2010ء، فروری، رسالہ
Al-Risala, February 2010, pp. 23–26
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے نام پر غیر اسلام (Islamization of non-Islam)
مذہب کی تاریخ کا یہ ایک عام ظاہرہ ہے کہ بعد کے زمانے میں مذہب کی اصل تعلیم گم ہو جاتی ہے اور خود ساختہ چیزوں کو مذہب کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ مثلاً مسیحیت (Christianity) دو ہزار سال پہلے حضرت مسیح کی تعلیمات پر مشتمل تھی۔ آج مسیحیت ایک ایسے مذہب کا نام ہے جس کو مسیحی چرچ نے بعد کے زمانے میں بطو ر خود وضع کیا۔
ٹھیک یہی معاملہ خود مسلمانوں کے ساتھ بھی بعد کے زمانے میں پیش آیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر مسلمانوں کو اس خطرہ سے متنبہ کر دیا تھا۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ: لتتبعن سنن من كان قبلكم (البخاري، كتاب الاعتصام، باب قول النبي لتتبعن) یعنی تم لوگ ضرور پچھلے مذہبی گروہوں کی پیروی کروگے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: بدأ الإسلام غريباً وسيعود كما بدأ (صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان أن الإسلام بدأ غريباً) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، اور بعد کو وہ پھر اجنبی ہو جائے گا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام بعد کے زمانے میں معدوم ہو جائے گا۔ یہ قانونِ فطرت کے چناں چہ ایسا نہ کسی اور مذہب کے ساتھ ہوا، اور نہ اسلام کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے۔ حدیث کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام کا اصل متن (text) اگر چہ محفوظ رہے گا، لیکن مسلمان عملی طور پر غیر اسلام کو اپنا دین بنا لیں گے۔ ایک لفظ میں، اس معاملے کو اسلامائزیشن آف آن اسلام (Islamization of un-Islam) کہا جا سکتا ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے اسلام کے ابتدائی تین أدوار کے بارے میں فرمایا کہ مسلمان ان تین ادوار تک خیر پر قائم رہیں گے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: خير أمتي قرني، ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم (البخاري، كتاب المناقب، باب فضائل أصحاب النبي) یعنی سب سے بہتر مسلمان میرے دور کے مسلمان ہیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد آئیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد آئیں۔ ان تین ادوار کو
قرون مشہود لہا بالخیر‘ کہا جاتا ہے۔ وہ تین دور یہ ہیں ـــــ دورِ رسالت، دورِ صحابہ، دورِ تابعین۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مذکورہ تین دوروں تک مسلم نسلیں کم وبیش، اصل اسلام پر قائم رہیں۔ اس کے بعد اُن کے درمیان بگاڑ شروع ہوا۔ اس بگاڑ کی فکری بنیاد عباسی خلافت کے زمانے میں پڑی۔ بعد کے زمانے میں جو فکری انحرافات مسلمانوں میں پیدا ہوئے، اُن سب کا آغاز عباسی دور میں ہوا۔ یہاں ہم ان انحرافات میں سے کچھ چیزوں کا تذکرہ نمائندہ مثالوں کے طور پر کرتے ہیں۔ دارالاسلام کا نظریہ فقہاء کی اصطلاح میں دارالاسلام اُس علاقے کو کہا جاتا ہے، جہاں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہو۔ اس قسم کا واقعہ سب سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا۔ بعد مدینہ میں اہل اسلام کی ایک شہری ریاست (city state) قائم ہوگئی۔ اس کے بعد جلد ہی پورے عرب میں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہو گیا۔ لیکن پیغمبر اسلام نے مدینہ کو یا عرب کو دارالاسلام نہیں آپ کے بعد صحابہ اور تابعین نے بھی اس علاقے کو دارالاسلام کا نام نہیں دیا۔ دارالاسلام کی یہ سیاسی اصطلاح پہلی بار عباسی دور کے علماء اور فقہاء نے اختیار کی۔
شرعی تعریف کے مطابق، دارالاسلام کی یہ اصطلاح بلاشبہ ایک سیاسی بدعت تھی۔ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں نہ ہو، اُس کو دین کے نام پر اختیار کرنا بدعت ہے۔ الاسلام کی اصطلاح وضع کرنے کے بارے میں ایسا ہی ہوا۔
یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ جن علاقوں کو دارالاسلام کہا گیا، اُن کو اگر مسلمانوں کے زیرِ قبضہ علاقہ (Muslim occupied land) کہا جاتا تو وہ صرف ایک سیاسی مسئلہ ہوتا، نہ کہ اعتقادی مسئلہ۔ جب ایسے علاقے کو دارالاسلام کہا گیا تو اس کو اعتقادی تقدس کا درجہ مل گیا، ایک سیاسی معاملے کو اعتقادی درجہ دینے سے جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، وہ سب خرابیاں مسلمانوں کے اندر پیدا ہوگئیں۔ مثال کے طور پر جب مسلمانوں کے زیرِ قبضہ علاقے کو اعتقادی حیثیت دیتے ہوئے اس کو دارالاسلام کہا گیا تو اس کے بعد فطری طور پر یہ فقہی مسئلہ بن گیا کہ جو علاقہ ایک بار دارالاسلام کی
حیثیت اختیار کرلے ، وہ حکمی (legal) طور پر ہمیشہ کے لیے دارالاسلام ہے۔ ایسے کسی علاقے پر اگر بعد کو غیر مسلموں کا قبضہ ہو جائے تو مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ قابض گروہ سے لڑ کر دوبارہ اُس کو دارالاسلام بنائیں ۔ ایسا کرنا مسلمانوں کے لیے صرف ایک علمی مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ وہ اُن کے لیے ایک اعتقادی ذمے داری کی حیثیت رکھتا ہے ۔
قدیم زمانے میں سیاسی طاقت (political might) کو سب کچھ سمجھا جاتا تھا۔ میں دارالاسلام کا مذکورہ نظریہ بظاہر ایک معقول (rational) نظریہ معلوم ہوتا تھا۔ لیکن موجودہ زمانہ سیاسی آئیڈیالوجی (political ideology) کا زمانہ ہے۔
ان زمانی تبدیلیوں کے نتیجے میں موجودہ دور میں دارالاسلام کا مذکورہ سیاسی نظریہ ایک غیر معقول (irrational) نظریہ بن چکا ہے۔
اسی نظریے کے مطابق موجودہ زمانے میں سیاسی افکار کا ارتقا ہوا ہے، اور اسی نظریے کے مطابق ، اقوام متحدہ (UNO) کے عالمی منشور (Universal Declaration of Human Rights) پر دنیا بھر کی تمام قوموں نے دستخط کیے ہیں جس کے تحت ایک ملک کی دوسرے ملک پر حکم رانی نا قابلِ تسلیم قرار پا چکی ہے ۔
موجودہ زمانے میں مختلف مسلم ملکوں میں جو جہادی گروپ سرگرم ہیں ، وہ دارالاسلام کے اسی قدیم فقہی مسئلے سے اپنا نظریہ اخذ کر رہے ہیں ۔ اُن کا ماننا ہے کہ مسلم ایمپائر کے زمانے میں جو علاقے مسلمانوں کے زیرِ اقتدار تھے ، وہ اب بھی حکماً (legally) دارالاسلام کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ کی یہ دینی ذمے داری ہے کہ وہ جہاد کر کے ان علاقوں پر دوبارہ مسلم اقتدار قائم کریں ۔ 2001 کو نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ اور 26 نومبر 2008 کو ممبئی کے تاج محل ہوٹل پر کچھ انتہائی پسند مسلم تنظیموں کا حملہ اسی فقہی طرزِ فکر کی عملی مثالیں ہیں ۔ دارالحرب کا نظریہ عباسی دور میں جو اسلامی فقہ بنی ، اُس میں مسلم علاقوں کے علاوہ ، دوسرے علاقوں کو دارالحرب کا
درجہ دیا گیا۔ یہ بلاشبہ ایک خود ساختہ نظریہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان ان علاقوں کے مقابلے میں اصولی طور پر، برسرِ جنگ (at war) کی حالت میں ہیں۔ اس معاملے کو جدید اصطلاح کے مطابق، سرد جنگ (cold war) کہا جا سکتا ہے۔
یہ بلاشبہ ایک تخریبی نظریہ ہے۔ اس نظریے نے مسلمانوں کے اندر وہ ذہن پیدا کیا جس کو ہم اور وہ (we and they) کا نظریہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کے لیے پوری دنیا، دوست اور دشمن (friends and enemies) کے دو مختلف گروہوں میں بٹ گئی۔ تمام مسلمان شعوری یا غیر شعوری طور پر اس تقسمی ذہن کا شکار ہو گئے۔ ان کو مسلمان اپنے نظر آئے، اور دوسری قوموں کے لوگ اُن کو غیر دکھائی دینے لگے۔
اس طرح، دار الحرب اور اس تصور کے تحت پیدا شدہ نظریات نے تمام مسلمانوں کو فکری طور پر غیر معتدل بنا دیا۔ وہ دوسری قوموں کے لیے اُن فرینڈلی (unfriendly) بن گئے، الا یہ کہ کسی ذاتی انٹرسٹ کے سبب سے بظاہر دوسروں کے ساتھ دوستانہ رویئے کا اظہار کیا جائے۔