Al-Risala · November 2010

مرنے والوں کا تذکرہ

Al-Risala, November 2010, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک عام رواج ہے کہ جب کوئی شخص مرتا ہے تو اس کے بارے میں رسائل و جرائد میں مضامین شائع کیے جاتے ہیں، اس کی یاد میں تعریفی مضامین چھپتے ہیں، اس کی یاد میں شان دار جلسے کئے ان سب میں یہ ہوتا ہے کہ مرنے والے کے کارنامے اور اس کی عظمتیں بیان کی جاتی یہ طریقہ سخت مغالطہ انگیزی (misleading) کا ذریعہ ہے۔

کسی کی موت پر جو اصل واقعہ آتا ہے، وہ یہ ہے کہ مرنے والا اپنی عظمت کے تمام نشانات کو اچانک چھوڑ دیتا ہے۔ موت اس کو ایک ایسی دنیا میں پہنچادیتی ہے جہاں وہ بالکل تنہا اور بے سرو سامان ہوتا ہے۔ حال (present) کے لحاظ سے مرنے والے کا اصل پہلو یہی ہوتا ہے۔ تمام لکھنے اور بولنے والے، مرنے والے کے حال کا کوئی تذکرہ نہیں کرتے، وہ صرف اس کے ماضی (past) کو لے کر اس کی دنیوی بڑائیاں بیان کرتے ہیں، حالاں کہ مرنے والا عملاً اپنے اس ماضی سے مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہوتا ہے۔

موت کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ کسی انسان کے لیے انقطاع کُلّی (total detachment) کے ہم معنی ہوتی ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنی زندگی کے پہلے موقع (first chance) کو کھودیا، اور جہاں تک دوسرے موقع (second chance) کا سوال ہے، وہ کبھی کسی کو ملنے والا ہر مرنے والا دراصل زندگی کے اس سنگین پہلو کو یاد دلاتا ہے۔ لیکن یہی وہ پہلو ہے جس کا تذکرہ نہ تحریروں میں کیا جاتا ہے اور نہ تقریروں میں۔

مرنے والے کے فضائل و کمال کو پڑھ کر یا سن کر بظاہر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ وہ آج بھی انھیں فضائل کا حامل ہے، حالاں کہ ایسا ہر گز نہیں۔ مقررین اور محررین جس انسان کے بارے میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ ایک تاریخ ساز انسان تھا، عین ممکن ہے کہ اس وقت خود مرنے والے کا حال یہ ہو کہ وہ ایک بے تاریخ انسان بن کر حسرت و بے بسی کے عالم میں پڑا ہو۔

Printed page