عقیدے کی طاقت
Al-Risala, November 2010, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا پر عقیدہ انسان کو اس دنیا میں سب سے بڑا سہارا دیتا ہے۔ خدا پر عقیدہ ، اعتماد (conviction) کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ایک فارسی شاعر نے بجاطور پر کہا ہے: دشمن اگر قوی است، نگہباں قوی تراست۔
یعنی مسئلہ اگر بڑا ہے تو مسئلے کو حل کرنے والا اُس سے بھی زیادہ بڑا ہے: If the problem is strong, the problem solver is stronger. موجودہ دنیا مسائل کی دنیا ہے۔ یہاں ہر عورت اور مرد کو بار بار مسائل پیش آتے ہیں۔ ایسی صورت حال پیش آتی ہے جہاں آدمی اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتا ہے۔ سفر حیات کے درمیان بار بار آدمی کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آگے کا راستہ بند ہے۔ بار بار انسان اس منفی احساس سے دوچار ہوتا ہے کہ اس کے وسائل و ذرائع کی آخری حد آگئی، خود اپنے بل پر اس کے لیے اب اپنے مسئلے کو حل کرنا ممکن نہیں رہا، وغیرہ۔
جس آدمی کا خدا پر عقیدہ نہ ہو، وہ ایسے موقع پر مایوسی (despair) کا شکار ہو جاتا ہے۔ دل برداشتہ ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اب اس کے اندر آگے بڑھنے کی ہمت نہیں۔ ایسی حالت میں پہنچ کر آدمی ٹینشن (tension) میں جینے لگتا ہے، اور ٹینشن اپنے آپ میں ساری بیماریوں کی جڑ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹینشن سے زیادہ بڑا کوئی مسئلہ انسان کے لیے نہیں۔ لیکن جس آدمی کو خدا کے اوپر سچا یقین (conviction) ہو، وہ کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ کو ہر صورت حال میں یہ یقین رہتا ہے کہ اس کا خدا ضرور اس کی مدد کرے گا۔ ایسا آدمی کامل یقین (conviction) کے ساتھ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا خدا ضرور اس کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچا لے گا ، اس کا خدا اُس وقت بھی ضرور اس کا ساتھ دے گا جب کہ دوسرے لوگ اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں ۔