Al-Risala · February 2010

چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ

Al-Risala, February 2010, pp. 35–42

By Maulana Wahiduddin Khan

کامیاب زندگی کا ایک راز یہ ہے کہ چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ نہ لیا جائے ۔ اجتماعی زندگی میں چھوٹی شکایتیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ دانش مند وہ ہے جو چھوٹی شکایتوں کو نظر انداز کرے، اور نادان آدمی وہ ہے جو چھوٹی شکایت پر مشتعل ہو جائے اور اس کی بنیاد پر انتہائی فیصلہ لینے لگے۔ اسی نوعیت کا ایک مشہور واقعہ وہ ہے جو سنڈے ٹائمس، لندن کے حوالے سے نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (17 اگست 2009) میں شائع ہوا ہے۔

لیبیا کے حکم راں معمر القذافی کے 33 سالہ بیٹے ہنی بال (Hannibal) جنیوا (سوئزرلینڈ) وہاں وہ ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اُن کے ساتھ ان کی بیوی العین (Aline) بھی تھیں۔ ایسا ہوا کہ ہوٹل کی ایک تو نییسی ملازمہ مونا (Mona) کی کسی بات پر العین کو غصہ آگیا۔ العین نے اُس کو مارا اور دھمکی دی کہ میں تم کو ہوٹل کی کھڑکی سے باہر پھینک دوں گی۔

اس واقعے کی خبر مقامی پولس کو ہوئی۔ پولس نے ہنی بال اور العین کو گرفتار کرلیا۔ ان کور ہا کر دیا گیا، لیکن اس واقعے کی خبر جب ہنی بال کے والد معمر القذافی کو پہنچی تو اس کو انھوں نے اپنی بے عزتی (humiliation) سمجھا، وہ سخت غضب ناک ہوگئے۔ انھوں نے سوئزرلینڈ کے خلاف کئی سخت اقدامات کئے— سوئزرلینڈ سے ہوائی سروس منقطع کرنا، سوئزرلینڈ کی کئی کمپنیوں کے لیبی دفتروں کو بند کر دینا، وغیرہ۔ حتی کہ انھوں نے کہا:

If I had an atomic bomb, I would wipe switzerland off the map. یہ واقعہ چھوٹی شکایت پر انتہائی اقدام کی ایک مثال ہے۔ اس قسم کا اقدام ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا خواہ کوئی معمولی آدمی ہو یا کوئی بڑا آدمی، کوئی بھی اس قسم کے انتہائی اقدام کے منفی نتائج سے بچ نہیں سکتا۔ جلد یا بدیر آدمی کو اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے، لیکن بعد کو اُس کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔ طلاق کے واقعے سے لے کر قومی جنگ تک ، ہر معاملے میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔

سوال و جواب آپ نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ: ’’حدیث کی کتابوں میں ابواب الفتن کے تحت بیان کردہ روایات میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر فرما دیا تھا کہ تم اپنے حکمرانوں کے خلاف خروج (بغاوت) نہ کرنا۔ تم ہر حال میں صبر کے اصول پر قائم رہنا۔ تم کسی بھی عذر کو لے کر حکمرانوں سے لڑائی نہ کرنا، بلکہ اپنی بکری اور اونٹ میں مشغول ہو کر اپنے ضروری دینی فرائض کو ادا کرتے رہنا‘‘ (فکر اسلامی، صفحہ 153) لیکن بہت سی روایات میں آپ کے اس نقطہ نظر کے برعکس ہدایات ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر صحیح ابن حبان میں ہمیں یہ حدیث پڑھنے کو ملتی ہے: 1 - عن عبد الله بن خباب عن أبيه قال كنّا قعوداً على باب النبی صلى الله عليه وسلم فخرج علينا، قال اسمعوا، قلنا قد سمعنا، قال اسمعوا، قلنا قد سمعنا، قال اسمعوا، قلنا قد سمعنا، قال إنّه سيكونُ أمراء فلا تصدّقوهم بكذبهم و لا تعينوهم على ظلمهم، فإنّه مَن صَدّقهم بكذبهم وأعانهم على ظلمهم، لم يرد عليّ الحوض (صحیح ابن حِبّان ۔ حدیث نمبر 284، صفحہ 193)

’’حضرت عبداللہ بن خباب اپنے والد حضرت خباب سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم وسّلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ہمارے پاس آئے۔ نے فرمایا سنو، ہم نے عرض کیا یقیناً ہم نے سُنا۔ آپ نے فرمایا سنو، ہم نے کہا یقیناً ہم نے سُنا۔ نے فرمایا، سنو، ہم نے کہا یقیناً ہم نے سُنا۔ آپ نے فرمایا، بے شک میرے بعد حکمران ہوں گے، تم ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرنا اور نہ ہی ان کے ظلم کی اعانت کرنا، کیوں کہ جس نے ان کے جھوٹ کو سچ قرار دیا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کی، وہ میرے پاس حوض کوثر پر نہیں آئے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی جھوٹی باتوں کا فریب دینے والا اور ظلم کرنے والا حکمران تمھارے اوپر مسلط ہو جائے تو اس کی کسی طرح کی بھی حمایت و اعانت نہ کرو۔

2- قرآن میں آیا ہے کہ ایک مظلوم شخص کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ ظالم کے خلاف آواز حق بلند کرے اور اس دوران اگر مظلوم کی زبان سے کچھ ناشائستہ الفاظ نکل جائیں تو اللہ تعالیٰ اس کی پکڑ نہیں کرتا، کیوں کہ وہ مظلوم کی مظلومیت کو جانتا ہے اور اس کی آہ و فغاں کو سنتا ہے، اس لئے وہ درگزر سے کام لیتا ہے اور وہ ظالم کے خلاف اس کی فریاد کو قبول کرتا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: لا يحب الله الجهر بالسوء من القول إلا من ظلم، وكان الله سميعا عليما (النساء: 148) یعنی اللہ بدگوئی کو پسند نہیں کرتا مگر یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو، اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں ظالم بادشاہ کا ظلم روکنے کے لئے اس کے سامنے انصاف کی بات کہنا افضل جہاد بتایا گیا ہے: عن أبي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أَفْضَلُ الْجِهَادِ كلمة عدل عند سلطان جائر (أبو داؤد، كتاب الملاحم، باب الأمر والنهي؛ الترمذي، كتاب الفتن، باب أفضل الجهاد كلمة عدل؛ ابن ماجه، كتاب الفتن، با ب الأمر بالمعروف)

”حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے انصاف کی بات کہنا ہے“۔

کچھ لوگ اس حدیث کو دعوت الی اللہ کے معنی میں لیتے ہیں مگر حدیث کے سیاق اور الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو پھر متن حدیث میں کلمہ عدل (انصاف کی بات) کے بجائے ”کلمہ حق“، ”حق کی بات) کا فقرہ ہوتا۔ نیز حدیث کا آخری فقرہ ”سلطان جائر“ (ظالم بادشاہ) بھی آیا ہے جو اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہاں ”کلمہ عدل“ سے مراد دعوت الی اللہ نہیں، بلکہ ایک ظالم حکمران کو ظلم سے روکنا مراد ہے اور اس کے سامنے عدل اور انصاف کی بات کہنا ہے تا کہ وہ بھی اپنی رعایا سے عدل اور انصاف کا معاملہ کرے۔ اس طرح ان واضح دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ظلم اور بربریت کے خلاف علم بغاوفت اٹھانا

اور حق اور انصاف کی خاطر اٹھ کھڑا ہونا کوئی غیر شرعی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ایسا کرنا عین شریعتِ اسلامی کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کی حمایت اور اعانت تصور کی جائے گی۔ نیز ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ظالم حکمران کو تقویت دینے کے لئے اس کے ساتھ چلے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے باہر سمجھا جائے گا: عن أوس بن شرحبيل أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من مشى مع ظالم ليقوّيه وهو يعلم أنه ظالم فقد خرج من الاسلام - (رواه البيهقى؛ مشكوة، باب الظلم، الفصل الثالث)

حضرت اوس بن شرحبیل سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، جو شخص کسی ظالم کو تقویت پہنچانے کے لیے اس کے ساتھ چلے اور وہ یہ جانتا ہو کہ وہ ایک ظالم ہے تو وہ شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

اِس ساری تفصیل کے بعد سوال یہ ہے کہ آپ کی کتاب ’’فکرِ اسلامی‘‘ کے حوالے سے اوپر دئے گئے اقتباس اور مندرجہ بالا دوسری احادیث کے درمیان جو نمایاں اختلاف نظر آتا ہے، اُن کے درمیان کس طرح تطبیق دی جائے گی (غلام نبی کشافی، سری نگر، کشمیر)

اگر کوئی حکم راں آپ کو ظالم نظر آئے تو شرعی اعتبار سے، اس کے خلاف عمل کی دو صورتیں ہیں— خروج، اور نصیحت۔ خروج کا مطلب ہے مسلح بغاوت، اور نصیحت کا مطلب ہے پُرا من خیر خواہی۔ میرے مطالعے کے مطابق، ظالم کے خلاف مسلح بغاوت حرام ہے۔ مگر جہاں تک خیر خواہانہ نصیحت کا معاملہ ہے، وہ عین جائز ہے، بشرطیکہ وہ مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہو۔ ظالم حکم راں کے خلاف مسلح خروج اس لیے حرام ہے کہ وہ ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے، اور جو چیز الٹا نتیجہ پیدا کرے، وہ نہ عقل کے مطابق

درست ہو سکتی ہے اور نہ دین کے مطابق۔ میں ذاتی طور پر مسلح بغاوت کے خلاف ہوں، مگر جہاں تک خیر خواہانہ نصیحت کی بات ہے، میں ہمیشہ اس پر عامل رہا ہوں۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو راقم الحروف کی

اس معاملے میں آپ نے جو حدیثیں نقل فرمائیں ہیں، اُن سے آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ ان حدیثوں میں وہی بات کہی گئی ہے جس کا میں خود ہمیشہ قائل رہا ہوں۔ قرآن اور حدیث سے آپ نے جو حوالے دئے ہیں، ان کی وضاحت نمبر وار ذیل میں درج کی جاتی ہے:

ابنِ حبان کی جو روایت آپ نے نقل کی ہے، اُس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی حکم راں مبینہ طور پر ظالم ہو تو اہلِ ایمان کو یہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اس کے جھوٹ کو سچ بتانے لگیں، بلکہ اُنھیں اس کے جھوٹ کو جھوٹ بتانا چاہیے۔ یہ واضح طور پر ایک پر امن اظہارِ خیال کا معاملہ ہے، نہ کہ تشددانہ ٹکراؤ کا معاملہ۔ اور اس قسم کے پر امن اور خیر خواہانہ اظہارِ خیال سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ ’’ظلم پر اعانت‘‘ کا مطلب صرف یہ ہے کہ اہلِ ایمان کسی مبینہ ظالم کا آلۂ کار نہ بنیں، بلکہ وہ اُس سے الگ رہیں اور اس کے لیے اصلاح کی دعا کرتے رہیں۔

سورہ النساء کی جو آیت آپ نے نقل کی ہے، اس میں واضح طور پر ’’قول‘‘ کی بات کہی گئی ہے، نہ کہ کسی قسم کے عملی تصادم کی بات۔ اس آیت سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ ایک شخص اگر مظلوم ہے تو اس کو یہ حق ہے کہ وہ پر امن قول کے دائرے میں رہتے ہوئے ظالم کے خلاف بولے۔ وہی بات ہے جس کو میں بار بار لکھتار ہاہوں۔

تیسرے نمبر پر آپ نے جو حدیث نقل کی ہے، وہ کسی مبینہ ظالم کے خلاف ’’کلمہ‘‘ یا قول کی اجازت دیتی ہے، نہ کہ عملی تصادم کی اجازت۔ ایک شخص اگر مبینہ طور پر ظالم ہو تو اہلِ ایمان کو بلاشبہ یہ حق ہے کہ وہ اس کے خلاف امن اور انصاف اور خیر خواہی کی شرائط کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار اس حدیث میں بھی واضح طور پر ’’کلمہ‘‘ کی اجازت ہے، نہ کہ ٹکراؤ اور جنگ کی اجازت۔ چوتھے نمبر پر آپ نے جو حدیث نقل کی ہے، وہ بھی واضح طور پر ’’مشی‘‘ کے بارے میں ہے،

نہ کہ جنگ کے بارے میں ، یعنی اگر کوئی شخص مبینہ طور پر ظالم ہو تو ظلم پر اس کا ساتھ دینا اہل ایمان کے لیے جائز نہیں۔ ایسے مواقع پر اہل ایمان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ ظالم کے حق میں دعا کریں ، وہ اس کو خیر خواہانہ انداز میں نصیحت کریں ، وہ مکمل طور پر امن کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔

آپ نے لکھا ہے کہ’’ اگر ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کی حمایت اور اعانت تصور کی حقیقت یہ ہے کہ یہ خاموشی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ حدیث کے مطابق ، وہ استطاعت کا معاملہ ہے ، یعنی اس طرح کے معاملے میں دخل دینے کا اصول یہ ہے کہ اس کے نتیجہ (result) کو سامنے رکھا جائے ۔ اگر دخل دینے سے نتیجہ برعکس نکلتا ہو تو صرف دعا کی جائے گی۔ دعا کے سوا کوئی اور عملی اقدام نہیں کیا جائے گا۔ اس معاملے کو آپ مشہور حدیث’’من رأى منكم منكراً الخ‘‘ (صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب كون النهي عن المنكر من الإيمان) کے مطالعے سے بخوبی طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

ماہ نامہ جام نور (نئی دہلی) کے سوال نامے کا جواب کیا پارلیمنٹ کو تسلیم کرنا خدا کی حاکمیت کا انکار ہے موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ سیاسی تعبیر بلاشبہ ایک سیاسی بدعت تھی۔ اس کے نتیجے میں بہت سے خود ساختہ مسائل پیدا ہوئے۔ مثلاً ان لوگوں نے اپنی خود ساختہ تعبیر کی بنا پر یہ اعلان کیا کہ — پارلیمنٹ کو تسلیم کرنا خدا کی حاکمیت کا انکار ہے۔ یہ بات بلاشبہ لغو یت کی حد تک غلط ہے۔ اس نظریے کا ماخذ خود سیاسی تعبیر کرنے والوں کا اپنا ذہن ہے، نہ کہ اسلام کی اپنی تعلیمات ۔ اسلام کی وہی تعبیر درست تعبیر ہے جو قر آن اور سنت سے نہ ٹکراتی ہو ، اور مذکورہ قسم کا تصور بلاشبہ قر آن اور سنت سے ٹکراتا ہے۔ یہاں میں اس سلسلے میں تین مثالیں دوں گا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قدیم مصر میں ایک مشرک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔

ایک شاہی خاندان (dynasty) تھا، جس کو ہکساس کنگڈم (Hyksos Kingdom) کہا جاتا تھا۔ پیغمبر یوسف نے اس کے اقتدار (sovereignty) کو تسلیم کیا اور اس کے تحت ایک سرکاری عہدہ قبول یہ مثال اہلِ اسلام کے لیے ایک رہنما مثال ہے، کیوں کہ اسلام میں تمام پیغمبروں کو رہنما کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے (الأنعام: 90)۔

دوسری مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو وہاں دار الندوہ کو قبائلی حاکمیت کی حیثیت حاصل تھی۔ آپ نے دار الندوہ کی اس حیثیت کو عملاً تسلیم کیا۔ اسی بنا پر آپ کو مکہ میں رہنے کا موقع ملا۔ اگر آپ دار الندوہ کی حاکمانہ حیثیت کا انکار کرتے تو آغاز نبوت ہی میں مکہ سے آپ کا اخراج کر دیا جاتا۔

اسی طرح مکی دور میں صحابہ کی ایک جماعت نے پڑوسی ملک حبش (Abyssinia) کی طرف وہاں اُس وقت ایک مسیحی بادشاہ نجاشی (Negus) حکومت کرتا تھا۔ صحابہ کی اس جماعت نے نجاشی کے اقتدار کو تسلیم کیا۔ اس بنا پر صحابہ کی جماعت کو حبش میں قیام کرنے کا موقع ملا۔ صحابہ کی اس جماعت نے حبش کا یہ سفر رسول اللہ صلی اللہ کے حکم سے کیا تھا۔ یہ زمانہ کلی ریاست (totalitarian state) کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں اس کے سوا کوئی دوسری صورت ممکن نہ تھی۔ جمہوری حکومتوں میں الیکشن کا بائیکاٹ اسلام کی سیاسی تعبیر کرنے والے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ــ جمہوری حکومتوں میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا جائے ۔ یہ بات بھی سرتا سر بے بنیاد ہے۔ ان حضرات کی غلطی یہ ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ جمہوریت کیا ہے، اس کے باوجود وہ اس قسم کا خود ساختہ مسئلہ بیان کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت، اسلام کے عین موافق ہے۔ اس کا بائیکاٹ کرنا دیوانگی کے سوا اور کچھ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو آپ نے ایک منشور (declaration) اس منشور میں رسول اللہ ﷺ نے جو دفعات شامل کی تھیں، اُن میں سے ایک دفعہ تھی: لليهود دينهم وللمسلمين دينهم۔ یہ عین وہی چیز تھی جس کو موجودہ زمانے میں جمہوری اصول کہا جاتا ہے۔

جمہوریت ، لادینیت کا نام نہیں ہے ، بلکہ جمہوریت شرکت اقتدار (power-sharing) کا جمہوریت کا کوئی تعلق کسی مذہبی عقیدے سے نہیں ہے۔ جمہوریت کی تعریف اکثریتی حکومت (majority rule) کے الفاظ میں کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشترک قومی دائرے میں آبادی کی اکثریت کے اعتبار سے فیصلے کیے جائیں ، اس طرح کہ اقلیت کے انسانی حقوق بھی پوری طرح محفوظ رہیں۔

اسلام کی سیاسی تعبیر کرنے والے لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جمہوری حکومت چوں کہ لادینی حکومت ہوتی ہے ، اس لیے اہل اسلام کو اس کے الیکشن کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ اس قسم کی بات نہ صرف دیوانگی ہے ، بلکہ وہ مسلمانوں کو سیاسی اچھوت بنانے کے ہم معنی ہے۔ اس قسم کی بات ہرگز اسلامی تعلیم کے مطابق نہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جہاں تک عقیدے کا معاملہ ہے ، آپ کسی سے کوئی سمجھوتہ نہ لیکن جہاں تک سیاسی ڈھانچے کی بات ہے ، اس میں مسلمانوں کو آخری حد تک سمجھوتہ کرنا کیوں کہ ایسے حالات میں سمجھوتہ نہ کرنا ، سیاسی خودکشی کے ہم معنی ہے۔ اور خودکشی کسی بھی اعتبار سے اسلام میں جائز نہیں۔

Printed page