قرآن کی دو آیتیں
Al-Risala, February 2010, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
سورہ النسماء قرآن کی چوتھی سورہ ہے۔ اس سورہ کا ابتدائی حصہ غزوۂ احد کے فوراِ بعد پیش آنے والے حالات کی نسبت سے نازل ہوا۔ غزوۂ احد 6 شوال 3 ہجری کو مدینے کی سرحد پر پیش آیا تھا۔ غزوہ میں 70 مسلمان مارے گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں قدیم مدینہ کے معاشرے میں ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا، اور وہ تھا بیواؤں اور یتیموں کا مسئلہ۔ یتیموں کے باپ اپنے بعد مال اور جائیداد چھوڑ گئے اب سوال تھا کہ یہ مال اور جائیداد کس طرح یتیم بچوں کے درمیان منصفانہ طور پر تقسیم ہو۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہ خواتین جو اپنے شوہروں سے محروم ہوگئی ہیں، معاشرے میں اُن کا بندوبست (settlement) کس طرح کیا جائے ۔ سورہ النسماء کی آیت نمبر 2 میں، پہلے مسئلے کا حل بتایا گیا ہے۔ اس کی آیت نمبر 3 میں دوسرے مسئلے کا حل بیان ہوا ہے۔ آیت نمبر 2 کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور یتیموں کا مال اُن کے حوالے کرو۔ اور برے مال کو اچھے مال سے نہ بدلو، اور اُن کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے‘‘۔ یعنی یتیم بچوں کے مال اور جائیداد کے بارے میں انصاف اور خیر خواہی کا طریقہ اختیار کرو، تا کہ اُن کا حق درست طور پر ان کو پہنچ جائے۔ دوسرے مسئلے کے حل کے بارے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: ’’وإن خفتم ألا تُقسطوا فی الیتامیٰ فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ، وثلث، وربع (النساء: 3)۔ یعنی اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے، تو عورتوں میں سے حسب حال، دو دو، تین تین، چار چار عورتوں سے نکاح کر لو۔
اس آیت میں ’خفتم‘ کا خطاب قدیم مدینے کے سماج سے ہے، اور ’فانکحوا‘ کا خطاب قدیم مدینے کے افراد سے۔ غزوۂ احد کے بعد مدینے میں یتیموں کا جو مسئلہ پیدا ہوا تھا، ابتداً اس کا تعلق پورے سماج سے تھا۔ سماج کے مختلف گھروں میں یتیم لڑکے اور لڑکیاں موجود تھے۔ یہ مسئلہ پورے سماج پر پھیلا ہوا اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اس مسئلے کو افراد کے انٹレスト سے وابستہ کر دیا جائے۔ سماجی مسئلہ ہونے کی بناپر،
کوئی شخص اس کو اپنا ذاتی مسئلہ نہیں سمجھ سکتا تھا اور نہ فطری طور پر کسی کو اس سے ذاتی تعلق ہو سکتا تھا۔ صورتِ حال کی طرف قرآن میں ’خفتم‘ کے لفظ کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے، یعنی فطری طور پر یہ اندیشہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال کے رہتے ہوئے یہ مسئلہ لوگوں کے لیے انفرادی دلچسپی کا مسئلہ نہ بنے اور یتیم بچوں کو غیر ضروری مسائل کا سامنا کرناپڑے، جیسا کہ عام طور پر سماج میں دیکھا گیا ہے۔ اس مسئلے کا حل قرآن میں یہ بتایا گیا کہ مدینے کے مختلف افراد اپنے حالات کے لحاظ سے، بیوہ خواتین سے نکاح کر لیں۔ جس شخص کے لیے دو نکاح ممکن ہو، وہ دو نکاح کرلے، اور جس شخص کے لیے تین نکاح ممکن ہو، وہ تین نکاح کرلے، اور جس شخص کے لیے چار نکاح ممکن ہو، وہ چار نکاح کرلے۔ اس طرح یہ ہوگا کہ بیوہ خواتین کے بچوں کو دوبارہ باپ جیسی سرپرستی حاصل ہو جائے گی۔ کے شوہروں کو ان خواتین کی اولاد کے ساتھ ذاتی تعلق ہو جائے گا، وہ براہِ راست ان کی ذاتی نگرانی میں آجائیں گے۔ اس طرح یہ ہوگا کہ جو مسئلہ سماج کی سطح پر عمومی انداز میں پیدا ہوا ہے، وہ افراد کی سطح پر تقسیم ہوکر فطری انداز میں حل ہو جائے گا۔
سورہ النساء کی آیت نمبر 3 میں نکاح کا جو حکم بیان ہوا ہے، وہ کوئی عمومی حکم نہیں ہے، بلکہ وہ اُس ہنگامی صورتِ حال کی نسبت سے ہے جو کہ مدینہ میں جنگِ احد کے بعد پیدا ہوگئی تھی۔ عام حالات میں نکاح کی فطری صورت یہ ہے کہ ایک شخص ایک خاتون سے نکاح کرے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ خدا کا تخلیقی نظام عورت اور مرد کی تعداد میں ہمیشہ ایک توازن (equilibrium) قائم رکھتا ہے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، غیر محدود وتعدّدِ ازدواج عملاً ممکن ہی نہیں۔
تعددِ ازدواج (polygamy) کا حکم قرآن کی صرف اسی ایک آیت میں آیا ہے، جو کہ غزوۂ احد کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی نسبت سے اتری تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں کئی عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم لوگوں کو تفریح (entertainment) کا موقع دینے کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ صرف اِس صورتِ حال کے لیے ہے، جب کہ سماج میں کسی حادثے کی بنا پر عورتیں سرپلس (surplus) ہو جائیں۔ قرآن میں یہ حکم بیواؤں اور یتیم بچوں کے مسئلے کے فطری بندوبست کے لیے ہے، جیسا کہ آیت کے سیاق سے واضح ہے۔