اتباعِ یہود کا کیس
Al-Risala, March 2011, pp. 22–25
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938) برصغیر ہند کے عظیم مسلم مفکر مانے جاتے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلماںوں کے بارے میں کئی باتیں لکھی ہیں۔ اُن کا ایک مصرعہ یہ ہے: یہ مسلمان ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود!
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہود کی جو صفات آئی ہیں، اُن میں سے ایک ہے۔ مظلوم بتا کر دوسروں کے ظلم پر احتجاج کرنا۔ یہ بلاشبہ یہود کی صفت ہے۔ اس مزاج سے اسلام کا کوئی تعلق مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے تقریبا تمام مسلمان اسی یہودی مزاج کا شکار ہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہود کے اندر جب دینی بگاڑ آیا تو انھوں نے دعوتی ذمے داری کو چھوڑ دیا (187:3)، وہ دوسروں کی طرح صرف ایک قوم بن کر رہ گئے۔ اس غفلت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے یہود پر اپنی تنبیہات (warnings) بھیجیں۔ یہ تنبیہات آسمان سے نہیں آئی تھیں، بلکہ وہ اسباب کی صورت میں انسانوں کے ذریعے اُن پر بھیجی گئی تھیں (17:5)۔ مثلاً بابل (عراق) کے حکمراں بخت نصر (Nebuchadnezzar) کے ذریعے 586 قبل مسیح میں، اور رومی حکمر اں ٹائٹس (Titus) کے ذریعے 70 عیسوی میں۔
مگر یہودی علماء اور قائدین (religious leaders) نے یہ کیا کہ ایسے تمام واقعات کو انھوں نے خدائی تنبیہہ کے بجائے انسانی ظلم کے خانے میں ڈال دیا۔ یہودی لٹریچر اس قسم کی داستانوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس پر یہودی علماء نے کثرت سے کتابیں لکھی ہیں۔
Hasidic Tales of the Holocausts, by Eliach Y, New York, 1982 یہودی علماء کی اس روش کی بنا پر ایسا ہوا کہ جن واقعات کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ اُن سے متنبہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کریں، اس کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ ان واقعات کو کچھ انسانوں کی طرف منسوب کر کے انھوں نے اُن لوگوں کے خلاف شکایت (complaint) اور احتجاج (protest) کا
ایک پورا کلچر چلا دیا۔ یہ شکایتی کلچر اتنا بڑھا کہ لغت (dictionary) میں باقاعدہ ایسے الفاظ شامل ہو گئے جو یہود اوپر دوسروں کے ظلم کو بتانے کے لیے وضع ہوئے تھے۔ گویا کہ ظلم یہود کی ایک مستقل ڈکشنری تیار ہوگئی، ظلم یہود کا اتنا زیادہ چرچا ہوا کہ وہ لٹریچر کا ایک جز بن گیا۔ یہودی لٹریچر کا مطالعہ کر کے اُن الفاظ واصطلاحات کو معلوم کیا جاسکتا ہے جو کثرتِ استعمال سے لٹریچر کا جز بن گئے، حتی کہ وہ ڈکشنری میں شامل ہوگئے ۔ ان میں سے کچھ الفاظ یہ ہیں: Pogrom: Organized killing of Jews Holocaust: Killing of millions of Jews by the Nazis, Diaspora: Dispersion of the Jews after the Babylonian exile, Ghetto: Jewish Slum outside the city as a sign of discrimination. حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمان یہود کے طریقے کی پیروی کریں گے۔ (لتتبعن شبراً بشبر وذراعاً بذراع) ۔ یہ اتباع یہود صرف سحر و عملیات جیسی چیزوں میں نہیں ہوگا، بلکہ وہ مذکورہ قسم کی سنت یہود کے بارے میں بھی ہوگا۔ یہود میں یہ خرابیاں زوال (degeneration) کے نتیجے میں آئی تھیں۔ یہی خرابیاں دوبارہ زوال کے نتیجے میں خود مسلمانوں کے اندر بھی یقینی طور پر پیدا ہوں گی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ خرابی عمومی طور پر پیدا ہوچکی موجودہ زمانے کے مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں آخری حد تک اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے صرف ایک کام کر رہے ہیں، اور وہ ہے اپنے مسائل کا الزام دوسروں پر عائد کر کے ان کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کرنا۔ ہر ایک کو مسلم مسائل کے پیچھے’’اغیار‘‘ کی سازش اور دشمنی دکھائی دیتی ہے۔ یہ بلاشبہ یہودی روش ہے۔ صحیح یہ ہے کہ مسلمان اس روش سے توبہ کریں، وہ خود اپنے اوپر نظر ثانی وہ اس صورتِ حال کو خدا کا انتباہ (warning) قرار دے کر خود اپنی کمیوں اور کمزوریوں کو دریافت کریں اور ساری توجہ خود اپنی اصلاح پر لگادیں، نہ کہ مفروضہ ظالموں کے خلاف ہنگامہ آرائی کرکے کے
وہ خدا کے غضب میں مزید اضافہ کریں۔ اس کے بغیر ان کے حالات ہرگز بدلنے والے نہیں۔ خدائی انتباہ کے معاملے کو مفروضہ دشمنوں کی طرف منسوب کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ واقعہ کو غلط طور پر کسی اور سے منسوب کرنا ہے۔ اس قسم کا مزاج کسی فرد یا قوم کو بہت بڑا فکری نقصان پہنچاتا ہے، اور وہ ہے معاملات کے صحیح تجزیہ (analysis) سے محرومی۔ کامیاب منصوبہ بندی ہمیشہ صحیح تجزیہ پر مبنی ہوتی ہے۔ جب صحیح تجزیہ نہ ہو تو کامیاب منصوبہ بندی بھی عملاً ناممکن ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر 1948 میں بال فور کمیشن (Balfour Commission) کے تحت، فلسطین کی تقسیم عمل میں آئی۔ فلسطین کا تقریباً نصف حصہ یہود کو ملا، اور تقریباً نصف حصہ عرب مسلمانوں کو بظاہر یہ واقعہ انسان کے ذریعہ پیش آیا، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ اُسی قسم کا ایک خدائی معاملہ تھا جو اس سے پہلے اسی ارضِ فلسطین میں یہود کے ساتھ پیش آیا تھا۔ دونوں کے درمیان ظاہری صورت کے اعتبار سے فرق ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے، اُن کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ ماضی میں یہود کے ساتھ جب ایسا واقعہ پیش آیا تو انھوں نے اس کو خدائی واقعہ کے بجائے انسانی واقعہ سمجھا۔ انھوں نے یہ کیا کہ متعلق انسانوں کو اپنا دشمن قرار دے دیا، وہ اُن کے خلاف منفی سوچ اور منفی سرگرمیوں میں مبتلا ہو گئے۔ جو واقعہ اُن سے خدا کی طرف رجوع کا تقاضا کر رہا تھا، وہ اُن کے غیر حقیقی رسپانس کے نتیجے میں اُن کے لیے خدا سے مزید دوری کا سبب بن گیا۔
ٹھیک یہی معاملہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا۔ 1948 کے بعد مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں نے وہی غیر حقیقی رسپانس دیا جو اس سے پہلے یہود نے دیا تھا۔ ذاتی محاسبہ کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ انھوں نے یہود اور یہود کے مفروضہ حلیفوں کے خلاف ہنگامہ آرائی شروع اس کا نتیجہ فطری طور پر برعکس صورت میں نکلا۔ 1948 میں جو کچھ اُنھیں ملا تھا، 60 برس سے زیادہ مدت کی غیر معمولی قربانیوں کے باوجود انھوں نے اس کو بھی کھو دیا۔ آج تحریکِ فلسطین اپنے آپ کو ایک ایسے مقام پر پارہی ہے جہاں اس کے پاس مایوسی اور محرومی کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہے۔ 57 ملکوں میں مسلمانوں کا
سیاسی اقتدار قائم ہے۔ اس کے علاوہ، دنیا کے تقریباً ہر ملک میں مسلمان موجود ہیں۔ ہر جگہ وہ ایک ہی قسم کی بولی بول رہے ہیں، اور وہ یہ کہ ہم دشمنوں کے محاصرہ (seige) میں ہیں، ہمارے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں، عالمی میڈیا ہماری تصویر بگاڑنے میں مصروف ہے، ہمارے ساتھ ہر جگہ امتیاز کا سلوک کیا جاتا ہے، ہم کو دوسرے درجے کا شہری (second class citizen) بنا دیا گیا ہے، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام باتیں بلاشبہ سنتِ یہود کی پیروی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے خدا کے دین کو دین مہجور (30:25) بنا دیا ہے، انھوں نے دعوت الی اللہ کی ذمے داری کو ترک کر دیا ہے، انھوں نے اسلام کی اسپرٹ کو بھلا دیا ہے، وہ اسلام کو صرف بطور فارم لیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنی قومی سرگرمیوں کو اسلام کا نام دے رکھا ہے، وہ انسانوں سے نفرت کرتے ہیں، جب کہ اُنھیں انسانوں کا خیر خواہ بننا چاہیے تھا، آج کے مسلمانوں کا کنسرن (concern) خدا نہیں ہے، بلکہ وہی مادی مفادات ہیں جو دوسری قوموں کا کنسرن بنے ہوئے مسلمانوں کی سوچ تمام تر دنیأ رخی سوچ بنی ہوئی ہے، جب کہ اس کو خدا رخی سوچ بننا چاہیے، اسلام اب اُن کے لیے فخر (pride) کا موضوع ہے، نہ کہ اتباع کا موضوع، مسلم معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر عملاً ختم ہو گیا ہے، مسلمانوں کے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے عملاً اپنی قوم کے ترجمان ہیں، نہ کہ خدا کے دین کے ترجمان، وغیرہ۔
یہ تمام چیزیں مسلمانوں کے زوال کی کھلی علامت ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سب اُن کے اسی زوال کی بنا پر خدا کی تنبیہات ہیں، نہ کہ انسانوں کا ظلم۔ ان واقعات کو انسانوں کی طرف منسوب کر کے ان کے خلاف چیخ و پکار میں مشغول ہیں۔ مسلمانوں پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اس منفی روش کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔ وہ دوسروں سے نفرت کو چھوڑ دیں اور خود اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کریں، یہی مسلمانوں کے تمام مسائل کا واحد حل ہے۔ اس کے سوا دوسری ہر چیز صرف اُن کی تباہی میں اضافہ کرے گی، وہ ان کی فلاح کا سبب بننے والی نہیں۔