Al-Risala · February 2010

I will 'jhonk' myself in this cuase.

Al-Risala, February 2010, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد مذکورہ شخص نے اپنے آپ کو پوری طرح تعمیر کے اس کام میں لگا دیا۔ وہ رات دن اُس کے لیے محنت کرتا رہا، یہاں تک کہ وہاں ایک شان دار بلڈنگ کھڑی ہوگئی، جہاں پہلے صرف خالی زمین دکھائی دیتی تھی، وہاں اب ایک پر رونق سینٹر قائم ہوگیا۔

ہر بڑے کام کے لیے اسی قسم کی ’’جھونک اسپڑٹ‘‘ درکار ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اپنے آپ کو پوری طرح وقف کیے بغیر کوئی بڑا کام نہیں ہوسکتا۔ کسی بڑے کام کو انجام دینے کے لیے بہت سے تقاضے ہوتے ہیں۔ ان مختلف تقاضوں کی کامل رعایت کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں ہوسکتا۔ ان تقاضوں کو سمجھنا اور ان کی کامل رعایت کرنا اُسی شخص کے لیے ممکن ہے جو اپنے آپ کو پوری طرح اس کے لیے وقف کردے۔ جھونک کی اس اسپڑٹ کو ڈیڈی کیشن (dedication) کی اسپڑٹ یا قربانی (sacrifice) کی اسپڑٹ کہہ سکتے ہیں۔ ڈیڈی کیشن اور قربانی سے کم درجے کا لگاؤ رکھنے والے لوگ کوئی چھوٹا کام تو کر سکتے ہیں، لیکن وہ کوئی بڑا کام انجام نہیں دے سکتے۔ ڈیڈی کیشن اور قربانی کے اعتبار سے جتنی کمی ہوگی، اتنی ہی کمی اصل کام کی انجام دہی میں واقع ہوجائے گی۔ جب بھی کسی شخص نے کوئی بڑا کام انجام دیا ہے تو اُس نے یہ بڑا کام اسی جھونک اسپڑٹ کے ساتھ انجام دیا ہے۔ اسپڑٹ نہیں، وہاں کسی بڑے کام کا وجود بھی نہیں ہوسکتا۔ بڑا کام کرنا ہو تو اُسی کام کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنالیجیے۔ اور اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو پھر بڑے کام کا نام مت لیجیے۔

Printed page