مطالبا تی سیاست کا نقصان
Al-Risala, March 2011, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
پچھلے سو سال کے درمیان مسلمانوں نے مختلف ملکوں میں بہت سی سیاسی تحریکیں چلائیں ۔ تمام تحریکوں کو اگر ایک نام دینا ہو تو وہ یہ ہوگا_ مطالبا تی سیاست، یعنی اپنے حقوق (rights) کو حاصل کرنے کے لیے مطالبہ (demand) اور احتجاج (protest) کی بنیاد پر عوامی تحریکیں چلانا، خواہ پر امن انداز میں یا تشدد کے انداز میں۔ ان مطالبا تی تحریکوں سے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو کوئی مثبت فائدہ نہیں ہوا، البتہ اس کے نتیجے میں اُن کو ایسے نقصانات ہوئے جن کی تلافی بظاہر ممکن نہیں۔ مطالبا تی سیاست،فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق ، اس دنیا میں کسی فرد یا قوم کو جو کچھ ملتا ہے، وہ صرف استحقاق (deservation) کی بنیاد پر ملتا ہے۔ شکایت اور احتجاج جیسی تحریکوں کے ذریعے اس دنیا میں کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔ اس قسم کی کوئی تحریک صرف اپنے نقصان میں اضافہ کے ہم معنی ہے، نہ کہ نقصان کو دور کرنے کے ہم معنی۔ دوسرا اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ مطالبا تی سیاست نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو ایک عظیم نعمت سے محروم کر دیا۔ یہ نعمت دعا ہے، یعنی حقیقی جذبہ طلب کے تحت پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ سے مانگنا۔ مطالبا تی سیاست اس قسم کی دعا کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اس لیے جب آپ انسان کو نشانہ بنا کر اس کے مقابلے میں مطالبا تی تحریک چلائیں تو فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ آپ کے اندر خدا سے مانگنے کی اسپرٹ پیدا ایسے انسان کے پاس خدا سے مانگنے کے لیے صرف رٹے ہوئے الفاظ باقی رہتے ہیں، اور رٹے ہوئے الفاظ کا نام دعا نہیں۔ دعا کی اسپرٹ (spirit) یہ ہے کہ_ آدمی، خدا کو دینے والے (giver) کی حیثیت سے دریافت کرے اور پھر دل کی گہرائیوں کے ساتھ وہ خدا کے سامنے طالب موجودہ زمانے کے مسلمان اس قسم کی حقیقی دعا سے محروم ہیں، اور اس کا سب سے بڑا سبب یہی مطالبا تی سیاست ہے۔