اسلام کا تصور انسانیت
Al-Risala, November 2010, pp. 25–29
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں ہوا۔ اس وقت ساری دنیا میں بادشاہت کا اس زمانے کی انسانیت حاکم اور رعایا، راجا اور پرجا میں بٹی ہوئی تھی۔ اسلام نے اعلان کیا کہ نہ کوئی حاکم ہے اور نہ کوئی محکوم، سارے انسان برابر ہیں۔ انسانوں کے درمیان اس قسم کی تقسیم غیر فطری اسی طرح سفید فام اور سیاہ فام دونوں یکساں طور پر انسان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انسانی زندگی میں اس قسم کا انقلاب اچانک نہیں آتا، وہ ایک تاریخی عمل (historical process) کے روپ میں آتا ہے۔ اسلام نے پہلی بار اس عمل کو تاریخ میں جاری کیا، پھر دھیرے دھیرے وہ اپنی تکمیل کو اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں دو تاریخی مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 632 عیسوی میں اپنے اصحاب کے ساتھ حج ادا کیا۔ وقت آپ عرب کے سیاسی قائد بن چکے تھے۔ آپ نے قائد کی حیثیت سے اعلان کیا کہ آج سے جاہلیت کے تمام رواج ختم کردئے گئے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر فضیلت نہیں، کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ اور پرہیزگاری کے۔
دوسرا واقعہ خلیفہ دوم حضرت عمر بن الخطاب کا ہے۔ حضرت عمر کی خلافت 634 سے 644 اُس وقت خلافت کا دائرہ ایشیا سے افریقہ تک پھیلا ہوا تھا۔ اُس زمانے میں مصر میں ایک اُس وقت مصر کے گورنر ایک عرب تھے جن کا نام عمرو بن العاص تھا۔ ایک معاملے میں گورنر کے بیٹے محمد بن عمر اور ایک مقامی باشندہ (قبطی) کے درمیان ایک مسئلہ پر نزاع پیدا ہوگئی۔ نزاع بڑھی تو گورنر کے بیٹے نے مصری کو کوڑے سے مار دیا اور کہا کہ: خُذھا، وأنا ابن الأكرمين (یہ لو، اور میں شریفوں کی اولاد ہوں)۔
اس واقعے کے بعد وہ قبطی مصر سے روانہ ہوکر مدینہ پہنچا اور خلیفہ عمر بن الخطاب سے اس
معاملے کی شکایت کی۔ خلیفہ دوم حضرت عمر نے اپنے ایک خاص آدمی کو مصر بھیج کر گورنر اور ان کے بیٹے دونوں کو مدینہ بلوایا۔ جب وہ دونوں مدینہ آگئے تو معاملے کی تحقیق کے بعد حضرت عمر نے مذکورہ قبطی کے ہاتھ میں ایک کوڑا دیا اور کہا کہ جس نے تم کو مارا ہے، تم بھی اس کو مارو۔ چناں چہ اس نے محمد بن عمرو کو مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ اس نے انھیں زخمی کر دیا—ان واقعات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح اسلام نے انسانی برابری کے تصور کو عملاً تاریخ میں رائج کیا۔
قرآن کی سورہ النساء میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ —اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔
یہ ایک تاریخی اعلان تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسانوں کے درمیان امتیاز کی تمام صورتیں مصنوعی اور غیر فطری ہیں ۔ جب تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہوں تو ایک اور دوسرے کے درمیان امتیاز کا کوئی جواز نہیں۔ اسی بات کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الخلق عيال الله (البيهقي، رقم الحديث: 6947) یعنی تمام انسان ایک خدا کی فیملی ہیں۔ اس حقیقت کی تصدیق موجودہ زمانے میں سائنس کے ذریعے ہو چکی ہے۔ میں خالص سائنسی ریسرچ کے ذریعے یہ ثابت ہوا ہے کہ تمام انسان ایک ہی جد اعلیٰ کی نسل سے تعلق گویا کہ تمام انسان ایک ہی خونی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ تمام عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے بلڈ بردرنس (blood brothers) اور بلڈ سسٹرس (blood sisters) کی حیثیت رکھتے ہیں (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب ”تعمیر انسانیت، صفحہ 145) اسلامی شریعت میں حقوق العباد یا ایک انسان کے اوپر دوسرے انسان کے فرائض کے سلسلے میں تفصیلی احکام دئے گئے ہیں۔ اسلام کے مطابق، جس طرح انسان کے اوپر اس کے خالق کا حق ہے، اُسی طرح ایک انسان کے اوپر دوسرے انسان کا بھی حق ہے۔ جو انسان خدا کی عبادت کرے، لیکن وہ انسانوں کے حقوق ادا نہ کرے، اس کی عبادت قبول نہ ہوگی۔ اسلام میں سچے مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ
دوسرے انسانوں کی نسبت سے اپنی ذمے داریوں کو ادا کرنے والا ہو۔ اس معاملے میں، اسلام کے احکام اتنے زیادہ سخت ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ— خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں، خدا کی قسم شخص مومن نہیں، خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں جس کے شر سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچا مسلم وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ سے لوگ محفوظ ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی مسلمان اپنے سماج کا ایک پرامن ممبر ہوتا ہے۔ وہ اپنے سماج میں ایک بے مسئلہ انسان (no-problem person) کی حیثیت سے زندگی گزارتا وہ اپنے سماج میں ایک دینے والے (giver) انسان کی حیثیت سے زندگی گزارتا ہے، نہ کہ صرف لینے والے (taker) انسان کی حیثیت سے۔
اسلام میں جان کا احترام اتنا زیادہ ہے کہ کسی انسان کے ناحق قتل کو سب سے بڑا جرم قرار دیا قرآن کی سورہ المائدہ میں ارشاد ہوا ہے کہ— جو شخص کسی انسان کو قتل کرے، بغیر اس کے اس نے کسی انسان کو قتل کیا ہو، یا اس نے زمین میں فساد برپا کیا ہو، تو گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس شخص نے ایک شخص کو بچا لیا تو گویا اس نے سارے انسانوں کو بچا لیا (32:5)۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک ایسا سماج بنانا چاہتا ہے جس میں ہر انسان دوسرے انسان کے لیے آخری حد تک بے ضرر (harmless) بنا ہوا ہو، جس میں ہر انسان دوسرے انسان کے خون کو اتنا ہی محترم سمجھے، جتنا کہ وہ خود اپنے خون کو محترم سمجھتا ہے۔ اسلام ایسا سماج بنانا چاہتا ہے جس میں ہر انسان دوسرے انسان کو اسی طرح زندہ رہنے کا حق دے جس طرح وہ خود اپنے لیے زندہ رہنے کا حق سمجھتا ہے۔ اسلام کے مطابق، سچا انسانی سماج وہ ہے جس میں ہر عورت اور مرد کو یکساں طور پر جینے کا حق حاصل ہو۔
اسلام کے مطابق، انسانی سماج کی تعمیر کے دو بنیادی اصول ہیں— توحید، اور عدل۔ دونوں اصول انسانی سماج کے لیے دو بنیادی رکن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس سماج میں یہ دو بنیادی اصول پائے جائیں، وہ سماج اعلیٰ انسانی سماج ہوگا، اور جس سماج میں یہ دو بنیادی اصول نہ پائے
جائیں، وہ سماج ایک قسم کا حیوانی سماج ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی انسانی سماج۔ توحید (oneness of God) کا مطلب ہے— خدا کو ایک ماننا۔ یہ ماننا کہ ایک ہی خدا ہے، اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں۔ یہی خدا تمام موجودات کا خالق ہے، یہی خدا تمام کائنات کا انتظام کر رہا ہے۔ خدا کے سوا جو کچھ ہے، وہ سب اسی خدا کی مخلوق ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو فرد اور سماج دونوں کو زندگی گزارنے کی درست نظریاتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ خدا کا تصور انسانی سماج کی صحیح شیرازہ بندی کرتا ہے، خدا کا تصور نہ ہو تو انسانی سماج جنگل کا سماج بن جائے۔
اس سلسلے میں دوسری چیز وہ ہے جس کو عدل (justice) کہا جاتا ہے۔ قرآن کی سورہ الرحمن میں ارشاد ہوا ہے کہ— انصاف کے ساتھ سیدھی ترازو تولوا اور تول میں نہ گھٹاؤ (9:55)۔ اس آیت میں انسانی زندگی کو عدل و انصاف پر قائم کرنے کے لیے ترازو کی مثال دی گئی ہے۔ ہمیشہ ٹھیک ٹھیک تولتا ہے۔ وہ تول میں نہ کمی کرتا ہے اور نہ زیادتی۔ ترازو اور انصاف کی مادی تمثیل یہی عادلانہ روش انسان سے مطلوب ہے۔
ہر انسان کو چاہیے کہ وہ دوسرے انسان کو اس کا پورا حق ادا کرے۔ اس منصفانہ روش کا تعلق جس طرح مال اور جائداد جیسی چیزوں سے ہے، اسی طرح اس کا تعلق اخلاقی معاملات سے بھی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے لیے وہی چاہے جو وہ خود اپنے لیے چاہتا ہے، وہ دوسروں کے بارے میں کوئی بیان دے تو اس کا بیان ٹھیک ٹھیک اصل واقعہ سے مطابقت رکھتا ہو، وہ دوسروں کے بارے میں جب کوئی رائے قائم کرے تو اس میں وہ نہ کوئی کمی کرے اور نہ کوئی زیادتی، وہ دوسروں کے بارے میں جب کوئی رپورٹ دے تو اس کی رپورٹ یک طرفہ نہ ہو، بلکہ اس میں دونوں فریق کی پوزیشن کو ٹھیک ویسا ہی بیان کیا گیا ہو، جیسا کہ وہ حقیقت ہے— عدل و انصاف پر مبنی یہی وہ سماج ہے جس کو اسلامی سماج کہا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں ایک سوال یہ ہے کہ انسانی سماج کی تشکیل پر امن بنیادوں پر کس طرح کی جائے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں کے درمیان مختلف قسم کے فرق (differences)
پائے جاتے ہیں — مذہب کا فرق، کلچر کا فرق، رواج کا فرق، انٹرسٹ کا فرق، وغیرہ۔ بتاتا ہے کہ اس فرق کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ یہ تمام فرق اتفاق کی بنیاد پر نہیں ہیں، بلکہ وہ فطرت کی بنیاد پر ہیں۔ اس لیے ان کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اس کے حل کے لیے اسلام میں ایک سادہ طریقہ بتایا گیا ہے، اور وہ ہے: لکم دینکم، ولی دین (109:6) یعنی تمھارے لیے تمھارا طریقہ، میرے لیے میرا طریقہ۔ اس اصول کی بنیاد پر اگر ایک فارمولا بنایا جائے تو وہ یہ ہوگا — ایک کی پیروی کرو اور سب کی عزت کرو: