Al-Risala · November 2010

آيت الکرسی

Al-Risala, November 2010, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ البقرہ میں ایک آیت ہے جس کو عام طور پر آیت الکرسی کہا جاتا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے، مگر جو وہ چاہے۔ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمینوں پر پھیلا ہوا ہے۔ تھکتا نہیں ہے اُن کے تھامنے سے۔ اور وہی ہے بلند مرتبہ، عظمتوں والا (2:255)۔ بلاغت کا ایک اصول یہ ہے کہ اگر کسی حقیقت کو کامل صحت کے ساتھ بیان کر دیا جائے تو ایسا بیان اپنے آپ میں کافی ہو جاتا ہے، اس کے بعد اس بیان کو مدلل کرنے کے لیے کسی اور دلیل کی مثلاً دوپہر کے وقت اگر کھلے آسمان میں سورج چمک رہا ہو تو یہ کہنا کافی ہے کہ سورج نکلا اس کے بعد اس بیان کو ثابت کرنے کے لیے کسی اور دلیل کی ضرورت نہ ہوگی۔ سورج کی مثال ایک حسی مثال ہے۔ یہی معاملہ غیرحسی حقیقتوں کا بھی ہے۔ اگر کسی غیرحسی حقیقت کو کوئی شخص پوری طرح دریافت کر لے اور پھر اس کو کامل صحت کے ساتھ الفاظ میں بیان کر دے تو ایسا بیان اپنے آپ میں ایک مدلل بیان بن جائے گا۔ یہی معاملہ قرآن کی مذکورہ آیت کا ہے جس کو آیت الکرسی کہا جاتا ہے۔ آیت الکرسی میں خداوند ذوالجلال کی جن صفتوں کو الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، ان میں صحت بیان اتنا زیادہ کمال درجے میں پایا جاتا ہے کہ اگر اس میں مزید وضاحت شامل کی جائے تو وہ اصل بیان کو کم تر کرنے کے ہم معنی بن جائے گی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ آیت الکرسی کو یاد کر کے بار بار اس کو وہ محسوس کرے گا کہ وہ ایک ایسے کلام کو دہرارہا ہے جو معروف قسم کے مدلل کلام سے بھی زیادہ حقیقت یہ ہے کہ آیت الکرسی ایک ایسا کلام ہے جس کو تشریح کے بغیر پڑھنا چاہیے۔ کسی تشریح کا اضافہ صرف اس کی عظمت کو گھٹانے والا ثابت ہوگا، نہ کہ اس کی عظمت کو بڑھانے والا۔

Printed page