Al-Risala · December 2010

بعثتِ نبوی اور قیامت

Al-Risala, December 2010, pp. 17–20

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بُعثتُ أنا والساعة كهاتين (صحيح البخاری، كتاب الرقاق، باب قول النبی بُعثت أنا والساعة) یعنی میں اور قیامت دونوں ایک ساتھ بھیجے گئے ہیں، پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کی طرف اشارہ فرمایا، یعنی جس طرح یہ دو انگلیاں ایک دوسرے کے قریب ہیں، اُسی طرح میں اور قیامت ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں۔

اس حدیث میں دراصل ایک تاریخی پراسس (process) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے ذریعے سے انسانی تاریخ میں ایک پراسس کا آغاز ہوا ہے جس کی تکمیل پر قیامت ہے:

I have initiated a process in human history the culmination of which is Qayamah (Doomsday)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو تاریخی پراسس جاری ہوا، اس کے چار بڑے مرحلے ہیں— اظہارِ دین، حفاظتِ وحی، تبیین حق ، ادخال کلمہ۔ یہ چاروں مرحلے قیاسی نہیں، بلکہ وہ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے واضح طور پر معلوم ہوتے ہیں۔

1- پہلا مرحلہ وہ ہے جس کو قرآن میں اظہارِ دین (28 :48) یا استیصالِ فتنہ (39 :8) کہا گیا ہے۔ اس سے مراد ہے مذہبی جبر (religious persecution) کا خاتمہ اور کامل معنوں میں مذہبی آزادی (religious freedom) کے دور کو لانا۔ اصحابِ رسول نے اس کام کو انھوں نے اپنی قربانیوں کے ذریعے شرک کو سیاسی اقتدار سے جدا کر دیا۔ کا یہی کارنامہ ہے جس کو قرآن میں وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

2- دوسرا مرحلہ حفاظتِ وحی کا ہے، وحی متلو بھی اور وحی غیر متلو بھی۔ اس مرحلے کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 15 میں اس طرح آیا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذكر وإنا له لحافظون (9:15) اس آیت میں’’ الذکر‘‘ سے مراد قرآن ہے۔ آیت میں حفاظتِ وحی کے عمل کو براہِ راست اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ اپنے فرشتے بھیجے گا اور وہ اس کام کو انجام دیں گے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کچھ لوگوں کو توفیق دے گا اور وہ اللہ کی خصوصی مدد سے اس کام کو انجام دیں گے۔

حفاظت کا یہ کام بنیادی طور پر عباسی دور میں انجام پایا۔ اُس زمانے میں قرآن اور قرآنی علوم کو حفاظت کے آخری درجے تک پہنچا دیا گیا۔ اس زمانے میں حدیث کی تدوین کا کام بھی اعلیٰ سطح پر انجام دیا گیا، نیز دوسرے متعلق علوم پر اتنا زیادہ تحریری کام ہوا کہ اُن سے ایک پورا کتب خانہ تیار ہوگیا۔ 3- اس سلسلے میں تیسرا کام وہ ہے جس کو قرآن میں تبیینِ حق (41: 53) کہا گیا ہے، یعنی آفاق اور نفس میں چھپی ہوئی خدائی نشانیوں کو کھولنا، تا کہ دینِ خداوندی کے حقائق خود علمِ انسانی کی سطح پر ثابت شدہ بن جائیں۔ یہ کام ساتویں صدی اور آٹھویں صدی عیسوی میں مسلم سائنس دانوں نے شروع کیا، پہلے بغداد میں اور پھر اندلس میں۔ اُس زمانے کے مسلم سائنس دانوں نے علومِ فطرت کی تحقیق میں کافی کام کیا، لیکن وہ اُس کو تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان مذہبی عقیدہ اور سائنسی تحقیق کو ایک دوسرے سے الگ نہ کر سکے۔ چناں چہ مسلمانوں کا مذہبی طبقہ اور ان کے سائنسی علماء کے درمیان مسلسل نزاعات پیش آتے رہے، جس کی وجہ سے یہ کام زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ تفصیل درج ذیل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے:

تاریخ اسلام، از: اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد سوم History of the Arabs, by Philip K Hitti ان نزاعات کی بنا پر مسلمان تبیین حق بالفاظ دیگر علوم فطرت کے انکشاف کو تکمیل تک نہ پہنچا اس کام کی تکمیل نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد یورپ میں انجام پائی اور پھر وہ امریکا

میں جاری رہی۔ اس معاملے کی تفصیل درج ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے :

The Conflict between Science and the Religion, by J W Draper (1882)

اس کا سبب یہ ہے کہ مغربی قوموں نے مذہبی عقیدہ اور سائنسی تحقیق کے کام کو ایک دوسرے سے الگ کردیا ، یہاں تک کہ بیسویں صدی کے آخر میں تبئینِ حق کا یہ کام اپنے آخری مرحلے تک پہنچ اب زیادہ تر فطرت کی ان دریافتوں کو دینِ حق کے لیے استعمال کرنا ہے اور ان کی بنیاد پر دین حق کو خود انسانی علم کی سطح پر ثابت شدہ بنانا ہے۔

4- اس سلسلے کا چوتھا کام وہ ہے جس کو حدیث میں ادخال کلمہ ، کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین کے اوپر کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا جس کے اندر اسلام کا کلمہ نہ پہنچ جائے (مسند احمد، جلد، 6 ، صفحہ 4)

واقعات بتاتے ہیں کہ چار مطلوب مرحلوں میں سے تین مرحلے گزر چکے ہیں۔ اب اظہارِ دین بھی ہو چکا ہے اور حفاظت دین کا کام بھی انجام پا چکا ہے۔ اسی طرح تبئینِ حق کا کام بھی بقدرِ ضرورت انجام پا چکا ہے۔ اب اکیسویں صدی میں اہلِ ایمان کو جو کام انجام دینا ہے، وہ ادخال کلمہ ہے، یعنی خدا کی کتاب کو دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچا دینا۔ جدید ٹکنالوجی اور کمیونیکیشن کے ذرائع اس بات کا اشارہ ہیں کہ اب اہلِ ایمان کا یہی واحد کام ہے کہ وہ ان جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے خدا کے کلام اور اس سے متعلق تشریحی لٹریچر کو تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔ گلوبل وارمنگ کے نئے ظاہرۃ کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ہیں ، وہ مزید یہ بتا رہے ہیں کہ قیامت اب بہت قریب آ چکی ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان اپنی ساری توانائی کو اس آخری کام میں لگا دیں ، اس سے پہلے کہ صورِ اسرافیل پھونک دیا جائے اور ان کے لیے کچھ کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔

آج اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اس کو اظہارِ دین کے عمل کا کریڈٹ ملے تو اب یہ ناممکن ہو چکا اسی طرح حفاظتِ دین کا کریڈٹ بھی لینے والے لے چکے ، اب آج کے لوگوں کے لیے اس کا

کریڈٹ لینے کا موقع باقی نہیں رہا۔ اسی طرح آج اللہ کی توفیق سے ایسا لٹریچر تیار ہو چکا ہے جس نے تبیینِ حق کے کام کو ضروری حد تک انجام دے دیا ہے۔ اس کام کا کریڈٹ (credit) لینے کا موقع بھی اب کسی کے لیے باقی نہیں رہا۔

اب اکیسویں صدی عیسوی میں اصلاًّ ایک ہی کرنے کا کام ہے جس کا کریڈٹ آج کے لوگوں کو مل سکتا ہے، اور وہ ہے ادخالِ کلمہ کا کام، یعنی پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اللہ کے پیغام کو تمام لوگوں تک پہنچانا۔ جدید کمیونیکیشن کے ذرائع کو بھر پور استعمال کرتے ہوئے اس کو تکمیل کے مرحلے میں داخل کر دینا۔ اکیسویں صدی کے اہل ایمان کو جاننا چاہیے کہ ابتدائی تین کریڈٹ کو لینے کا وقت اب اُن کے لیے باقی نہیں رہا، کیوں کہ اللہ کے کچھ بندے اس کام کو انجام دے چکے ہیں۔ جس کام کا کریڈٹ لینے کا موقع باقی ہے، وہ صرف ادخالِ کلمہ ہے۔ یا تو اس کام کو انجام دیجیے اور اللہ کے یہاں اس کا انعام حاصل کیجیے، یا پھر اس کام سے غافل رہیے اور قیامت میں اُن لوگوں کے ساتھ اللہ کے حضور پہنچے جن کو اللہ کی آخری عدالت میں محرومی کے سوا کچھ اور ملنے والا نہیں۔ Maulana Wahiduddin Khan's Lectures Online To watch Maulana Wahiduddin Khan's lectures live, click on the links given on the homepage of our website: www.cpsglobal.org English: Saturdays, 5.30 p.m. Urdu: Sundays, 10.30 a.m. To listen to recorded lectures visit To watch recorded lecture visit Kahaniyan Quran Se کہانیان قرآن سے Saturday 2.00 pm

Printed page