Al-Risala · November 2010

حقوق اللہ، حقوق العباد

Al-Risala, November 2010, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

حقوق اللہ اور حقوق العباد کو اگر نفسیات کی اصطلاح میں بیان کریں، تو اس کو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ دونوں کی نفسیاتی حقیقت ایک ہے، اور وہ ہے دوسرے کو اس کا واقعی درجہ دینا۔ نسبت سے اس عمل کا نام شکر (gratefulness) ہے، اور انسان کی نسبت سے اس عمل کا نام اعتراف جس انسان کے اندر یہ دونوں خصوصیات (qualities) پائی جائیں، وہی انسان مکمل انسان ہے۔ اور جس انسان کے اندر یہ دونوں خصوصیات کم پائی جائیں، وہ ایک نامکمل انسان ہے۔ اور جس انسان کے اندر یہ خصوصیات سرے سے موجود نہ ہوں، وہ انسان نہیں ہے، بلکہ وہ غیر انسان ہے، خواہ اپنے ظاہر کے اعتبار سے وہ کتنا ہی اچھا انسان دکھائی دیتا ہو۔ خدا اور انسان کا تعلق یہ ہے کہ خدا خالق ہے اور انسان مخلوق، خدا دینے والا ہے اور انسان پانے والا، خدا مالک ہے اور انسان اس کا ماتحت۔ جو انسان ان پہلوؤں کو شعوری طور پر دریافت کرے اور اس دریافت کے مطابق، اپنی زندگی گزارے، وہ حقوق اللہ کے معیار پر پورا اترا۔ یہی وہ انسان ہے جس کو خدا اپنے مزید انعامات سے نوازے گا۔

انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک اجتماعی حیوان (social animal) ہے۔ انسان پیدا ہوتے ہی دوسرے انسانوں سے جڑ جاتا ہے۔ ان تعلقات کے دوران اس کے اوپر دوسروں کی نسبت سے، مختلف قسم کی ذمے داریاں عائد ہو جاتی ہیں۔ جو انسان ان ذمے داریوں کو حقیقی طور پر پہچانے اور عملی طور پر ان کا اعتراف کرے، وہ حقوق العباد کے معیار پر پورا اترا۔ انسان ہے جس کو جنت کے معیاری معاشرے میں رہنے کا موقع دیا جائے گا۔

حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کے معاملے میں اصل چیز شعوری ادراک اور قلبی یہی وہ صفت (quality) ہے جو خارجی زندگی میں ظاہر ہوتی ہے تو اس کو شریعت کی زبان میں عمل صالح کہا جاتا ہے۔

Printed page