Age of deceiving philosophies
Al-Risala, February 2010, pp. 11–15
By Maulana Wahiduddin Khan
فتنۂ دہیماء کا یہ زمانہ بیسویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے۔ بیسویں صدی عیسوی میں وہ تمام فلسفے ابھرے جو مغالطہ آمیزی کے فلسفے تھے اور جنھوں نے جدید دور کے اکثر لوگوں کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر کیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مختلف قسم کے جو مفاسد پیدا ہوئے، وہ بنیادی طور پر انھیں فلسفوں کے نتیجے میں پیدا ہوئے ۔ ان فلسفوں کے پیدا کرنے میں بہت سے لوگوں کا حصہ ہے۔ اُن میں سے چار ناموں کا ذکر یہاں علامتی طور پر کیا جاتا ہے:
چارلس ڈارون (وفات: 1882) کارل مارکس (وفات: 1883)
سگمنڈ فرائڈ (وفات: 1939) سید ابوالاعلیٰ مودودی (وفات: 1979)
ذیل میں ان چاروں کے افکار کا مختصر تجزیہ کیا جاتا ہے۔
چارلس ڈارون (Charles Darwin) ایک برٹش اسکالر تھا۔ لمبی ریسرچ کے بعد اُس نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو عضویاتی ارتقا (organic evolution) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ اپنے نظریے کی حمایت میں اُس نے دو کتابیں لکھیں:
1. On the Origin of Species (1859) 2. The Descent of Man (1871)
ڈارون کے اس نظریہ یا مفروضہ کے مطابق، بہت پہلے خدا نے زندگی کا ابتدائی فارم (امیبا) پیدا اس کے بعد خود بخود ایک پراس چلا۔ اس پراس کے دوران طبیعی انتخاب (natural selection) اور بقاءِ اصلح (survival of the fittest) کے اصول کے تحت تمام انواعِ حیات اپنے آپ بنتے چلے گئے، اور آخر میں انسان وجود میں آگیا۔
یہ نظریہ مکمل طور پر ایک غیر ثابت شدہ نظریہ تھا۔ اس کی حیثیت ایک قیاسی مفروضہ کے سوا اور کچھ لیکن بعض دیگر اسباب سے وہ اہل علم طبقہ کے درمیان بہت تیزی سے پھیلا، یہاں تک کہ اس کو
جدید تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان عمومی قبولیت (general acceptance) کا درجہ حاصل ہو گیا۔ چارلس ڈارون نے اپنے نظریے میں اگر چہ ایک ابتدائی خالق کے طور پر خدا کا وجود تسلیم کیا تھا، لیکن اس نظریے کے عین تقاضے کی بنا پر ایسا ہوا کہ انسان کی زندگی سے خدا (God) بحیثیت ایک مؤثر عامل کے ختم ہو گیا۔ اب انسان کو اس کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ دعاء اور عبادت کے ذریعے خدا سے تعلق قائم کرے، وہ اپنی زندگی میں خدا کو اپنا رہنما بنائے، وہ خدا کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ (accountable) سمجھے، وہ خدا سے خوف کرے اور خدا سے محبت کرے، وہ خدا کی جہنم سے ڈرے اور خدا کی جنت کا حریص بنے۔ اس قسم کی تمام چیزیں جدید انسان کے لیے غیر متعلق (irrelevant) اس نظریے نے تاریخ میں پہلی بار ایک نیا دور پیدا کیا۔ اس دور کو مبرّر برائی کا دور (age of justified evil) کہا جا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں دوسرا نام کارل مارکس (Karl Marx) کا ہے۔ کارل مارکس نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو جدلیاتی مادّیت (dialectical materialism) کہا جاتا ہے۔ قدیم فلسفی زرتشت (وفات: 551 ق م) نے کہا تھا کہ دنیا اچھی طاقتوں اور بری طاقتوں کے درمیان مسلسل جنگ کا نام ہے: The world is a perpetual battle ground between good and evil forces. مارکس نے اس نظریے کو سیکولر معنوں میں استعمال کرتے ہوئے دکھایا کہ انسانی تاریخ ہمیشہ استحصال کرنے والوں (exploiters) اور استحصال کا شکار ہونے والوں (exploited) کے درمیان بٹی رہی ہے۔ اس نے اس نظریے کو لازمی قانونِ طبعی کا درجہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی بنا پر انسانی سماج میں ہمیشہ ایک طبقاتی جنگ (class war) جاری رہتی ہے۔ اور اس طرح تاریخ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف سفر کرتی رہتی ہے۔
مارکس کا یہ نظریہ مخصوص اسباب سے، انیسویں صدی کے نصف ثانی اور بیسویں صدی کے نصف اول کے درمیان عالمی طور پر پھیلا۔ 1917 میں جب روس میں کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی تو حکومت کے زور پر اس نظریے کو مزید پھیلاؤ ملا۔ اس طرح ساری دنیا میں ایک ایسا ماحول بنا جس
مببر تصادم (justified conflict) کو بہت زیادہ فروغ ہوا۔ تقریباً دنیا میں تخریبی سیاست، انقلابی عمل کے خوب صورت نام سے رائج ہوگئی۔
اس سلسلے میں تیسرا نام سمگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کا ہے۔ سمگمنڈ فرائڈ نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو دوسرے الفاظ میں، مببرّر اباحیت (justified permissiveness) کہا جاسکتا ہے۔ اس نے اپنی تحقیق کے ذریعے دکھایا کہ خواہشات (desires) کو دبانا شخصیت کے ارتقا میں سخت مہلک ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خواہشات کو اظہار کا بے روک ٹوک موقع دیا جائے، تاکہ انسانی شخصیت ترقی کے اعلیٰ درجے تک پہنچ سکے۔ فرائڈ نے دکھایا کہ دبی ہوئی صنفی خواہش (repressed sexual energy) شخصیت کے ارتقاء کے لیے بے حد خطرناک ہے۔ اُس نے اس بات کی وکالت کی کہ شخصیت کے ارتقاء کے لیے ضروری ہے کہ کم عمری ہی سے صنفی تعلقات قائم ہوں: Emphasized importance of infantile sexuality in personality's development. فرائڈ کا نظریہ بہت زیادہ مقبول ہوا، حتیٰ کہ نظریاتی طور پر فرائڈ کو نہ جانتے ہوئے بھی آج کی دنیا کے بیش تر لوگ فرائڈ کے طریقے پر چل رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بے قید تفریح (unchecked enjoyment) کا طریقہ جو ہر جگہ عام ہوگیا ہے، وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر فرائڈ کے نظریے کا نتیجہ ہے۔ یہ نظریہ اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ہر شعبے میں کھلے طور پر صنفی باتیں عام ہوگئیں ہیں، حتی کہ اب اخباروں میں جو نئئے کالم دکھائی دیتے ہیں، اُن میں سے ایک کالم یہ ہوتا ہے: Virginity On Sale اوپر جن تین ناموں کا ذکر ہوا، وہ سیکولر نام تھے، وہ مذہبی رہنما کی حیثیت نہ رکھتے تھے۔ اس فہرست میں چوتھا نام سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان حالیہ زمانے میں سیاسی شکست کے جو واقعات پیش آئے، اُس نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کے لیے زرخیز زمین فراہم کردی۔ انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں ساری دنیا میں مسلمانوں کا سیاسی زوال شروع ہوا۔ دو بڑے مسلم ایمپائر ختم ہوگئے— مغل ایمپائر، اور عثمانی ایمپائر۔
مسلم ایمپائر کے بعد مسلمانوں کے درمیان یہ تحریک شروع ہوئی کہ وہ سیاسی اقتدار کو پہلے کی طرح دوبارہ قائم کرسکیں۔ سید جمال الدین افغانی (وفات: 1897) کے زمانے تک یہ تحریک خالص سیاسی تحریک تھی۔ سید جمال الدین افغانی کا نعرہ تھا: الشرق للشرقيين۔ مگر سیاسی اقتدار کی بحالی کی یہ تحریک مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔
اس کے بعد ایک نیا دور شروع ہوا۔ اس نئے دور میں یہ کوشش کی گئی کہ اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کی جائے اور اس طرح سیاسی جدوجہد کو مذہبی عقیدے کا مسئلہ بنا دیا جائے، تاکہ تمام دنیا کے مسلمان اس سیاسی جدوجہد میں بھرپور طور پر شریک ہوسکیں۔ اس نئے نظریاتی دور میں جن لوگوں نے کام کیا، اُن میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کا نام غالباً سب سے زیادہ نمایاں نام کی حیثیت رکھتا ہے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے قرآن کی تفسیر (تفہیم القرآن) لکھی جس کو قرآن کی سیاسی تفسیر کہا جاسکتا ہے۔ قرآن کی اِسی قسم کی سیاسی تفسیر عرب دنیا میں سید قطب مصری (وفات: 1966) نے تیار کی جو’’فی ظلال القرآن‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ ان لوگوں نے اپنی سیاسی تعبیر کے ذریعے دکھایا کہ ـــ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ قانون اور سیاسی اقتدار اس کا لازمی حصہ ہے۔ مسلمانوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ پولیٹکل اقتدار حاصل کریں، تاکہ اسلام کو اس کے پورے سیاسی اور قانونی نظام کے اعتبار سے غالب اور نافذ کیا جاسکے۔
اس سیاسی تعبیر کے دو بڑے نقصانات ہوئے۔ ایک، یہ کہ اسلام کی اصل تعلیمات کے نقطۂ نظر سے مسلمان کا اصل تعلق دوسری اقوام سے داعی اور مدعو کا تعلق ہے، لیکن اس سیاسی تعبیر کے نتیجے میں یہ تعلق حریف اور رقیب کا تعلق بن گیا۔ دعوت کی روح مسلمانوں کے اندر عالمی سطح پر ختم ہوگئی۔ اس سیاسی تعبیر کا دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام جو اصلاً اتباع (following) کا موضوع ہے، وہ نفاذ (enforcement) کا موضوع بن گیا۔ مسلم ملکوں میں دعوتی اور تعمیری کام پسِ پشت ہوکر رہ گئے، البتہ ہر جگہ نفاذ اسلام کے نام پر مسلم حکمرانوں سے ٹکراؤ شروع ہوگیا۔ اب اس کی آخری حد یہ ہے کہ اس سیاسی نظریے نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو متشدد (violent) بنا دیا ہے، اِس فرق کے
ساتھ کہ کچھ لوگ فعال تشدد (active violence) میں مبتلا ہیں، اور کچھ لوگ غیر فعال تشدد (passive violence) کا کیس بنے ہوئے ہیں۔ غیر فعال تشدد یہ ہے کہ تشدد پسندوں کو برا نہ اُن پر خاموشی اختیار کی جائے، حتی کہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس کو جواز (justification) فراہم کیا جائے۔
اس سیاسی تعبیر کا آخری نتیجہ جو سامنے آیا ہے، وہ خودکش بم باری (suicide bombing) خودکشی کا فعل اسلام میں بلاشبہ حرام ہے، مگر ساری دنیا کے مسلمان اس کو ”قربانی“ کا درجہ دئے عرب علماء نے یہ کہہ کر اس کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ یہ خودکشی نہیں ہے، بلکہ وہ استشهاد یعنی طلبِ شہادت (seeking martyrdom) ہے۔
اوپر کے تجزیے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ چیز جس کو ہم نے مغالطہ آمیز فلسفوں کا دور کہا ہے، اُس کو پیدا کرنے میں سیکولر اسکولر اور غیر سیکولر اسکولر دونوں کا حصہ ہے۔ سیکولر مفکرین نے یہ کیا کہ انھوں نے مغالطہ آمیز طور پر الحاد اور اباحیت کو جواز فراہم کر دیا۔ دوسری طرف، مسلم مفکرین نے اسلام کی ایسی تعبیر کی جس کے نتیجے میں تشدد کا فعل مقدس جہاد کا فعل قرار پایا۔ انھیں افکار کا نتیجہ ہے کہ آج کی دنیا میں ایک طرف، اخلاقی زوال (immorality) اپنی آخری حد تک پہنچ گیا ہے اور دوسری طرف، تشدد اور بم کلچر بھی روز مرہ کی ایک چیز بن گیا ہے۔ سیکولر تحریکوں نے اگر دنیا سے انسانی قدروں (human values) کا خاتمہ کر دیا ہے، تو اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کرنے والوں نے بہ ظاہر یہ امکان ختم کر دیا ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو اور دعوت الی اللہ کا ضروری کام انجام دیا جا سکے۔