Al-Risala · December 2010

بولنے پر کنٹرول

Al-Risala, December 2010, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کے سفر میں جز او سزا کے معاملے کو تمثیل کے روپ میں دکھایا اَن میں سے ایک تمثیلی واقعہ یہ تھا: مرّ بشور عظیم یخرج من ثقب صغير يريد أن يرجع فلا يستطيع۔ قال : هذا الرجل يتكلم بالكلمة فيندم فيرد أن يردها فلا (رواه الطبراني والبزار، بحوالہ فتح الباری، جلد 7، صفحه 63، باب حديث الإسراء) یعنی معراج کے دوران رسول اللہ ایک عظیم الجثہ بیل کے پاس سے گزرے۔ آپ نے دیکھا کہ وہ ایک چھوٹے سوراخ سے نکلتا ہے، پھر وہ چاہتا ہے کہ وہ واپس جائے، مگر وہ واپس نہیں جاسکتا۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ اُس انسان کی مثال ہے جو ایک بات کہتا ہے، پھر اس پر شرمندہ ہوتا ہے۔ ہے کہ وہ اپنی بات کو واپس لے لے، مگر وہ اس کو واپس لینے پر قادر نہیں ہوتا۔ یہ اُس انسان کی مثال ہے جو غیر ذمہ دارانہ طور پر کسی کے خلاف ایک منفی بات کہہ دیتا ہے، پھر وہ دیکھتا ہے کہ اس کی منفی بات سے ایک بڑا فتنہ پیدا ہوگیا ہے۔ اب وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی بات کو واپس لے، مگر وہ اس پر قادر نہیں ہوتا۔ اس کی منفی بات ایک فتنے کو جگا دیتی ہے۔ وہ ایک فتنے کا باعث بن جاتی ہے جس کو کہنے والے نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔

اس حدیث کا مدعا یہ ہے کہ آدمی کو بولنے کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔ آدمی کوئی مثبت بات بولے تو اس میں کسی فتنے کا اندیشہ نہیں ہے۔

لیکن منفی بات کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ منفی بات ہمیشہ بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور پھیلنے کے وقت اس میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ابتدا میں وہ بظاہر ایک چھوٹی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن لوگوں کے درمیان پھیلنے کے بعد وہ نہایت سنگین صورتِ حال اختیار کر لیتی ہے، یہاں تک کہ آخر کار اس کے نتیجے میں نفرت اور تشدد کا جنگل آگ آتا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کے اوپر فرض ہے کہ وہ نتیجہ (result) سے پہلے سوچے، وہ بولنے سے پہلے اس کے نتیجے پر غور کرے۔

Printed page