قیامت قریب آچکی
Al-Risala, February 2010, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت اسماء بنت یزید کی سند سے حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ یہ ایک لمبی اس کا پورا متن مشکوة المصابیح کی حدیث نمبر 5491 کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ روایت میں اُن نشانیوں کی پیشین گوئی کی گئی ہے جو قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی ہیں۔ اُن میں سے ایک نشانی کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ بین یدیه ثلاث سنين: تمسك السماء فيها ثلث قطرها، والأرض ثلث نباتها۔ والثانية: تمسك السماء ثلثي قطرها، والأرض ثلثي نباتها۔ والثالثة: تمسك السماء قطرها كله، والأرض نباتها كله۔ (المعجم الكبير للطبراني، رقم الحديث: 19926؛ مسند أحمد، رقم الحديث: 26298) یعنی قیامت سے پہلے دجال کے زمانے میں تین دور پیش آئیں گے۔ پہلا دور جب کہ آسمان ایک تہائی بارش کو روک دے گا، اور زمین اپنی ایک تہائی پیداوار کوروک دے گی۔ دور میں آسمان اپنی دو تہائی بارش کو روک دے گا، اور زمین اپنی دو تہائی پیداوار کو روک دے گی۔ تیسرے دور میں آسمان اپنی ساری بارش کو روک دے گا، اور زمین اپنی ساری پیداوار کوروک دے گی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں یہ پیغمبرانہ پیشین گوئی بالکل ظاہر ہوچکی ہے۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں پانی کے منجمد ذخیرے (گلیشیر وغیرہ) پگھل کر بہہ رہے ہیں اور دریاؤں کے راستے سمندر میں جا کر وہ دوبارہ ناقابل استعمال کھاری پانی بن رہے ہیں۔ صدی کے آخر تک تقریباً ایک تہائی پانی اس طرح بہہ چکا تھا۔ اب اکیسویں صدی میں دوسرا تہائی پانی تقریبا بہہ چکا ہے اور اب آئندہ اس کا تیسرا تہائی پانی بہہ کر ختم ہو جانے والا ہے۔ اس کے اثر سے نباتات اور حیوانات بھی بتدریج معدوم ہورہے ہیں۔ پیغمبرانہ پیشین گوئی کے مطابق، یہ گویا کہ قیامت کا فائنل الارم تقریباً یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اب قیامت بہت زیادہ قریب آچکی ہے۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ انسان جاگے اور اپنی اصلاح کرے، اس سے پہلے کہ توبہ کے تمام دروازے بند ہوجائیں۔