معتدل مزاج کے آدمی ہیں۔ علماء سے ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ انھوں نے خاموش پلاننگ کے ذریعے علماء کے تقریباً تمام حلقوں تک الرسالہ مشن کے دعوتی پیغام کو پہنچا دیا ہے۔ دارالسلام کا یہ پروگرام بھی انھیں کی بالواسطہ کوششوں کے ذریعہ ممکن ہو سکا ہے۔ 10 جون 2010 کی صبح کو دس بجے سے بارہ بجے تک لائبریری کے ہال میں ایک پروگرام اس پروگرام کا موضوع یہ تھا: عصری اسلوب میں سیرتِ رسول کا تعارف۔ اس پروگرام میں علماء اور دعاة بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

میں نے اپنے خطاب میں جو کچھ کہا، وہ یہ تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی ابدی مشن ہے، اور وہ دعوت ہے۔ زمانہ کے اعتبار سے اس میں جو فرق ہوتا ہے، وہ صرف طرزِ خطاب اور اسلوب (idiom) کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ خود مشن کے اعتبار سے۔ پیغمبر اسلام کا مشن اول بھی دعوت ہے اور آخر بھی دعوت۔ حجۃ الوداع‘ کے بعد اصحابِ رسول کی بڑی تعداد عرب کے باہر مختلف ملکوں میں چلی گئی۔ وہاں انھوں نے لوگوں کو دینی معنی میں اسلامائز کیا، نہ کہ سیاسی معنی میں۔ موجودہ زمانے میں سیاسی اسلامائزیشن کا چرچا ہے، مگر رسول اور اصحابِ رسول کے ماڈل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ میں نے کہا کہ دعوت الی اللہ کا کام ایسا نہیں ہے جس کو ایک بار کر دیا جائے اور پھر اس کی

ضرورت باقی نہ رہے۔ دعوت کا عمل ایک مسلسل عمل (continuous process) ہے، کیوں کہ انسان پیدا ہوتے ہیں اور کچھ دن زندہ رہنے کے بعد مر جاتے ہیں۔ اس طرح بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک جنریشن کے بعد دوسری جنریشن آ جاتی ہے۔ اس لیے ہر جنریشن میں دعوتی کام کرنا ضروری ہے، تاکہ تمام انسانوں تک ان کے خالق کا پیغام پہنچ جائے۔

خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا کہ قرآن میں اَعِدّوا لَھُم ما استطعتم من قوة (8:60) آیا ہے۔ اس میں اعداقوت سے کیا مراد ہے۔ میں نے کہا کہ خود قرآن کی آیت میں اس کا معیار بتا دیا گیا ہے، اور وہ ارہاب ہے، یعنی وہ قوت فراہم کرو جو فریق ثانی کے نزدیک قوت مرہبہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں جنگی ہتھیار کی حیثیت قوت مرہبہ کی نہیں ہے، بلکہ سائنسی علوم کو یہ حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ زمانے میں امریکا اس کی ایک مثال ہے۔ امریکا کے پاس ہر قسم کے جنگی ہتھیار موجود ہیں، لیکن ان کو استعمال کرنے کے با وجود وہ ویت نام، عراق، افغانستان، وغیرہ میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ ایک سوال قرآن کی اس آیت کے بارے میں تھا: اذن للذین یقاتلون بأنھم ظلموا میں نے کہا کہ اس آیت سے یہ مطلب نکالا جاتا ہے کہ کسی فریق کے ساتھ ظلم کا واقعہ ہو تو اہل اسلام کے لیے جنگ جائز ہو جاتی ہے، مگر یہ ایک شدید غلط فہمی ہے۔ یہ مدنی آیت ہے۔ معلوم ہے، مکی دور میں افراد کے ساتھ بار بار ظلم کیا گیا، لیکن اُس وقت یہ آیت نہیں اتری۔ یہ آیت ہجرت کے بعد مدینہ میں اتری۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی اس آیت میں ظلم سے مراد انفرادی ظلم نہیں ہے، بلکہ فوجی حملہ ہے، یعنی ایک بیرونی حکومت کا مسلم حکومت پر باقاعدہ فوج کے ذریعے حملہ آور ہونا۔ اس معاملے میں دوسری بات یہ ہے کہ جب فوج کے ذریعے اس قسم کا جارحانہ حملہ کیا جائے تو اُس وقت بھی صرف حکومت کو دفاعی جنگ (defensive war) کی اجازت ہوگی۔ غیر حکومتی افراد اور تنظیموں (NGOs) کو اُس وقت بھی مسلح جنگی کارروائی کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ کے علماء، عرب اور غیر عرب دونوں نے، جو شدید ترین غلطی کی ہے، وہ یہ کہ انھوں نے ظلم کے نام پر

غیر حکومتی عسکریت (non-governmental militancy) کو شرعی اعتبار سے جائز قرار دیا۔ یہ ایک مہلک غلطی تھی۔ مجھے اس معاملے میں کسی عرب یا غیر عرب عالم کا استثنا نظر نہیں آتا۔ ہمارے یہاں سے قرآن کا جو انگریزی ترجمہ شائع کیا گیا ہے، اس کی بابت پروگرام کے آخر میں مولانا ریاض موسیٰ صاحب نے بتایا کہ میں نے انگریزی جاننے والے افراد کی ایک ٹیم کو یہ اور میں نے کہا کہ دوسرے انگریزی تراجم سے اس کا تقابل کرنے کے بعد مجھ کو بتائیے کہ کون سا ترجمہ سب سے زیادہ واضح اور عصری زبان میں ہے۔ عجیب بات ہے کہ تقابل کرنے کے بعد ان لوگوں نے متفقہ طور پر کہا کہ صرف گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) سے شائع ہونے والا انگریزی ترجمہ اس معیار پر پورا اترتا ہے۔ اس میں پوری طرح وضوح (clarity) ہے، اور اسی کے ساتھ وہ اتنی آسان زبان میں ہے کہ اس کو ڈکشنری کی مدد کے بغیر پڑھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انگریزی تراجم میں سب سے زیادہ قابل فہم ترجمہ ڈاکٹر بشیر محی الدین (افریقہ) کا ترجمہ مانا جاتا ہے، لیکن گڈ ورڈ سے شائع ہونے والا ترجمہ اس سے بھی زیادہ واضح اور قابلِ فہم ہے۔

10 جون 2010 کو ظہر کی نماز کے بعد خطاب کا ایک پروگرام تھا۔ یہ پروگرام جامعہ کے کلیہ ہال میں کیا گیا۔ اس میں دعاۃ اور طلبا کے علاوہ، جامعہ کے اساتذہ بھی شریک ہوئے۔ اس پروگرام کا موضوع یہ تھا: سیرت ایک تحریک کی حیثیت سے۔ اس موضوع پر میں نے ڈیڑھ گھنٹے کی ایک تقریر کی۔ اس تقریر کا خلاصہ یہاں مختصر طور پر نقل کیا جاتا ہے۔

میں نے کہا کہ تحریک (movement) ایک ایسا عمل ہے جو ایک شخص یا گروہ کی طرف سے دوسرے گروہ کے مقابلے میں برپا ہوتا ہے۔ اس طرح کسی تحریک کے تقاضے دو طرفہ ہو جاتے ہیں، یعنی ایک طرف داعی کی نسبت سے اور دوسری طرف مدعو کی نسبت سے۔ خود اپنے فیصلے کے تحت پڑھ سکتے ہیں، لیکن تحریک کی کامیابی اس میں ہے کہ آپ دوسروں کو بھی بخوبی طور پر جانیں اور دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کا اعلیٰ نمونہ پایا جاتا ہے۔

موجودہ زمانے میں اٹھنے والی مسلم تحریکیں اپنے مطلوب نتیجے کے اعتبار سے ناکام ہوگئیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان تحریکوں کے چلانے والے صرف اپنے آپ کو جانتے تھے، دوسروں کے بارے میں وہ پوری طرح بے خبر تھے۔

میں نے جہاں تک سیرتِ رسول کا مطالعہ کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو ایک لفظ میں پازیٹو اسٹیٹس کو ازم (positive statusquoism) کہا جا سکتا ہے، یعنی دوسروں کی مکمل رعایت کرتے ہوئے انتہائی حد تک غیر نزاعی انداز میں اپنا کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حکیمانہ پالیسی کا اعتراف برطانوی مستشرق ای ای کلیٹ (E E Kellett) نے اپنے الفاظ میں اس طرح کیا ہے ــــ انھوں نے مشکلات کا سامنا اس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں:

He faced adversity with the determination to wring success out of failure. سیرتِ رسول کے اس پہلو کو میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور اس کی وضاحت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بہت سے واقعات بیان کیے ۔ پروگرام کے بعد حاضرین کو سوال وجواب کا وقت دیا گیا، مگر کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ چناں چہ جلسے کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا۔ مولانا کا کا سعید احمد عمری نے اس خطاب کے بارے میں کہا کہ یہ سیرتِ رسول کے موضوع پر سب سے اچھا خطاب تھا۔ کا کا صاحب نے جامعہ کے لوگوں سے کہا کہ وہ اس پورے خطاب کو جامعہ کے ترجمان ماہ نامہ "راہِ اعتدال" میں شامل کریں۔ پروگرام کے خاتمہ پر ہم لوگ عصر کی نماز کے لیے مسجد میں گئے۔ مسجد کافی کشادہ، مگر نہایت مسجد کی دیواروں پر اُس قسم کی کوئی چیز موجود نہ تھی جو اکثر مسجدوں میں ہوتی ہے اور نمازیوں کے لیے ڈسٹریکشن کا کام کرتی ہے۔ یہ مسجد مکمل طور پر سادہ اور مکمل طور پر پرسکون تھی۔ طلبا کے اندر نہایت سنجیدگی اور ڈسپلن دکھائی دے رہا تھا۔

نماز عصر سے فراغت کے بعد ہم لوگ لائبریری میں اپنی قیام گاہ پر آگئے۔ یہاں لائبریری کے

باہر ہی ہال میں کئی دوسرے مقامات کے لوگ اکٹھا تھے۔ مثلاً وانیمباڑی (تمل ناڈو)، بنگلور، حیدر آباد، وغیرہ۔ ان لوگوں سے دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک بات میں نے وقت کے بارے میں کہی۔ کچھ لوگ ایسے تھے جو ہمارے پروگرام میں شرکت کے لئے آئے، لیکن وہ یہاں دیر میں پہنچے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک بے شعوری کی بات ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے — یا تو وقت پر آنا، یا پھر نہ آنا۔ اس کے سوا تیسری کوئی صورت نہیں۔ ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل مسلمانوں کا یہ حال ہو گیا ہے کہ وہ معاملے کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ یہ طریقہ بالکل لا حاصل ہے۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ : اتقوا فراسة المؤمن، فإنه ينظر بنور الله (الترمذی، باب تفسیر القرآن عن رسول الله) ۔ میں نے کہا کہ اس حدیث کے مطابق، سچا ایمان آدمی کے اندر ایک ربانی روشنی پیدا کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مومن کی منصوبہ بندی کے مقابلے میں، دوسرے لوگ دفاعی پوزیشن میں آ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ مسلمان دوسروں کے خلاف شاک کی بنے ہوئے ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ فراستِ ایمانی سے محروم ہیں۔ اس لیے ایسا ہوا ہے کہ اُن کے مقابلے میں، دوسروں کو بالا دستی حاصل ہو گئی ہے۔

بنگلور کے حلقہ الرسالہ کے تقریباً 15 لوگ ملاقات کے لیے آئے۔ میں نے اُن سے دعوت اور آخرت کے موضوع سے متعلق کچھ باتیں کہیں جس کو سن کر وہ رونے لگے۔ انھوں نے مجھ سے نصیحت کے لیے کہا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو صرف ایک نصیحت کروں گا۔ وہ یہ کہ آپ آج سے اس بات کا فیصلہ کر لیں کہ آپ کو اپنے اندر قلبِ سلیم پیدا کرنا ہے اور اسی حال میں آپ کو جینا اور اسی حال میں مر جانا ہے۔ کہا کہ یہ ایک ایسے آدمی کی نصیحت ہے جو قبر کے کنارے کھڑے ہو کر آپ کو یہ نصیحت کر رہا ہے۔ اس موقع پر آمبور (ضلع ویلور، تمل ناڈو) کے خطیب محمد سالم صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ مولا نا محمد کلیم صدیقی صاحب کے تحت، اپنے علاقہ میں غیر مسلموں کے درمیان دعوتی کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی مرتب کردہ ایک کتاب مطالعہ کے لیے دی۔ اس کتاب کا نام یہ ہے :

نسیم ہدایت کے جھونکے_ نومسلموں کی کہانی خود انہی کی زبانی (صفحات: 176)

یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں ماہ نامہ ارمان (پھلت) میں شائع شدہ غیر مسلم حضرات کے مختلف انٹرویو جمع کر دیئے گئے ہیں۔ اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے مرتب نے بجا طور پر لکھا ہے کہ اس کی اشاعت کا مقصد امت کے اندر یہ احساس جگانا ہے کہ پوری دنیا میں اشاعتِ اسلام کا کام اگر ہم نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے دوسرے بندوں کو اس کام کے لیے کھڑا کر دیں گے: وإن تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم لا يكونوا أمثالكم۔

جامعہ کے ایک استاد حافظ شیخ کلیم اللہ عمری مدنی ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے اپنے چند کتابچے برائے مطالعہ پیش کیے۔ مثلاً محبت الہی کے ذرائع اور اخلاقیات، وغیرہ۔ اس موقع پر جامعہ کے ایک نوجوان اور سنجیدہ استاد مولانا حافظ محمد ابراہیم عمری نے اپنی کتاب ”انتہا پسندی اور اسلام“ مطالعے کے لیے دی۔ یہ ایک اچھی کتاب ہے۔ وہ 216 صفحات پر مشتمل ہے۔

10 جون 2010 کو عصر کی نماز کے بعد جامعہ کے ایک سینئر استاد مولانا ڈاکٹر سعید احمد عمری ملاقات کے لیے آئے۔ اُن سے بعض مسائل پر گفتگو ہوئی۔ ایک مسئلہ یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے علمی انحطاط کا سبب کیا ہے، جب کہ ماضی میں وہ علمی ترقی کے اعتبار سے ممتاز مقام پر پہنچ میں نے کہا کہ جب ہم مسلمان یا ملتِ مسلمہ کا لفظ بولتے ہیں تو شعوری یا غیر شعوری طور پر ہم اس کو ایک تسلسل کے روپ میں دیکھنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ معاملہ سادہ طور پر مسلمانوں کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کی دو مختلف نسلوں کا معاملہ ہے، یعنی دورِ عروج کی مسلم نسلیں اور دورِ زوال کی مسلم نسلیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا علمی زوال ان کے اپنے نسلی زوال کا نتیجہ ہے، اور دورِ زوال میں یہ ہر قوم کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ مطالعہ قرآن کا اصول کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مطالعہ قرآن کے بہت سے اصول علماء نے لکھے ہیں، لیکن میرے اپنے تجربے کے مطابق، سب سے بڑا اصول دعا ہے۔ میں مجھ کو امام ابن تیمیہ کا طریقہ بہت پسند ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ بعض مرتبہ ایک آیت کو سمجھنے کے

لیے میں نے سو سو تفسیروں کا مطالعہ کیا ہے۔ مطالعہ کے بعد میں اللہ تعالیٰ سے آیت کے فہم کی دعا کرتے ہوئے کہتا ہوں : یا معلم إبراہیم، علّمنی۔

میں نے کہا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے اللہ سے دعا کرنا گویا کہ کسی کتاب کو سمجھنے کے لیے اس کے مصنف سے کنسلط کرنا ہے۔ قرآن واحد کتاب ہے جس کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپ ہر لمحہ اس کے مصنف سے کنسلط کر سکتے ہیں۔ اس کو سن کر ڈاکٹر سعید احمد عمری نے کہا کہ مطالعہ قرآن کے لیے آج شاہ کلید ہاتھ آ گئی ۔ اس مجلس میں دوسرے کئی علماء موجود تھے۔ مولانا کا کا سعید احمد عمری نے کہا کہ امام ابن تیمیہ کی یہ بات ہم بہت پہلے سے جانتے تھے، لیکن آج آپ کی زبان سے اس کی اثر انگیز تفصیل سن کر اس کی معنویت پوری طرح کھل گئی۔

ایک سوال یہ تھا کہ مسلم تاریخ جو بعد کو لکھی گئی ، وہ زیادہ تر مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کے ہم معنی بن گئی ہے۔ مسلم سرگرمیوں کے دوسرے پہلو مثلاً دعوت و تبلیغ کے تفصیلی واقعات اس میں شامل نہ اب اس کمی کی تلافی کس طرح کی جاسکتی ہے۔

میں نے کہا کہ بظاہر اب اس کی تلافی ممکن نہیں۔ کیوں کہ تاریخ (history) ناول کی طرح محض اپنے ذہن سے نہیں لکھی جاسکتی۔ اس کے لیے ضروری معلومات (data) درکار ہے جو کہ عملاً میں نے کہا کہ اس ضرورت کا احساس بہت پہلے عبد الرحمن بن خلدون (وفات: 1406ء) کو ہوا تھا۔ انھوں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے آغاز میں ایک مفصل مقدمہ لکھا۔ اس کے بعد انھوں نے سات جلدوں میں ایک کتاب لکھی جس کا نام یہ ہے: العبر وديوان المبتدأ والخبر فى تاريخ العرب والعجم والبربر۔

لیکن خود ابن خلدون اپنی اس تاریخ کو اُن اصولوں کے مطابق ، نہ تیار کر سکے جس کو انھوں نے اپنے مقدمہ میں تحریر کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مقدمہ تو وہ اپنے ذہن سے لکھ سکتے تھے، لیکن ایک نئی تاریخ لکھنے کے لیے بنیادی معلومات (data) کی ضرورت تھی اور وہ موجود نہ تھیں۔ اب اگر کوئی شخص بہت زیادہ محنت کرے تو وہ مختلف ماخذ سے اس نوعیت کی کچھ معلومات حاصل کر سکتا ہے، لیکن وہ

معلومات اتنی زیادہ نہ ہوں گی کہ پوری تاریخ از سر نو لکھی جا سکے۔

پوری مسلم تاریخ کو اب از سر نو مرتب کرنا تو ممکن نہیں، لیکن میری یہ تمنا ہے کہ سیرت رسول کے موضوع پر ایک نئی کتاب تیار کروں۔ اگر ایک پوری ٹیم کے ساتھ احادیث رسول کا اور دوسرے متعلق ذخائر کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو امید ہے کہ سیرت کے موضوع پر ایک نئی کتاب تیار کی جا سکتی سیرت کے موضوع پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، وہ غزواتی پیٹرن پر لکھی گئی ہیں، جب کہ سیرت کے موضوع پر صحیح کتاب وہ ہے جو دعوتی پیٹرن پر لکھی جائے۔ میں نے جزئی طور پر یہ کام کیا ہے، لیکن کلی طور پر اس کام کو انجام دینا بھی باقی ہے۔

آخر میں میں نے اپنی دو کتابیں اپنے دستخط کے ساتھ ڈاکٹر سعید احمد عمری کو بطور تحفہ پیش کیں ـــ اللہ اکبر، پیغمبر انقلاب۔ اس کے بعد مغرب کی نماز لائبریری ہال میں جماعت کے ساتھ نماز میں تقریباً 15 علماء موجود تھے۔ اس نماز کی امامت میرے ساتھی مولانا حافظ محمد ذکوان ندوی مغرب کے بعد میری قیام گاہ پر کئی علماء آگئے۔ ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اس مجلس میں میں نے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ حدیث کی کتابوں میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار استغفار کرتے تھے۔ بعض روایات کے مطابق 70 بار، بعض روایات کے مطابق، 100 بار اور بعض روایات کے مطابق، اس سے بھی زیادہ بار آپ استغفار شارحین حدیث نے اس کی تاویل میں لمبی بحثیں کی ہیں، لیکن اصل یہ ہے کہ یہ عجز کا عجز کی دریافت بلاشبہ کسی مومن کی سب سے بڑی دریافت ہے۔ خدا کے تمام پیغمبر اس معاملے میں کمال کے درجے پر تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر احساس نبوت میں نہیں جیتا، بلکہ وہ احساس عبدیت میں جیتا ہے۔ رب العالمین کے مقابلے میں کسی انسان کے پاس جو سب سے بڑا سرمایہ ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ عجز ہے۔ اس کے بعد ہم لوگ جامعہ کی مسجد میں گئے اور وہاں عشاء کی نماز با جماعت ادا کی۔ باہر ہلکی بارش ہورہی تھی، اس لیے عشاء کی نماز کے بعد دوبارہ ہم لوگ لائبریری میں اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے۔ یہاں دوبارہ کچھ طلبلا اور اساتذہ اکٹھا ہوگئے۔

مولانا سید اقبال احمد عمری نے جامعۃ دارالسلام کے متعدد اساتذہ سے الرسالہ مشن کے بارے میں ان کے تاثرات معلوم کیے، جو اُنھیں کے الفاظ میں یہاں مختصر نقل کیے جاتے ہیں: 1- ”مولانا وحید الدین خاں صاحب سے میرے تعلقات بہت پرانے ہیں۔ مجھے ان کی مختلف تحریریں پڑھنے کو ملیں۔ ان تحریروں میں اسلام اور متعلقات اسلام پر ان کے جدید اندازِ تعبیر نے مجھے بہت اس طرح مجھ کو مولانا سے ایک قلبی اور روحانی تعلق پیدا ہوگیا۔ جامعہ کے جشن طلائی کے موقع پر جب مولانا یہاں آئے تو اپنے دلی تعلق کی وجہ سے میں نے مولانا کو دوسرے مہمانوں کے ساتھ ٹھہرانے کے بجائے اپنے خاص کمرے میں ٹھہرایا تھا۔ میں مولانا کی تحریروں کا شائق تھا۔ چناں چہ جب مولانا کی کتاب’’تعبیر کی غلطی‘‘ کا اشتہار دیکھا تو اس کے نسخے منگوانے_ خود بھی پڑھا اور کچھ دوسرے احباب کو بھی پڑھنے کے لیے دیا۔ جہاں تک مولانا سے متاثر ہونے کا سوال ہے، یہاں خلاصہ کے طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سے میں بہت متاثر ہوں۔ وہ اپنے طرزِ تعبیر میں منفرد ہیں۔ وہ اپنے طرزِ تعبیر کے موجد بھی ہیں اور مولانا کا علم بہت گہرا ہے۔ اسلام کی تعبیر کا جو خاص ملکہ ان کو حاصل ہے، وہ منفرد اور قابلِ مطالعہ میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ ابھی وہ میرے گھر آتا ہے۔ مولانا کے علمی استدلال کے انداز سے سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے، نہ یہ کہ خواہ مخواہ اس سے علمی استفادہ کرنے سے دور رہیں“۔ ( حضرت مولانا نظیر الدین اثری رحمانی، سابق شیخ الحدیث، جامعۃ دارالسلام، عمر آباد ) 2- ”مولانا وحید الدین خاں صاحب کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو وقت کی زبان اور اسلوب میں پیش کرنا، ایک کامیاب طریقہ ہے۔ جو لوگ مولانا کے لٹریچر سے فائدہ اٹھارہے ہیں، یا براہِ راست ان سے استفادہ کررہے ہیں، اس کے مطابق، ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کو پیش کرنے کا یہ طریقہ زیادہ مناسب بھی ہے اور مستحسن بھی۔ میں الرسالہ دیکھتا ہوں_ تذکیر القرآن کا جستہ جستہ مطالعہ آئندہ اس کو بالاستیعاب مطالعہ کرنے کا ارادہ ہے۔ مولانا کے پاس وقت کی زبان اور وقت کے اسلوب میں اسلام کو پیش کرنے کا اچھا طریقہ ہے۔ ( حضرت مولانا سید الکبیر عمری، شیخ التفسیر، جامعۃ دارالسلام، عمر آباد )

3- ”مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں میں میری سب سے پسندیدہ کتاب’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ ہے۔ اس میں مولانا نے اسلامی عقائد کو عصری دلائل کی روشنی میں پیش کیا ہے۔ دور طالب علمی ہی سے الرسالہ میرے مطالعہ میں رہا ہے، اس کا اسلوب مجھے اچھا لگتا ہے کہ معمولی واقعات کے اندر ہمارے لیے کیسے اسباق موجود ہیں۔ یہ درحقیقت قرآنی اسلوب ہے جو ایک مومن کو فراست ایمانی کے نتیجے میں ملتا ہے۔ مولانا سے ملنے کی خواہش بہت دنوں سے تھی، مگر اس کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ جامعہ آمد پر مولانا سے ملنے کی میری دیرینہ خواہش پوری ہوئی اور مولانا سے براہِ راست سننے اور استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ مولانا نے بڑی محبت سے ملاقات کی اور میری قدر افزائی فرمائی۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ مولانا کے دل میں اہل علم کے لیے بڑی قدر ہے۔ میں نے مولانا سے چند سوالات کئے ۔ مولانا نے بڑی جامعیت کے ساتھ ان کا مختصر مگر بھر پور جواب دیا۔ جو مولانا کے وسیع مطالعہ کے علاوہ ان کے ذاتی غور وفکر کی دین ہے۔ اس کے علاوہ ،مولانا نے اپنا مثبت نقطۂ نظر ہر جگہ ملحوظ ایسا عام طور سے نہیں ہوتا۔ دعوت دین کے سلسلے میں مولانا کو میں نے بڑا فکرمند پایا۔ کے پیام امن و سلامتی کو بہت زیادہ واضح کرنے کے داعی ہیں، تا کہ اسلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا پردہ چاک کیا جا سکے ۔ مولانا کی گفتگو و تحریر میں جدید تحقیقات کے حوالے کا رنگ غالب وہ دینی حقائق اور جدید علمی حقائق میں ہم آہنگی ثابت کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ (مولانا ڈاکٹر شیخ سعید احمد عمری ، استاذ تفسیر و ادب عربی ، جامعہ دارالسلام ، عمر آباد ) 11 جون 2010 کو ہماری واپسی تھی ۔ فجر کی نماز ہم لوگوں نے جامعہ کی مسجد میں پڑھی۔ یہاں کے دستور کے مطابق، نماز کے بعد تمام طلبا قرآن کی تلاوت کے لیے مسجد میں بیٹھ گئے ۔ چوں کہ مجھے آج صبح کو روانہ ہونا تھا ، اس لیے تلاوت کو تھوڑی دیر تک ملتوی کر کے مجھے خطاب کے لیے کہا گیا ۔ سامعین میں طلبا اور اساتذہ دونوں موجود تھے۔

میں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں، ان میں سے کچھ باتیں یہ تھیں ۔ میں نے کہا کہ آپ دنیا میں کہیں بھی جائیے ، ہر جگہ آپ کو مسجدیں اور مدرسے دکھائی دیں گے ۔ مسجدیں عبادت کے مرکز

کے طور پر، اور مدرسے سے تعلیم کے مرکز کے طور پر۔ یہ مسجد اور مدرسے سے گویا کہ اسلام کا گلوبل انفراسٹرکچر (global infrastructure) ہیں ۔ ان دینی اور تعلیمی اداروں کے ذریعے اسلام نے تاریخ میں اپنا تسلسل برقرار رکھا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ آج ہم کسی روک ٹوک کے بغیر مسجدوں میں نماز ادا کرتے ہیں اور مدارس میں ہماری اگلی نسلوں کے لیے تعلیم دین کا نظام کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں ۔ یہ ایک نہایت عظیم بات ہے جس کے لیے ہمارا سینہ شکر سے معمور ہونا چاہیے۔ کہا کہ قرآن میں در بار فرعون کے رجل مومن کے بارے میں آیا ہے: یکتم إیمانه (40:28)۔ یہ ایک شخص کی بات نہیں، بلکہ ایک دور کی بات ہے۔ قدیم زمانہ کتمان ایمان کا زمانہ تھا، موجودہ زمانہ اظہار ایمان کا زمانہ ہے۔ یہ آزادی اصحاب رسول کے ذریعے لائے ہوئے انقلاب کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔ آپ اس پر غور کریں تو آپ کے سینے میں شکر کا دریا جاری ہو جائے گا۔ آپ اس انقلابی تبدیلی پر غور کریں تو شکایت کا کوئی شائبہ بھی آپ کے دل میں باقی نہ رہے۔ اس کے بعد میں نے خصوصی طور پر طلبا کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا دینے اور لینے (give & take) کی دنیا ہے۔ اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ جتنا دینا، اتنا پانا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ دنیا کی مختلف سرگرمیوں میں داخل ہوں گے۔ آپ صرف ایک چیز کو اپنے سامنے رکھیے، اور وہ امتیاز (excellence) ہے۔ آپ جو کام بھی کریں، ممتاز طور پر کریں، حتی کہ اگر آپ موذن بنیں تو سب سے اچھی اذان دینے والے موذن بنیں۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ حقیقت ہے جس کو حضرت علی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: قيمة المرء ما يحسنه: The value of a person lies in excellence. نماز کے بعد ہم لوگ لائبریری کے کمرے میں واپس آگئے ۔ یہاں معتمد جامعہ مولانا کا سا سعید احمد عمری اور دوسرے اساتذہ آخری ملاقات کے لیے آگئے ۔ یہاں صبح کی چائے پینے کے بعد مدرس کے لیے روانگی ہوئی۔ مولانا سید اقبال احمد عمری، مولانا فیاض الدین عمری، مولانا اسرار الحسن خطیب عمری اور مسٹر عبدالغنی ( گل برگہ ) مدراس تک ہمارے ساتھ تھے۔ صبح کو ہم لوگ جب واپسی کے لیے عمر آباد

سے روانہ ہوئے تو ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ یہ ہلکی بارش مدراس تک مسلسل جاری رہی۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بارش انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کا عجیب و غریب عطیہ ہے۔ اور پانی کے اتنے زیادہ فائدے ہیں کہ ان کو کسی ضخیم انسائیکلوپیڈیا میں بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔ ہمیشہ انسان کے لیے رحمتوں اور برکتوں کا نشان رہی ہے۔ یہ صرف موجودہ صنعتی زمانے کی بات ہے کہ دنیا میں وہ سنگین مسئلہ پیدا ہوا جس کو آبی کثافت (water pollution) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ سمندروں کے آبی ذخائر بہت بڑے پیمانے پر آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ برفانی پہاڑوں کی صورت میں فریش واٹر کے جو منجمند ذخائر (گلیشیر) موجود تھے، وہ گلوبل وارمنگ کی بنا پر پگھل کر ختم ہو رہے ہیں، وغیرہ۔ دوپہر کے وقت ہم لوگ مدراس ایئر پورٹ پر پہنچے۔ ایئر پورٹ کی نئی تعمیر کی جارہی ہے۔ چناں چہ یہاں تعمیرات کا کام بڑے پیمانے پر جاری تھا۔ ہم لوگ ایئر پورٹ پر کچھ دیر بیٹھے۔ ایئر پورٹ کے عملہ کے ایک ساتھی محمد آزاد صاحب ہم لوگوں کا ای ٹکٹ لے کر گئے اور انھوں نے ہمارا بورڈنگ پاس بنوا کر ہمیں دے دیا۔ ہم لوگ 11 جون 2010 کی دوپہر کو دو بجے جہاز کے اندر داخل یہ جیٹ ایئر ویز کی فلائٹ (9W 2256) تھی۔

ہوائی جہاز کا یہ طریقہ ہے کہ اُس میں مسافروں کی اِن فلائٹ ریڈنگ (inflight reading) کے لیے اخبار اور میگزین ہوتے ہیں۔ آج کے اخبار ٹائمز آف انڈیا (11 جون 2010) میں ایک خبر میکسیکو گلف (Gulf of Mexico) سے متعلق تھی۔

یہاں 20 اپریل 2010 سے تیل کے رساؤ (oil spill) کا واقعہ ہورہا ہے۔ یہاں سطح سمندر کے نیچے کثیر مقدار میں تیل پایا جاتا ہے۔ برٹش پیٹرولیم کی ٹیم یہاں عرصے سے ڈرلنگ (drilling) کا کام کر رہی ہے۔ یہ ڈرلنگ سطح آب سے ایک میل نیچے ہورہی ہے۔ کسی ٹیکنکل غلطی کی بنا پر وہاں تیل باہر نکل کر بہنے لگا۔ تیل کا یہ اخراج مسلسل جاری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں پانچ ہزار بیرل (barrel) تیل روزانہ نکل کر سمندر کے پانی میں شامل ہورہا ہے۔ مسلسل کوشش کے باوجود اب تک اُس پر قابو نہ پایا

اس واقعے کی رپورٹ اخبار میں اس عنوان کے تحت چھپی تھی ۔ اوباما کی پرابلم چڑیا: اخبار میں اس خبر کے ساتھ سترھویں صدی عیسوی کے ایک انگلش فلاسفر فرانس بیکین (Francis Bacon) کا ایک قول نقل کیا گیا ہے جو صورت حال سے بہت مطابقت رکھتا ہے۔ کہا ہم فطرت کو اپنے قابو میں نہیں لے سکتے ، ہم صرف اس کا اتباع کر سکتے ہیں: We cannot command Nature, except by obeying her. اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان فطرت سے صرف اُس وقت تک فائدہ اُٹھا سکتا ہے، جب کہ وہ خود فطرت کے قوانین (law of nature) کی پابندی کرے۔ انسان خود اپنا بنایا ہوا قانون فطرت کے اوپر نافذ نہیں کر سکتا۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ جیسے مسائل جو پیدا ہوئے ہیں، وہ اسی اصول فطرت سے انحراف کا نتیجہ ہیں۔

مدراس سے دہلی کی پرواز تقریباً دو گھنٹے کی تھی۔ راستے میں ہمارے ساتھی نے جہاز کے عملہ کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ اس کو انھوں نے شکریے کے ساتھ قبول کیا۔ 11 جون 2010 کی شام کو ہم لوگ دہلی کے ائیر پورٹ پر اترے تو یہاں ہمارے ادارے کے ایک کارکن مسٹر اشوک ائیر پورٹ کے باہر موجود تھے۔ ہم لوگ ان کے ساتھ کار میں بیٹھ کر نظام الدین پہنچ گئے۔ (یہ سفر نامہ مولا نا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے تیار کیا گیا) Maulana Wahiduddin Khan Tuesday and Wednesday 10.30 pm Saturday and Sunday 6.00 am Question Answer Session by Maulana Wahiduddin Khan Daily 6.00 am, 11.30 am, 1.00 am

اسلام: ایک تعارف اسلام: ایک عظیم جدوجہد اسلام اور عصر حاضر اسلام پندرہویں صدی میں اسلام دورِ جدید کا خالق اسلام دین فطرت اسلام کا تعارف اسلام کیا ہے * امنِ عالم انسان اپنے آپ کو پہچان * انسان کی منزل (تذکیر القرآن (مکمل تاریخِ دعوتِ حق تاریخ کا سبق تعبیر کی غلطی تعمیر کی طرف حقیقت کی تلاش حل یہاں ہے خدا اور انسان دین کی سیاسی تعبیر دین کیا ہے دین و شریعت * * ڈائری 93-94 راہیں بند نہیں رہنماۓ حیات (کتابچہ) * رہنماۓ حیات سبق آموز واقعات سفرنامہ اسپین و فلسطین (سفرنامہ (غیر ملکی اسفار، جلد اول (سفرنامہ (غیر ملکی اسفار، جلد دوم سوشلزم اور اسلام سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ * سیرتِ رسول شتم رسول کا مسئلہ طلاق اسلام میں علما اور دورِ جديد عورت معمارِ انسانیت * فسادات کا مسئلہ قال اللہ وقال الرسول قرآن کا مطلوب انسان مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے مذہب اور جدید چیلنج مذہب اور سائنس مسائل اجتہاد * مطالعہ حدیث * مطالعہ سیرت (کتابچہ) * مطالعہ سیرت * مطالعہ قرآن * منزل کی طرف مولانا مودودی، شخصیت اور تحریک * میوات کا سفر ہندوستان آزادی کے بعد پاک ڈائری * یکساں سول کوڈ نئی کتابیں *

Printed page