He was fired.
Al-Risala, December 2010, pp. 38–41
By Maulana Wahiduddin Khan
اس جملے میں ”فائر“ کے معنی آگ کے نہیں ہیں اور نہ گولی مارنے کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سروس ختم کر دی گئی ہے۔ الفاظ کا یہ فرق صرف گہرے علم کے بعد آدمی کو حاصل ہوتا ہے۔ یہی معاملہ قرآن کا ہے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت ہے: أقيموا الدين (13 :42) اس آیت کا لفظی ترجمہ ہے: دین کو قائم کرو۔ جو آدمی صرف لغت کو جانتا ہو اور اس کے اندر علمی بصیرت نہ ہو، وہ اس کا مطلب یہ لے لے گا کہ دین کو غالب کرو، شرعی احکام کو نافذ کرو، حالاں کہ آیت کا یہ مطلب نہیں۔ آیت میں دین کی اقامت کا مطلب دین کی پیروی کرنا ہے، نہ کہ دین کو خارجی دنیا میں نافذ کرنا۔ آدمی گہری علمی بصیرت نہ رکھتا ہو، اُس کو چاہیے کہ وہ کسی کو اپنا رہنما بنا لے۔ وہ اُس پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی نصیحت پر عمل کرے، نہ یہ کہ وہ اپنا رہنما آپ بن جائے۔
9 اکتوبر 2010 کو نئی دہلی کے اردو اخبار "راشٹریہ سہارا" میں بابری مسجد کے موضوع پر آپ کا ایک مضمون شائع ہوا۔ اس مضمون کو دیکھنے کے بعد دو مسلمانوں کے درمیان جوگفتگو ہوئی، وہ اس طرح ایک نے کہا: کیا مولانا نے بابری مسجد ہندوؤں کو دے دی۔ دوسرے مسلمان نے جواب دیا: وہ تو بہت پہلے دے چکے ہیں۔ براہِ کرم، اس تبصرہ پر روشنی ڈالیے۔ (محمد شارق، نئی دہلی) یہ تبصرہ محض بے شعوری کا ثبوت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ تمام مسلمان بابری مسجد کو عملاً چھوڑ چکے ہیں، بابری مسجد اب اُن کا حقیقی کنسَرن (concern) نہیں۔ اب ہر مسلمان، بشمول مذکورہ تبصرہ نگار، مکمل طور پر مادی ترقی کو حاصل کرنے میں مشغول ہے۔ وہ اگر بابری مسجد کا ذکر کرتا ہے تو وہ صرف لپ سروس (lip service) کے طور پر ہوتا ہے۔
اس حقیقت پر غور کیجیے تو راقم الحروف اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان جو فرق ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ میں نے بابری مسجد کو دے دیا اور بقیہ مسلمانوں نے نہیں دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’دینے‘‘ کے واقعے کا تعلق دونوں طرف سے ہے، فرق صرف یہ ہے کہ میں نے اس معاملے میں جو رویہ اختیار کیا ہے، شعوری طور پر ایک اصول کے تحت اختیار کیا ہے، جب کہ دوسرے مسلمانوں نے اپنا رویہ ذاتی انٹرسٹ (مفاد) کے تحت بنایا ہے، یعنی زبانی طور پر بابری مسجد کا نام لینا اور عملاً اُس سے پوری طرح غیر متعلق ہو کر اپنے دنیوی بہبود کے لیے مصروف رہنا۔
مزید یہ کہ راقم الحروف نے کبھی وہ لفظ استعمال نہیں کیا جو مذکورہ تبصرہ میں میری طرف منسوب کیا گیا اگر کسی کو اس معاملے میں میرا نقطہ نظر بتانا ہے تو اس کو خود میرا لفظ استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ اپنا لفظ۔ 6 دسمبر 1992 کو میں نے جو کچھ کہا تھا، وہ یہ تھا— ایک مسجد پر مسلمان چپ ہو جائیں، اور ایک کے بعد دوسری مسجدوں پر ہندو چپ ہو جائیں۔ اُس وقت تمام مسلمان اس پر غصہ ہو گئے تھے، لیکن آج حالات کے
دبائو کے تحت، تمام مسلمان اس کو عملاً اختیار کر چکے ہیں۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ اگر آپ ایک بات کو اصول کے تحت نہ مانیں تو آپ کو اُسے دبائو کے تحت ماننا پڑے گا، اور اِسی کا دوسرا نام منافقت ہے۔ بابری مسجد کے معاملے میں دوسرے لوگ جو رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صرف منافقت ہے، نہ کہ اصول پسندی۔ جو آدمی بابری مسجد کے منہدم کئے جانے کے واقعے کو ظلم کا معاملہ سمجھتا ہے، اُس کو جاننا چاہیے کہ اِس معاملے میں صرف الفاظ بولنا کافی نہیں ہے، بلکہ اُس کو ’’مجاہد‘‘ بن کر اجودھیا پہنچ جانا چاہیے۔ اپنے کاروبار میں مشغول رہتے ہوئے صرف زبان سے مذکورہ قسم کے الفاظ بولنا، واضح طور پر منافقانہ رویہ ہے اور منافقت سے زیادہ بُری کوئی چیز اسلام میں نہیں (4: 145)۔ اِس قسم کی بولی بلاشبہ منافقانہ بولی ہے، نہ کہ مومنانہ بولی۔ آج ساری دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے جذبات ابھارے جا رہے ہیں۔ کارٹون بنانے کے واقعات پیش آ رہے ہیں تو کہیں قرآن کریم کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ صورت میں اُمتِ مسلمہ کا کیا رول ہونا چاہیے (جیسا کہ ظلم و ستم کو روکنے کا حکم ہے اور نہ روک سکیں تو دعا کرنے کا حکم) برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں، جیسا کہ آپ کرتے ہیں۔ بتائیں کہ مسلمان روکنے کی پوزیشن میں ہیں یا صرف دعا کرنے کی پوزیشن میں۔ آپ کی بات اور آپ کا انداز سب سے جدا ہے اور مجھے مطمئن کرنے والا ہوتا ہے۔ (حماد احمد، نئی دہلی) یہ کہنا درست نہیں کہ مسلمانوں کے جذبات ابھارے جا رہے ہیں، یا اُن کو مشتعل کیا جا رہا صحیح بات یہ ہے کہ مسلمان بعض واقعات پر غیر ضروری طور پر مشتعل ہو رہے ہیں، وہ غیر ضروری طور پر ان واقعات پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ قرآن اور حدیث میں صبر و تحمل پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، حتی کہ نماز سے پہلے صبر کا حکم ہے: استعينوا بالصبر والصلاة (45: 2)۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ نماز تو دھوم سے پڑھتے ہیں، لیکن وہ صبر کو پوری طرح چھوڑے ہوئے ہیں۔
اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ مسلمان خود اپنے رویے کو بدلیں ۔ آپ نے لکھا ہے کہ اس معاملے میں مسلمان کیا کریں ، وہ ان واقعات کو روکیں یا وہ اُس کے لیے دعا کریں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کو خود اپنے آپ کو روکنا ہے اور خود اپنے لیے دعا کرنا ہے۔ کارٹون کا واقعہ یا قرآن کی بے حرمتی جیسی خبریں سن کر بھڑک اُٹھنا، یہی مسلمانوں کی اصل غلطی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ جب وہ ایسی کوئی خبر سنیں تو وہ فوراً متعلق افراد سے ملیں اور اُن کو اسلامی لٹریچر پڑھنے کے لیے دیں۔
اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا میں ہر انسان کو مصلحتِ امتحان کی بنا پر آزادی مذکورہ قسم کا کوئی واقعہ خدا کی دی ہوئی آزادی کا صرف ایک غلط استعمال ہوتا ہے۔ آپ آزادی کو ختم نہیں کر سکتے ، اس لیے اُس کے خلاف لڑنا بھی آپ کے لیے درست نہیں ۔ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ تبلیغ ونصحت کے ذریعے اُس آدمی کی سوچ کو بدلیں ، اسلام کے صحیح تعارف کے ذریعے اُس کے ذہن کو درست کریں اور اس کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل پتے پر رابطہ کریں: The Spritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 022-42214700, Fax: 28236323 Maulana Wahiduddin Khan Tuesday and Wednesday 10.30 pm Saturday and Sunday 6.00 am (Zee Salaam is available on Dish TV channel no. 786)