اسلامی تاریخ کا ایک گم شدہ باب
Al-Risala, November 2010, pp. 8–13
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے : إِنَّ الاسلام بدأ غریباً وسیعود غریباً كما بدأ فطوبى للغرباء (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان أن الاسلام بدأ غریباً) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی (stranger) تھا۔ وہ دوبارہ اجنبی ہو جائے گا، جیسا کہ وہ پہلے تھا، تو اجنبیوں کو مبارک ہو۔
بعد کے زمانے میں اسلام کے اجنبی ہونے کی یہ پیشین گوئی مسلمانوں کی نسبت سے ہے، یعنی اسلام خود مسلمانوں کے درمیان اجنبی ہو جائے گا۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد نفسِ اسلام نہیں ہے، بلکہ اسلام کا کوئی بنیادی جز ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ بنیادی جز کیا ہے۔ غور کیجیے تو بعد کی مسلم نسلوں میں ہمیشہ اسلام بظاہر موجود رہا ہے اور آج بھی وہ موجود ہے۔ دیکھتے ہیں کہ بعد کی مسلم نسلوں میں اور آج کی مسلم نسلوں میں بھی تمام اسلامی مظاہر موجود ہیں۔ کے درمیان کلمہ ایمان موجود ہے، نماز اور روزہ موجود ہے، زکوۃ اور عمرہ اور حج موجود ہے، قرآن کی تلاوت موجود ہے، دینی تعلیم کے ادارے موجود ہیں، مسجدیں اور مدرسے موجود ہیں، اسلام کے نام پر جہاد موجود ہے، ذکر واذکار کی محفلیں موجود ہیں، دین کے نام پر نقل و حرکت موجود ہے، ہزاروں کی تعداد میں اسلام کے نام پر بننے والی تنظیمیں بھی موجود ہیں، مسلمانوں کے اپنے دعوے کے مطابق، اسلامی سیاست اور اسلامی حکومت بھی موجود ہے، ساری دنیا میں بڑی بڑی شخصیتیں بھی موجود ہیں جن کی شناخت اسلام کے حوالے سے ہوتی ہے، اسلام کے نام پر جان و مال کی قربانی دینے والے بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ایسے افراد بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کو خود مسلمانوں نے اس قسم کے ٹائٹل دے رکھے ہیں۔ مفکر اسلام، مجاہدِ اسلام، قائدِ اسلام، حکیم الاسلام، سیف الاسلام، حجۃ الاسلام، مجدد اسلام، شیر اسلام، وغیرہ۔
لیکن غور کیجیے تو اسلام کی صرف ایک بنیادی تعلیم ایسی ہے جو مسلمانوں کے درمیان موجود
نہیں، یہ دعوت الی اللہ ہے۔ دعوت الی اللہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن تھا۔ اصحاب رسول نے اپنی ساری توانا ئی اسی ایک مشن پر خرچ کی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا کنسرن (sole concern) دعوت تھا۔ اس کا ایک اظہار قرآن کی اس آیت سے ہوتا ہے: لعلك باخع نفسك أن لا يكونوا مؤمنين (26:3) یعنی اے رسول، شاید تم اپنے آپ کو اس لیے ہلاک کردالوگے کہ لوگ (تمھاری غیرمعمولی دعوتی محنت کے باوجود) ایمان نہیں لا رہے ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں صحابہ کی تربیت کس طرح کی تھی اور اس کے نتیجے میں ان کے اندر کیسا مزاج بنا تھا، اس کا اندازہ ایک روایت سے ہوتا ہے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے حضرت علی بن ابی طالب کو ایک مہم پر روانہ کیا۔ روانگی کے وقت آپ نے اُن کو جو نصیحت کی، ایک روایت کے مطابق، اُس کے الفاظ یہ تھے: یا علی، لأن يهدى الله على يديك رجلاً ، خير لك مما طلعت عليه الشمس (المستدرك علی الصحيحن للحاكم، (3/690) یعنی اے علی یاد رکھو، اگر اللہ تمھارے ذریعے سے ایک انسان کو ہدایت دے دے تو وہ تمھارے لیے اُن تمام چیزوں سے بہتر ہے جن کے اوپر سورج طلوع ہوتا ہے، یعنی تمام دنیا وما فیہا سے زیادہ بہتر۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی انداز میں اپنے اصحاب کو تربیت دی تھی۔ آپ ہر موقع پر اُنھیں دعوت الی اللہ کی اہمیت بتاتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پرامن دعوت، اصحاب رسول کا سب سے بڑا کنسرن بن گیا۔ ان کے لیے دعوت کے سوا، دوسری تمام چیزیں اضافی (relative) بن گئیں ۔ دعوت ہی ایک ایسا کام تھا جو اُن کے لیے حقیقی کام کی حیثیت رکھتا تھا۔
رسول اور اصحاب رسول اور تابعین کے دور کو اسلام کی تاریخ میں قرون مشہود لہا بالخیر کہا جاتا اس ابتدائی زمانے میں تمام صحابہ کا واحد نشانہ عمل یہی تھا۔ نبوت کا آغاز 610 عیسوی میں اس کے بعد مسلسل دعوتی کوشش کے نتیجے میں 20 سال کے عرصے میں عرب کے تقریباً تمام
لوگ اپنے سابقہ مذاہب کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگئے۔ جب عرب میں دعوت کا کام مکمل ہوگیا تو حجتہ الوداع (10 ہجری) کے بعد اصحاب رسول عرب سے نکل کر آس پاس کے ملکوں میں پھیل گئے اور اپنی دعوتی ذمہ داریوں کو بیرونی علاقوں میں انجام دینے لگے، دعوت کا یہ کام کم و بیش بنو امیہ کے دور اقتدار (750- 661) تک جاری رہا۔
750 عیسوی سے تاریخ بدلتی ہے۔ اسی سال بنو عباس نے ایرانیوں کی مدد سے اپنی سلطنت عباسی دور ہی وہ دور ہے جب کہ مسلمانوں کے اندر سے دعوتی شعور کا خاتمہ ہوگیا۔ میں مختلف قسم کی غیر معمولی ترقیاں ہوئیں، لیکن جہاں تک دعوتی عمل کا تعلق ہے، وہ اس دور میں تقریباً مفقود ہو گیا۔ اسلام کی اپنی فطری کشش کی بنا پر اگرچہ ہر زمانے میں لوگ اسلام قبول کرتے رہے، لیکن ایک باقاعدہ شعور کی حیثیت سے دعوت کا وجود باقی نہ رہا۔
عباسی دور ہی میں اسلام کے مختلف موضوعات پر وہ تمام کتابیں لکھی گئیں جن کو اسلام کا کلاسیکل لٹریچر سمجھا جاتا ہے، مگر ان تمام کتابوں میں واحد باب جو حذف ہوگیا، وہ دعوت کا باب تھا۔ میں اسلام کے تقریباً تمام ممکن موضوعات پر بحث موجود ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر اُن میں دعوت کا باب ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ان مصنفین نے دعوت کے کام کو عملاً منسوخ قرار دے دیا ہو۔ عباسی دور میں جو پیٹرن (pattern) قائم ہوا، وہی پیٹرن دنیا کے تمام مسلمانوں کے اندر گویا کہ واحد مستند پیٹرن بن گیا۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کی صدیوں میں کثیر تعداد میں قرآن کی تفسیریں لکھی گئیں، مگر ان تفسیروں میں سے کوئی تفسیر دعوتی اسلوب پر نہیں لکھی گئی۔ کی تدوین ہوئی تو ان میں ہر قسم کے ابواب قائم ہوئے، لیکن دعوت کا باب حدیث کی کتابوں میں یہی حال فقہ کا ہوا۔ فقہ کی کتابوں میں ہر قسم کے ابواب موجود ہیں، مگر دعوت و تبلیغ کا باب فقہ کی کسی کتاب میں نہیں پایا جاتا۔
اسی طرح سیرت کی کتابیں مغازی کے پیٹرن پر لکھی گئیں۔ اسلامی تاریخ پر لکھی جانے والی کتابیں اس انداز پر لکھی گئیں کہ وہ عملاً سیاسی اسلام کی تاریخ بن گئیں، حتی کہ مورخ ابن خلدون
(وفات: 1406ء) نے غیر سیاسی نہج پر تاریخ لکھنا چاہی، مگر وہ اس مقصد میں کامیاب کیوں کہ اس کے زمانے میں ایسی کتاب لکھنے کے لیے ضروری تاریخی مواد (data) ہی موجود نہ تھا۔ اسی طرح بعد کے زمانے میں اسلام کی تشریح پر جو مشہور کتا بیں لکھی گئیں، وہ بھی عملاً دعوت کے ابواب سے خالی ہیں۔ مثلاً الغزالی کی احیاء علوم الدین، ابن قیم کی اعلام الموقعین، شاہ ولی اللہ دہلوی کی حجتہ البالغہ اور اس قسم کی دوسری کتابیں جو عربی یا کسی اور زبان میں لکھی گئیں، وہ سب اس دعوتی تصور (concept) کے فقدان کی کھلی ہوئی مثالیں ہیں۔ آٹھویں صدی عیسوی سے لے کر اٹھارھویں صدی عیسوی تک یہی صورتِ حال باقی رہی۔ اس کے بعد انیسویں صدی میں مغربی قو میں نئی طاقتوں کے ساتھ اٹھیں۔ انھوں نے مسلمانوں کے سیاسی دبدبے کا خاتمہ کر دیا۔ دھیرے دھیرے مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر ختم ہو گیا، البتہ چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستیں باقی رہیں جو اب بھی 57 مسلم ملکوں کی شکل میں موجود ہیں۔
اس کے بعد مسلم سیاست کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ یہ دور زیادہ واضح طور پر سید جمال الدین افغانی کے زمانے میں انیسویں صدی عیسوی میں شروع ہوا اور بیسویں صدی کے آخر تک جاری اس زمانے میں مسلمانوں کی کوشش یہ تھی کہ وہ دوبارہ مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم کریں ۔ کام مفروضہ سیاسی غاصبین کے خلاف جہاد بالسيف کی صورت میں شروع ہوا، مگر وہ اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ اس ناکامی کے دو بڑے علامتی واقعات ہیں — فلسطین میں عربوں کے مسلح جہاد کی مکمل ناکامی، اسی طرح کشمیر میں مسلح جہاد کی مکمل ناکامی۔ مسلح جہاد کی اس ناکامی کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمان پورے معاملے کا از سرِ نو جائزہ لیتے۔ اپنی کمی کو دریافت کرتے اور نئی بنیادوں پر اپنی جدوجہد کی منصوبہ بندی کرتے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ مسلمانوں کے مفکرین نے اس کے بجائے یہ کیا کہ انھوں نے اسلام کی پورے معنوں میں سیاسی تعبیر کر ڈالی۔ اس سے پہلے مسلمانوں کا مسلح جہاد صرف عملی معنوں میں ایک سیاسی جہاد کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن اسلام کی سیاسی تعبیر کے بعد وہ مسلمانوں کے لیے عقیدہ کا ایک مسئلہ بن گیا، یعنی ہر
حال میں انھیں سیاسی لڑائی لڑنا ہے، خواہ اس کا نتیجہ یک طرفہ تباہی کے سوا کچھ اور نہ ہو۔ اسلام کی سیاسی تعبیر ایک خطرناک قسم کے غلو (extremism) کی حیثیت رکھتی تھی۔ انتہا پسندانہ تعبیر ہے جس کے بطن سے وہ ظاہر ہ برآمد ہوا ہے جس کو آج کل خودکش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے، یعنی جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاک کر کے دشمن کو کچھ نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا۔ اسلام کی سیاسی تعبیر نے پہلے یہ کیا کہ مسلمانوں کے لیے دوسری اقوام کو اُن کا حریف بنا دیا۔ اس کے بعد مسلمان دوسری قوموں سے نفرت کرنے لگے، وہ متشددانہ کارروائی کے ذریعے دشمن کو مغلوب کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ان کی تقریر و تحریر، ان کی انتخابی کارروائیاں (electoral activities)، اُن کے مسلح حملے اپنے مفروضہ دشمن پر انھیں کامیابی نہیں دے رہے ہیں تو وہ مایوسی کی آخری حد تک پہنچ کر خودکش بمباری کرنے لگے۔
عباسی دور میں جب دعوت کا تصور پس پشت چلا گیا اور مسلمانوں میں سیاسی توسیع کا ذہن پیدا ہو گیا تو یہ اسلامی تاریخ میں گویا کہ پہلا انحراف (derailment) تھا۔ اس کے بعد جب بیسویں صدی عیسوی میں اسلام کی سیاسی تعبیر کی گئی تو یہ کامل طور پر دعوتی ذہن کے خاتمہ کے ہم معنی تھا۔ صدی میں اسلام کی جو سیاسی تعبیر کی گئی، اس کے دو خاص چیمپئن تھے ــــ عرب دنیا میں سید قطب مصری، اور برصغیر ہند میں سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ اس کے علاوہ، ثانوی درجے میں اس سیاسی تعبیر کے کچھ اور موجدین ہیں۔ مثلاً آیت اللہ خمینی، اسامہ بن لادن، وغیرہ۔
کسی شخص کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی انسان کی نیت پر حملہ کرے یا فتوٰی کی زبان میں اس کے عند اللہ مقبول یا غیر مقبول ہونے کا اعلان کرے۔ لیکن عملی نتیجہ کے اعتبار سے، یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ موجودہ زمانے میں اسلام کی سیاسی تعبیر دجالی فتنے سے کم نہیں۔ اس عظیم فتنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ غیر اسلام کو اسلام کے نام پر کیا جانے لگاــــ داعی کے لیے اس کا مدعو نفرت کا موضوع بن گیا، تشدد کو ایک مقدس عمل کا درجہ حاصل ہو گیا، خودکش بم باری مسلم انتہا پسندوں کے لیے جنت میں فی الفور داخلے
کا ذریعہ قرار پائی، خدا پرستی اسلام عملاً سیاست رخی اسلام بن گیا، کمیونسٹ اخلاقیات کو اسلامائز کر کے اس کو اسلام میں داخل کر لیا گیا، لوگوں کی جنت کے حریص بننے والے، لوگوں کی ہلاکت کے حریص بن گئے، نفرت اور تشدد کے پروپیگنڈے کا یہ نتیجہ ہوا کہ دعوت کے اعلیٰ مواقع کو استعمال کرنا ممکن نہ رہا، مسلمانوں کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) مکمل طور پر ختم ہو گئی، وغیرہ۔ مذکورہ جائزہ بتاتا ہے کہ اسلام کی بعد کی تاریخ میں جو چیز اجنبی بن گئی، وہ اسلام کا دعوتی پہلو اکیسویں صدی میں یہ صورتِ حال اپنے نقطہ انتہا پر پہنچ چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ اسلام کے اس اجنبی پہلو کو دوبارہ زندہ کیا جائے ۔ اہل اسلام کو دوبارہ تیار کیا جائے کہ وہ دعوت کے نشانہ کو اپنا وہ دوبارہ اُس دعوتی عمل کو زندہ کریں جو دنیا کی تمام قیمتی چیزوں میں سب سے زیادہ قیمتی عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی لوگ اُس اعلیٰ خدائی مبارک باد کے مستحق قرار پائیں گے جس کا ذکر مذکورہ حدیث رسول میں کیا گیا ہے۔