استدلال اور بناء استدلال
Al-Risala, November 2010, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر آپ کے بینک اکاؤنٹ میں صرف دس ہزار روپے موجود ہیں اور آپ پچاس ہزار روپے کا چیک لکھ کر کسی کو دے دیں تو ایسا چیک ڈڈ چیک (dud cheque) کہا جائے گا، وہ بینک سے کیش نہ ہو سکے گا۔ کیوں کہ اس چیک کے برابر رقم آپ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود نہیں۔ یہی معاملہ استدلال کا ہے۔ جب آپ اپنے کسی دعوے پر استدلال قائم کرنا چاہیں تو ضروری ہے کہ اُس کے حق میں ایک تسلیم شدہ بناء استدلال پیشگی طور پر موجود ہو۔ جس استدلال کی پشت پر اس قسم کی مسلّمۂ استدلالی بنیاد موجود نہ ہو، وہ استدلال ایک غیر معقول استدلال (invalid argument) قرار پائے گا، وہ علمی اعتبار سے قابل قبول نہ ہوگا۔ حقیقت کو علماء نے ’’ بناء فاسد علی الفاسد‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال لیجئے۔ کچھ لوگ جو فلسفیانہ طرزِ فکر سے متاثر تھے، انھوں نے یہ کہہ دیا کہ جنت اور جہنم احوال ہیں، مقامات نہیں۔