خلاصہ بحث
Al-Risala, December 2010, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
خلاصہ یہ کہ لمبی مدت کی نا کام جد و جہد کے بعد اب اجودھیا کا معاملہ نظرثانی (reassessment) کا معاملہ بن چکا ہے۔ اب وہ وقت گزر چکا ہے جب کہ اُن تدبیروں کو دہرایا جائے جن کو اس سے پہلے بار بار بڑے پیمانے پر عمل میں لایا گیا، مگر وہ مکمل طور پر نا کام ثابت ہوا۔ آخری وقت آگیا ہے کہ 30 ستمبر 2010 کے پہلے کی تاریخ کو بھلا دیا جائے اور 30 ستمبر 2010 کے بعد سامنے آنے والے حقائق کو ملحوظ رکھتے ہوئے از سر نو اس معاملے میں فل اسٹاپ لگا دیا جائے۔ مسئلے میں مزید کا مالگانا، اب صرف اپنی تباہی میں اضافے کا باعث ہوگا، وہ کسی بھی درجے میں مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ اس معاملے میں اب اگر کوئی کا مالگا گیا تو وہ یقینی طور پر مسلمانوں کے احساسِ ناکامی میں احساسِ ذلت کے اضافے کے ہم معنی ہوگا، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔