Al-Risala · February 2010

دار الکفر کا نظریہ

Al-Risala, February 2010, pp. 26–29

By Maulana Wahiduddin Khan

عباسی دور کے علماء اور فقہاء نے جو نظریات بنائے، اُن میں سے ایک بے بنیاد نظریہ دار الکفر کا وہ علاقے جہاں کے لوگ مذہبی اعتبار سے اسلام کے دائرے میں داخل نہیں ہوئے، ایسے علاقوں کو انھوں نے دار الکفر کا نام دیا۔ یہ ایک سنگین قسم کی بدعت تھی۔ قرآن بار بار ایسے لوگوں کے لیے انسان کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ گویا کہ قرآنی اعتبار سے، ایسے علاقے دار الانسان تھے، نہ کہ دار الکفر، یہ بلاشبہ ایک بھیانک قسم کا مبتدعانہ فعل تھا جس کا ارتکاب ہمارے علماء اور فقہاء نے کیا۔ اس فقہی تسمیہ (nomenclature) کے سنگین نتائج برآمد ہوئے۔ اس تسمیہ کی بنیاد پر بعد کے زمانے میں جو لٹریچر تیار ہوا اور مسجدوں اور مدرسوں میں جس قسم کی باتیں دہرائی جاتی رہیں، اُس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ تمام دنیا کے مسلمان دوسری قوموں کو کافر سمجھنے لگے۔ کافر کے لفظی معنی صرف منکر لیکن اپنے استعمال کے اعتبار سے وہ ایک سخت قسم کا تحقیری لفظ (derogatory word) بن

اس کے فطری نتیجے کے طور پر یہ ہوا کہ مسلمانوں کے دل میں دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ختم ہوگیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور اُن کو قابل نفرت سمجھنے لگے۔

دارالکفر کا یہ مبتدعانہ نظریہ اتنا پھیلا کہ تقریبا تمام کتابوں میں وہ کسی نہ کسی طرح شامل ہو گیا، وہ مسلمانوں کی سوچ کا ایک لازمی جز بن گیا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر جو تفریقی مزاج (separatist tendency) پیدا ہوا، وہ بلاشبہ ایک ہلاکت خیز مزاج تھا۔ وہ مسلمانوں کے لیے عالمی برادری کا معتدل حصہ بننے میں مانع ہو گیا۔ اس بنا پر مسلمانوں کے لیے اس دنیا میں صرف دو آپشن باقی رہا— یا تو وہ عالمی برادری سے کٹ کر اپنے آپ کو ایک محدودخول میں بند کر لیں، یا مفاد پرستانہ ذہن کے تحت وہ دنیا میں لوگوں کے ساتھ رہیں۔ اسی دہری روش کا شرعی نام منافقت ہے۔ دارالکفر کا نظریہ سرتاسر ایک خود ساختہ نظریہ ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس نظریے کے حق میں کوئی بنیاد موجود نہیں۔ لیکن وہ مسلمانوں کے اندر اتنا زیادہ پھیلا کہ اب شاید کوئی ایک شخص بھی اس نفسیات سے خالی نہیں۔ اس کا سبب غالباً یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس نظریے کے ذریعے ایک فرضی یقین (false conviction) حاصل ہوتا ہے۔ تمام دوسرے لوگوں کو کافر قرار دے کر وہ بالواسطہ انداز میں اپنے لیے یہ یقین حاصل کرتے ہیں کہ دوسرے تمام لوگ بھٹکے ہوئے ہیں اور صرف ہم ہیں جو صحیح راستے پر قائم ہیں، دوسرے تمام لوگوں کے لیے جہنم ہے، اور ہمارے لیے ابدی جنت، وغیرہ۔ اسی نظریے کا ایک بھیانک نقصان یہ ہے کہ بعد کے دور میں تقریباً تمام مسلمانوں کی سوچ مسلم رُخی سوچ (Muslim-oriented thinking) بن گئی۔ یہ کہنا بلا مبالغہ درست ہوگا کہ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر انسان رُخی سوچ (man-oriented thinking) کا ارتقانہ ہوسکا، اور اس فکری المیہ کی ذمے داری تمام تر دارالکفر کے اسی فقہی نظریے پر ہے۔

موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے تحریکوں کا زمانہ تھا۔ خاص طور پر پرنٹنگ پریس کا دو آنے کے بعد مسلمانوں کے اندر ہر جگہ ہزاروں کی تعداد میں تحریکیں اُٹھیں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ان میں سے کوئی بھی قابل ذکر تحریک انسان رخی تحریک نہ تھی ۔ تمام کی تمام معلوم تحریکیں، مسلم رُخی تحریکیں تھیں۔

صورتِ حال کا مزید نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان فکرِ انسانی کے عالمی دھارے (mainstream) میں شامل نہ ہو سکے، وہ عالمی فکر کے اندر ایک محدود جزیرہ بن کر رہ گئے۔

بعد کے زمانے کے مسلم مفکرین نے جن غیر اسلامی نظریات کو اسلامائز کیا اور اُن کو مسلمانوں کے اندر پھیلایا، اُن میں سے ایک مہلک نظریہ وہ تھا جس کو خلافتِ ارضی کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ مسلم مفکرین نے خود ساختہ طور پر اپنے لیے یہ ٹائٹل لے لیا کہ وہ خلیفہ اللہ فی الارض ہیں۔ اس طرح، مسلمان گویا کہ زمین پر خدا کے نائب ہیں۔ اُن کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ملے ہوئے قانون کو خدا کی نیابت میں زمین پر نافذ کریں۔

خلافت کا یہ نظریہ کسی نہ کسی طور پر بعد کے زمانے کے مسلمانوں کی فکر پر چھا گیا۔ اسی کی روشنی میں دوسری چیزوں کی توجیہہ و تشریح کی جانے لگی۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں اسلام کا کلمہ ساری دنیا کے ہر گھر میں داخل ہو جائے گا۔ اس حدیث کی تشریح مذکورہ نظریہ خلافت کے تحت کی گئی اوراُس کا یہ مطلب بتایا گیا کہ آخری زمانے میں اسلام کی حکومت ساری دنیا میں قائم ہو جائے گی۔ یہ تشریح بلاشبہ ایک غیر علمی تشریح ہے، وہ سرتا سر بے بنیاد ہے۔

مذکورہ حدیثِ رسول میں کلمۂ اسلام (word of Islam) کا لفظ ہے، نہ کہ حکومتِ اسلام (rule of Islam) کا لفظ۔ اس سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس حدیث میں جس واقعے کا ذکر ہے، اُس سے مراد اسلام کے کلمہ (word)، یا اُس کے پیغام کا ساری دنیا کے تمام گھروں میں پہنچ جانا ہے، نہ کہ مسلم اقتدار کا ساری دنیا میں قائم ہو جانا۔ حدیث کی مذکورہ تشریح، حدیث کا سیاسی گرن (politicization) ہے، وہ حدیث کے اصل مفہوم کی وضاحت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ کمیونکیشن کے ذریعے ہونے والا واقعہ ہے، نہ کہ فوج کشی کے ذریعے ہونے والا واقعہ ہے۔ اس سیاسی طرزِ فکر کے بہت سے نقصانات ہیں۔ اُن میں سے ایک نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر روحانی اور تعمیری طرزِ فکر کا تقریباً کلی خاتمہ ہو گیا۔ داخلی اعتبار سے اُن کے اندر وہ طرزِ فکر موجود نہیں جس کو روحانی طرزِ فکر (spiritual thinking) کہا جاتا ہے۔ اور خارجی اعتبار سے وہ اِس طریقِ کار سے بے خبر

میں جس کو موجودہ زمانے میں تعمیری طریقہ کار (constructive method) کا نام دیا جاتا ہے۔ مکمل اسلام کا نظریہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر ایک لفظ بہت عام ہو گیا ہے، وہ یہ کہ اسلام ایک مکمل عرب مسلمان اور غیر عرب مسلمان دونوں فخر کے ساتھ یہ لفظ بولتے ہیں۔ بظاہر یہ اسلام کی ایک خوب صورت تعریف معلوم ہوتی ہے، لیکن وہ اسلام کی ایک مبتدانہ تشریح ہے، اور ہر مبتدانہ تشریح کا نتیجہ بلاشبہ ہلاکت ہوتا ہے۔ اس تشریح کے بے اصل ہونے کا واضح ثبوت یہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی اسلام کے لیے یہ تعبیر اختیار نہیں کی گئی کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ مکمل اسلام کے اس نظریے نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے صرف دو بُرے چوائس (evil choice) کا امکان باقی رکھا ہے— ایک برا چوائس یہ کہ وہ ’’مکمل اسلام‘‘ پر قائم ہونے کے لیے ساری دنیا سے مستقل طور پر لڑتے رہیں۔ کیوں کہ جب تک وہ ساری دنیا کو سیاسی اعتبار سے مغلوب نہ کر لیں، وہ اپنے مفروضہ مکمل اسلام پر قائم نہیں ہو سکتے۔ اُن کے لیے دوسرا بُرا چوائس یہ ہے کہ وہ فکری اعتبار سے تو اسلام کو مکمل نظام سمجھیں، لیکن مفاد پرستانہ ذہن کے تحت، وہ دوسرے نظاموں سے سمجھوتہ (compromise) کر لیں۔ کیوں کہ دوسرے نظاموں سے سمجھوتہ کیے بغیر اُن کے لیے اس دنیا میں مادی فوائد کا حصول ممکن نہیں۔

Printed page