Dedicated effort towards a constructive goal.
Al-Risala, March 2011, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اس سلسلے میں یہ آیت آئی ہے: وجاهدوا في الله حق جهاده، هو اجتپاکم (78: 22)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جہاد کا تعلق اُس مخصوص مشن کے لیے ہے جس کے لیے اہل ایمان کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ مشن شہادت علی الناس (78: 22) کا مشن اس آیت میں شہادت سے مراد دعوت ہے، یعنی خدا کے پیدا کئے ہوئے انسانوں تک خدا کا پیغام یہی دعوت ہے اور یہی دعوتی مشن وہ نشانہ ہے جس کے لیے اہل ایمان کو بھر پور کوشش کرنا اپنی زندگی، اپنا وقت، اپنا پیسہ، اپنے وسائل ہر چیز کو اس مشن میں لگا دینا چاہیے۔ ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: الجهاد ماض منذ بعثني الله إلى أن يقاتل آخر أمتی الدجال، لا يبطله جور جائر ولا عدل عادل (سنن أبى داؤد، رقم الحديث : 2532)
اس روایت کے مطابق، جہاد سے مراد ایک ایسا عمل ہے جو عادل حکمراں کے زمانے میں بھی ایسا عمل صرف پر امن دعوتی مشن ہو سکتا ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق، دجال سے جو مقابلہ ہوگا، وہ بھی اسلحہ کے ذریعہ نہیں، بلکہ حجت (argument) کے ذریعہ ہوگا (إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونکم)۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاد پر امن دعوتی مشن کا نام ہے۔ چیز اس کا صرف اضافی جز (relative part) ہے، نہ کہ حقیقی جز۔