Al-Risala · November 2010

دریافت، دریافت، دریافت

Al-Risala, November 2010, pp. 38–43

By Maulana Wahiduddin Khan

جاپان کی ایک مثل ہے کہ ــــ ہر دن کوئی نئی بات دریافت (discover) کرو، خواہ سوئی میں دھاگا ڈالنے کا نیا طریقہ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ مثل مادی دریافتوں کے بارے میں ہے۔ یہی اصول زیادہ بڑے پیمانے پر معرفت (realization) اور روحانیت (spirituality) کے معاملے پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ روحانیت اور معرفت کوئی جامد چیز نہیں۔ درخت کی مانند ایک مسلسل ترقی پذیر چیز(growing entity) ہے۔

اصل یہ ہے کہ انسان کے دماغ میں لامحدود صلاحیت موجود ہے۔ انسانی دماغ کے باہر جو حقائق کی دنیا (universe of facts) ہے، وہ بھی لامحدود ہے۔

ایسی حالت میں جو آدمی اپنے ذہن کو مسلسل طور پر بیدار رکھے اور یکسوئی کے ساتھ غور وفکر کرتا رہے، وہ ہر دن بلکہ ہر لمحہ نئی حقیقتوں کو دریافت کرتا رہے گا۔ اس کے لیے دریافتوں کا خزانہ کبھی ختم نہ ہوگا۔

جس طرح مادی خوراک جسم کی غذا ہے، اُسی طرح روحانی دریافتیں معرفت کی غذا ہیں۔ مسلسل مادی خوراک جسم کی زندگی کی ضمانت ہے۔ اِس طرح مسلسل روحانی دریافتیں کسی انسان کے لیے معرفت اور روحانیت کی زندگی اور ارتقا کی ضمانت ہیں۔

یہ دریافت گویا کہ ایک فکری پراسس (intellectual process) ہے۔ اِس پراسس کو مسلسل طور پر جاری رکھنے کی شرطیں صرف دو ہیں ــــ غور وفکر کرنا، اور اپنے آپ کو ڈسٹرکشن سے بچانا۔ جس آدمی کے اندر یہ دو چیزیں پائی جائیں، وہ ضرور دریافتوں والا انسان بن جائے گا۔ کے بعد کوئی بھی چیز اس کو نئی نئی دریافتوں تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔ دریافت روح کی زندگی ہے، دریافت ذہن کے لیے ذریعہ ارتقا ہے۔ دریافت کسی انسان کو مکمل انسان بناتی ہے۔ دریافت کے بغیر کوئی انسان ایسا ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔

1 - ایک مرتبہ دہلی میں آپ کی مجلس میں میں نے یہ سوال کیا تھا کہ احادیث کے اخذ و ترک میں آپ کا کیا اصول ہے، تو آپ نے بتایا تھا کہ اس معاملے میں میرا وہی اصول ہے جو محدثین کا اصول موضوع روایات کے تعلق سے آپ نے یہ کہا تھا کہ اس باب میں میں علامہ ابن الجوزی کا مسلک رکھتا ہوں، یعنی سختی کے ساتھ موضوع احادیث کو ترک کرنا۔ میں نے مزید پوچھا تھا کہ کیا بطور استشہاد موضوع احادیث لی جاسکتی ہیں، تو آپ نے سختی کے ساتھ منع کیا تھا۔

یہاں پوچھنا یہ ہے کہ آپ نے جامعہ دارالسلام، عمر آباد کے حالیہ دورہ (جون 2010) میں ایک دن ’’معرفت الہیہ‘‘ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے اس جملہ سے بات شروع کی تھی: کنت كنزاً مخفيّاً فأحببت أن أعرف ۔ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگرچہ اس کی سند میں کلام ہے، مگر اس کی اصل قرآن میں موجود ہے: وما خلقت الجنّ والإنس إلا ليعبدون (51:56) أي ليعرفوني ۔ مجھے پہلے سے یہ علم تھا کہ یہ موضوع حدیث ہے، پھر میں نے آپ کی زبانی سنا تو دوبارہ اس کی تحقیق کی۔ تحقیق کے بعد جو بات میرے سامنے آئی ہے، اس کو یہاں میں بلاکم و کاست ذکر کردیتا ہوں :

كنت كنزاً لا أعرف فأحببت أن أعرف فخلقت خلقاً فعرفتهم بي فعرفوني۔

قال ابن تيميه: إنه ليس من كلام النبي صلى الله عليه وسلم، ولا يعرف له سند صحيح ولا ضعيف وتبعه الزركشي وشيخنا ابن حجر) قاله السخاوى في كتابه المقاصد الحسنة 1/174؛ سلسلة الأحاديث الضعيفة للألباني (1/156): حديث لا أصل له؛ تذكرة الموضوعات للفتنی (1/11)۔ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کی کوئی سند ہی نہیں ہے جس بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف ۔ اس لیے اس میدان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ موضوع حدیث ہے۔ اب یہ معلوم کرنا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اور بھی

قابلِ قبول سند ہے۔ اگر ہے تو معلوم کرائیے۔ ہو سکتا ہے آپ کثیر المطالعہ ہیں، کہیں آپ کی نظر سے یہ حدیث مقبول سند کے ساتھ گزری ہو۔ بڑی مہربانی ہوگی اگر معلوم کرادیں، یا اگر آپ کا مدعا سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو تو اس کی بھی وضاحت کردیں۔

2- دوسری بات یہ پوچھنی ہے کہ آپ نے اپنی تفسیر تذکیر القرآن، سورہ اعراف آیت نمبر 166 میں یہود کے متعلق یہ لکھا ہے کہ ’’اللہ نے ان کو بندر بنادیا‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی صورت بندروں کی صورت ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا اخلاق بندروں جیسا ہوگیا، ان کا دل اور ان کی سوچ انسانوں کے بجائے بندر جیسی ہوگئی (تذکیر القرآن، صفحہ 417)۔ یہاں پر یہ پوچھنا ہے کہ یہ لوگ حیلہ جوئی کرکے حرام چیز کو حلال کرنے میں لگے ہوئے تھے اور حیلہ جوئی یا حرام چیز کو حلال کرنا کوئی انسانیت کا کام نہیں۔ ایسی گری ہوئی حرکت وہی انجام دیتے ہیں جن کا ضمیر مر چکا ہو، جو بے حس ہوچکے ہوں اور یہ چیز خود بد اخلاقی کے دائرے میں آتی ہے۔ پھر ان کے اخلاق کا خراب ہو جانا کیا مطلب رکھتا ہے۔ برائے مہربانی اس کی وضاحت فرمائیں۔

آپ اکثر یہ ذکر کرتے رہتے ہیں کہ تقریر ہو یا تحریر یا کوئی بھی بحث، ہمارا انداز ’’علمی‘‘ نہیں ہوا کرتا ہے۔ ’’علمی انداز‘‘ کیا چیز ہے۔ گزارش ہے کہ وہ ’’علمی انداز‘‘ کیا ہے، اس کی وضاحت فرمائیں، تاکہ ہم اس بنیاد پر اپنی تقریر و تحریر اور بحث و گفتگو کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اچھے سے اچھا بدلہ عطا فرمائے۔ (ف رہاد احمد سلفی، عمر آباد، تمل ناڈو)

1- ’’کنْـتُ کـنـزاً مخفیًا‘‘ کے مذکورہ قول کے متعلق میرا خیال ہے کہ اگرچہ بظاہر وہ حدیث قدسی کی زبان میں ہے، لیکن وہ سورہ الذاریات کی آیت 56 کی تشریح کے طور پر ہے اور آیت کی تشریح کی حیثیت سے وہ عبد اللہ بن عباس کی تفسیر کے مطابق ہے۔ میں ذاتی طور پر اس قول کو حدیث قدسی نہیں مانتا، البتہ اس کو میں ایک صحیح تشریحی قول مانتا ہوں۔ جن علماء نے اس قول پر نکیر کی ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اس کے اسلوب کو دیکھا جو حدیث قدسی کے انداز میں ہے۔

اسلوب کی بنا پر وہ یہ بحث کرنے لگے کہ اصولِ حدیث کے مطابق، وہ درست ہے یا نہیں۔ اگر یہ علماء اس کے اسلوب کو اضافی سمجھتے اور اس کو ایک شخص کے قول کی حیثیت سے لیتے تو غالباً اُن کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ اسلوب کا یہ طریقہ ایک معروف طریقہ ہے۔ چوں کہ قرآن کی آیت متکلم کے اسلوب میں ہے، اس لیے اس کی تشریح کرنے والے نے بھی اپنی تشریح کو متکلم کے اسلوب میں بیان یہاں اسلوب کی حیثیت اضافی (relative) ہے، نہ کہ حقیقی (real)۔ اگر اس تشریح کے اسلوب کو بدل دیا جائے اور اس کو قول کے اسلوب میں بیان کیا جائے تو وہ قول یہ ہوگا: كان الله كنزاً مخفيا، فأحبّ أن يُعرف فخلق الخلق۔

2- مسخ کے بارے میں جو بات تذکیر القرآن میں ہے، وہ میری انفرادی رائے نہیں ہے، بلکہ دوسرے علماء اور مفسرین نے بھی اس کی تشریح اس انداز میں کی ہے، جیسا کہ تذکیر القرآن میں اس کا حوالہ موجود ہے۔ آپ نے جو اشکال ظاہر کیا ہے، وہ ایک غیر ضروری اشکال اس کا سبب غالباً یہ ہے کہ آپ نے اس کو بالکل حتمی معنوں میں لے لیا۔ اس طرح کی چیزیں کبھی حتمی معنی میں نہیں ہوتیں ۔ مثال کے طور پر قرآن میں کچھ لوگوں کے بارے میں آیا ہے کہ : ”پھر اس کے بعد تمھارے دل سخت ہوگئے، پس وہ پتھر کی مانند سخت ہوگئے یا اُس سے بھی زیادہ سخت‘‘ (74 :2)۔ اِس آیت کو اگر خالص منطقی معنی میں لیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ جس آدمی کا دل پتھر کی مانند سخت ہو جائے تو اس کے بعد اس کے اندر خیر و شر کا احساس مٹ جائے گا، پھر اس کی پکڑ کس لیے۔ کسی بات کو اس طرح اس کی آخری منطقی حد (logical end) تک لے جا کر اس پر رائے قائم کرنا درست نہیں۔

3- ”علمی اسلوب‘‘ کا لفظ دراصل ”سائنٹفک اسلوب‘‘ کا ترجمہ ہے۔ جدید سائنس سے پہلے استدلال کا علمی معیار مقرر نہیں ہوا تھا، مگر موجودہ زمانے میں علمی استدلال کا ایک واضح معیار مقرر مثلاً آپ کا ایک بیان اگر ایک ثابت شدہ بنیاد پر قائم ہو تو وہ ایک علمی بیان ہوگا، ورنہ وہ علمی بیان نہ ہوگا۔ اس کی ایک معروف مثال یہ ہے کہ عباسی دور میں جب حدیثیں جمع کی گئیں تو معلوم ہوا

کہ طریقہ عبادت کے بارے میں صحابہ کے درمیان کچھ فرق یا کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوا کہ کس فرق کو لیا جائے اور کس فرق کو نہ لیا جائے۔ یہاں علماء فقہ نے ترجیح (preference) کا اصول وضع کیا۔ یعنی ایک طریقے کو راجح اور دوسرے طریقے کو غیر مرجوح قرار دینا۔ یہ ایک غیر علمی طریقہ تھا، کیوں کہ اس اصول کے حق میں ذاتی قیاس کے سوا کوئی ثابت شدہ بنیاد موجود نہ تھی۔ اس کے برعکس، حدیث میں آیا ہے کہ: أصحابي كالنجوم، فبأيهم اقتديتم اهتديتم (كشف الخفاء، جلد 1، صفحہ 146)۔ اس حدیث کی موجودگی میں صحیح طریقہ یہ تھا کہ تنوع یا توسع کا طریقہ اختیار کیا جاتا، یعنی ایک صحابی کا طریقہ اختیار کرو تو وہ بھی درست، اور دوسرے صحابی کا طریقہ اختیار کرو تو وہ بھی درست۔ حدیثِ رسول سے واضح طور پر توسع کا طریقہ ثابت ہورہا تھا، لیکن فقہاء نے بطورِ ترجیح کا طریقہ وضع کر لیا۔ توسع کا طریقہ علمی طریقہ ہے، کیوں کہ اس کے پیچھے ایک ثابت شدہ نقلی بنیاد موجود ہے۔ اس کے برعکس، ترجیح کا طریقہ غیر علمی طریقہ ہے، کیوں کہ اس کے پیچھے اس قسم کی کوئی ثابت شدہ علمی بنیاد موجود نہیں۔

علمی اسلوب کے معاملے کو اگر آپ زیادہ تفصیل کے ساتھ جاننا چاہتے ہیں تو زیادہ گہرائی اور سنجیدگی کے ساتھ راقم الحروف کی کتابیں پڑھیں۔ ان شاء اللہ یہ مسئلہ آپ پر واضح ہو جائے گا۔ میں برسہا برس سے ماہ نامہ ’’الرسالہ‘‘ خرید کر اپنی اولین فرصت میں اس کو پڑھتا ہوں۔ یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل الرسالہ میں شائع شدہ آپ کی ایک تحریر نے مجھے اُلجھن میں ڈال دیا ہے۔ آپ نے فرمایا تھا: ’’کسی مسئلہ کو حل نہ کرنا بھی ایک حل ہے۔ ‘‘ یہ کیا معمہ ہے۔ خاکسار اس کی وضاحت کے لیے درخواست گزار ہے۔ (ایم عبد الحکیم، حیدر آباد)

مذکورہ قول سے مراد وہی تدبیر ہے جس کو دوسرے الفاظ میں عملی حکمت (practical wisdom) کہا جاتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مسئلہ سامنے آتا ہے تو فوری طور پر اس کا حل بھی موجود رہتا ہے۔

مثلاً ایک بس چھوٹ جانے کے بعد دوسری بس سے اپنا سفر جاری رکھنا۔ اس طرح کے مواقع پر ضروری ہوتا ہے کہ مسئلے کا فوری طور پر ایک ممکن حل تلاش کیا جائے۔ لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور فوری طور پر اس کا حل موجود نہیں فوری طور پر کسی طریقے کو مسئلے کے حل کے نام پر اختیار کرنے میں شدید اندیشہ ہوتا ہے کہ ایک مسئلہ حل نہ ہو اور مزید بہت سے مسائل پیدا ہو جائیں۔ ایسی حالت میں دانش مندی یہ ہوتی ہے کہ مسئلے کو علی ہالہ چھوڑ دیا جائے اور ممکن دائرے میں اپنی کوشش جاری رکھی جائے۔ اس دوسرے طریقے کا فائدہ فوری طور پر نہیں نکلتا، لیکن مستقبل کے مثبت نتائج بتاتے ہیں کہ یہی طریقہ زیادہ درست تھا۔ گویا کہ مذکورہ اصول سے مراد تدریجی عمل (gradual process) ہے، نہ کہ سرے سے عمل نہ کرنا۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل پتے پر رابطہ کریں : The Spritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India) Tel.: 022-42214700, Fax: 28236323 Maulana Wahiduddin Khan Tuesday and Wednesday 10.30 pm Saturday and Sunday 6.00 am Question Answer Session by Maulana Wahiduddin Khan Daily 6.00 am, 11.30 am, 1.00 am (Zee Salaam is available on Dish TV channel no. 786)

Printed page