Al-Risala · March 2011

مذہبی مضاہاۃ، سیاسی مضاہاۃ

Al-Risala, March 2011, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

یہود و نصاریٰ اپنے دور زوال میں جن برائیوں میں مبتلا ہوئے، اُن میں سے ایک برائی وہ ہے جس کو قرآن میں مُضاہاۃ (9: 30) کہا گیا ہے۔ مضاہاۃ کے لفظی معنیٰ مشابہت (imitation) کے ہیں، یعنی غیر دینی طریقے کو دینی نام دے کر اختیار کر لینا ۔ مثلاً غیر دینی لوگوں کے یہاں خدا کی پرستش کے بجائے بت کی پرستش کا رواج ہے، اس سے متاثر ہو کر اس روش کو اختیار کر لینا، مگر اس کو بزرگوں کی پیروی کا نام دے دینا، وغیرہ۔

مضاہاۃ کی ایک صورت وہ ہے جس کو مذہبی مضاہاۃ (religious imitation) کہا جا سکتا بدعت کے تمام طریقے اسی مذہبی مضاہاۃ کی فہرست میں شامل ہیں۔ بدعت، مجرد بدعت کا نام نہیں بدعت دراصل یہ ہے کہ غیر دینی طریقے کو دینی نام دے کر اُس کو اختیار کر لیا جائے ۔ موجودہ زمانے میں مضاہاۃ کی ایک اور قسم بہت بڑے پیمانے پر ظاہر ہوئی ہے۔ سیاسی مضاہاۃ (political imitation) کہا جا سکتا ہے، یعنی سیکولر پارٹیوں اور سیکولر تحریکوں کے طریقے کو اسلامی نام دے کر اس کو اسلامی عمل کے طور پر اختیار کر لینا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے احتجاج (protest) کے طریقے کو بہت بڑے پیمانے پر اختیار کر لیا ہے۔ یہ بلاشبہ سیاسی بدعت یا سیاسی مضاہاۃ ہے۔ مثلاً اسلامی مسائل کے نام پر احتجاجی بیانات، احتجاجی مظاہرے، احتجاجی کا نفرنسیں، احتجاجی ریلی، احتجاجی دھرنا، احتجاجی نعرے، وغیرہ۔

احتجاج (protest) بلاشبہ سیکولرزم کا طریقہ ہے، وہ اسلام کا طریقہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مقدس کعبہ کو عملاً بت خانہ بنا دیا گیا تھا، مگر آپ نے اُس پر احتجاج نہیں کیا۔ طرح تیرہ سالہ مکی دور میں رسول اور اصحاب رسول پر ہر قسم کے مظالم کئے گئے، لیکن آپ نے اس پر کوئی احتجاج نہیں کیا۔ دار الندوہ میں آپ کے خلاف بائیکاٹ کی تجویز پاس کی گئی، مگر آپ نے اس کے خلاف احتجاج نہیں کیا۔ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کیا گیا، لیکن آپ نے اس پر

احتجاج نہیں کیا، وغیرہ حقیقت یہ ہے کہ احتجاج (protest) اپنے آپ میں سر تاسر ایک غیر اسلامی طریقہ احتجاج کو خوب صورت نام دے کر اس کو اسلامی نہیں بنایا جا سکتا۔ مثلاً پر امن احتجاج، دینی احتجاج، اپنے حق کے لیے احتجاج، حکمراں کے ظلم کے خلاف احتجاج، پیغمبر کی شان میں گستاخی کے خلاف احتجاج، عبادت خانے کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج، اسلام کی توہین کے خلاف احتجاج، وغیرہ۔ اس مضاہاۃ یا مشابہت غیر کی نفسیات کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: تشابہت قلوبہم (118: 2) یعنی سوچ کی سطح پر مشابہت۔ دورِ زوال میں حامل کتاب امتوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ اُن کے اندر دین خداوندی پر مبنی سوچ ختم ہو جاتی ہے۔ خدائی طرزِ فکران کے ذہن میں زندہ تصور کے طور پر باقی رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آس پاس کے غیر دینی افکار سے متاثر خدائی ماڈل عملاً اُن کے لیے ایک غیر معلوم چیز بن جاتا ہے۔ وہ غیر خدائی ماڈل کو دینی ٹائٹل دے کر اختیار کر لیتے ہیں۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں مضاہاۃ کی دونوں قسمیں مکمل طور پر آچکی ہیں، مذہبی مضاہاۃ بھی اور سیاسی مضاہاۃ بھی۔ مسلمانوں کے اندر طرح طرح کی جومبتدعانہ رسمیں ہیں، وہ سب اس مذہبی مضاہاۃ کا نتیجہ ہیں۔ مثلاً جنم اشٹمی کی جگہ میلاد النبی، ہنومان چالیسہ کی جگہ قرآن خوانی، وغیرہ۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ساری دنیا میں ملی سیاست کے نام سے جوسرگرمیاں جاری کئے ہوئے ہیں، وہ سب کی سب بلا استثنا سیاسی مضاہاۃ کا نتیجہ ہیں۔ ملی سیاست یا اسلامی سیاست کے نام پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے بہت بڑے پیمانے پر غیر اسلام کو اسلامائز کر رکھا ہے۔ یہ نام نہاد اسلامی سیاست اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہودی سیاست ہے۔ اس کا کوئی فائدہ مسلمانوں کو نہ دنیا میں ملنے والا ہے اور نہ آخرت میں۔ مسلمانوں کے کرنے کا کام دعوت ہے، نہ کہ سیاست۔ مسلمان جب تک مضاہاۃکے یہودی طریقے کو چھوڑ کر دعوت کا طریقہ اختیار نہ کریں، اُس وقت تک وہ خدا کی رحمت سے محروم رہیں گے، دعوت الی اللہ کے بغیر ان کو ہرگز خدا کی نصرت ملنے والی نہیں۔

Printed page