He returns after Hajj like a newborn child.
Al-Risala, December 2010, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حدیث کو سمجھنے کے لیے ایک اور حدیث کو دیکھئے۔ ایک اور روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کو یہودی اور مجوسی اور نصرانی بنا دیتے ہیں (صحیح البخاری، کتاب الجنائز) ان دونوں حدیثوں پر غور کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ حج کی عبادت اگر صحیح اسپرٹ کے ساتھ کی جائے تو وہ حاجی کے لیے وہی چیز بن جاتی ہے جس کو آج کل کی زبان میں ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہا جاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ اپنے ماحول کے اعتبار سے ہر آدمی کی کنڈیشنگ ہوتی رہتی ہے۔ عبادت اس کنڈیشنگ کو توڑنے کا ذریعہ ہے۔ حج ایک ایسا کورس ہے جو ہر آدمی کی کنڈیشنگ کو ختم کر کے اس کو دوبارہ اس کی اصل فطرت پر پہنچا دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو شخص اس سے پہلے مسٹر کنڈیشنڈ (Mr. conditioned) تھا، وہ اب مسٹر نیچر (Mr. nature) بن جاتا ہے۔ حج کا یہ فائدہ صرف اس شخص کو ملتا ہے جو حج کی پوری اسپرٹ کے ساتھ حج کی عبادت انجام جو آدمی صرف حج کے ظاہری مراسم ادا کرے، اس کے لیے حج صرف ایک آؤٹنگ (outing) ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔